ٹیگ کے محفوظات: انگڑائی

اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 77
کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پروین شاکر

کیا کروں حشر میں ڈر ہے تری رسوائی کا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 15
میں تماشا تو دکھا دوں ستم آرائی کا
کیا کروں حشر میں ڈر ہے تری رسوائی کا
یہ نتیجہ ہو آخر جَبَل آرائی کا
بن گیا ایک تماشا سا تماشائی کا
آپ نے محفلِ اغیار کی رونق تو کہی
مجھ سے کچھ حال نہ پوچھا شبِ تنہائی کا
چارہ گر کا ہے کو لوں چارہ گری کا احساس
تو کوئی ٹالنے والا ہے مری آئی کا
طور پر طالبِ دیدار ہزاروں آتے
تم تماشہ جو نہ بناتے نہ تماشائی کا
ہاتھ اٹھائے تھے کہ ہاروں کی لڑیں ٹوٹ پڑیں
صدقہ پھول نے اتارا تری انگڑائی کا
شمع گل ہو گئی تارے بھی قمر ڈوب گئے
کوئی مونس نہ رہا اب شبِ تنہائی کا
قمر جلالوی