ٹیگ کے محفوظات: انگ

لب کشا عنچے ہیں اَب کچھ اور ہی آہنگ میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 96
برتری پائی ہے شاخوں نے خزاں سے جنگ میں
لب کشا عنچے ہیں اَب کچھ اور ہی آہنگ میں
وُہ کہ جس کی دِید کا ہے ذائقہ کچھ اور ہی
شہد کا چھتّا نظر آئی لباسِ تنگ میں
ذکر سے اُس کے بہت شیریں سہی نغمہ مگر
اُس سی لَے کی تازگی کب تھی رباب و چنگ میں
زیور و زر ہی دُلہن کو ساتھ لے کر آ گئے
آپ تو دُولہے میاں تولے گئے پاسنگ میں
لمس سے ممکن کہاں پہچان سبز و سرُخ کی
اِس غرض کو ڈال کر پانی بھی دیکھو رنگ میں
چھُو لیا ہے فکر نے کس دردِ زہر آلُود کو
بِس چڑھی لگتی ہے ماجدؔ تیرے اِک اِک انگ میں
ماجد صدیقی

ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 55
سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں
فضا میں تیر رہی ہوں ، صدا کے رنگ میں ہوں
لہو سے پوچھ رہی ہوں ، یہ کس ترنگ میں ہوں
دھنک اُترتی نہیں میرے خون میں جب تک
میں اپنے جسم کی نیلی رگوں سے جنگ میں ہوں
بہار نے مِری آنکھوں پہ پُھول باندھ دیئے!
رہائی پاؤں تو کیسے ، حصارِ رنگ میں ہوں
کُھلی فضا ہے ، کُھلاآسماں بھی سامنے ہے
مگر یہ ڈر نہیں جاتا ، ابھی سرنگ میں ہوں
ہوا گزیدہ بنفشے کے پھول کی مانند
پناہِ رنگ سے بچ کر ، پناہِ سنگ میں ہوں
صدف میں اُتروں تو پھرمیں گُہر بھی بن جاؤں
صدف سے پہلے ابھی حلقہ ءِ نہنگ میں ہوں
پروین شاکر