ٹیگ کے محفوظات: انشا

وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 194
سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے
وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے
اس بار وہ تلخی ہے کہ روٹھے بھی نہیں ہم
اب کہ وہ کر لیتی ہے کہ جھگڑا نہ کریں گے
یاں اس کے سلیقے کے ہیں آثار تو کیا ہم
اس پر بھی یہ کمرا تہ و بالا نہ کریں گے
اب نغمہ طرازانِ برا فروختہ اے شہر!
واسوخت کہیں گے غزل انشا نہ کریں گے
ایسا ہے کہ سینے میں سلگتی ہیں خراشیں
اب سانس بھی ہم لیں گے تو اچھا نہ کریں گے
جون ایلیا

کبھو قدرداں عشق پیدا کرے ہے

دیوان دوم غزل 1049
کہاں یاد قیس اب جو دنیا کرے ہے
کبھو قدرداں عشق پیدا کرے ہے
یہ طفلان بازار جی کے ہیں گاہک
وہی جانتا ہے جو سودا کرے ہے
چھپائیں ہوں آنکھیں ہی ان نے تو کہیے
وہ ہر بات کا ہم سے پردہ کرے ہے
جو رونا ہے راتوں کو اپنا یہی تو
کنارہ کوئی دن میں دریا کرے ہے
ٹھسک اس کے چلنے کی دیکھو تو جانو
قیامت ہی ہر گام برپا کرے ہے
مریں شوق پروازگلشن میں کیوں نہ
اسیروں کی یاں کون پروا کرے ہے
بنی صورتیں کیسی کیسی بگاڑیں
سمجھتے نہیں ہم فلک کیا کرے ہے
خط افشاں کیا خون دل سے تو بولا
بہت اب تو رنگین انشا کرے ہے
ہلاک آپ کو میر مت کر دوانے
کوئی ذی شعور آہ ایسا کرے ہے
میر تقی میر

دل تو کچھ دھنسکا ہی جاتا ہے کروں سو کیا کروں

دیوان دوم غزل 877
کس کنے جائوں الٰہی کیا دوا پیدا کروں
دل تو کچھ دھنسکا ہی جاتا ہے کروں سو کیا کروں
لوہو روتا ہوں میں ہر اک حرف خط پر ہمدماں
اور اب رنگین جیسا تم کہو انشا کروں
چال اپنی چھوڑتا ہرگز نہیں وہ خوش خرام
شور سے کب تک قیامت ایک میں برپا کروں
مصلحت ہے میری خاموشی ہی میں اے ہم نفس
لوہو ٹپکے بات سے جو ہونٹ اپنے وا کروں
دل پریشانی مجھے دے ہے بکھیرے گل کے رنگ
آپ کو جوں غنچہ کیونکر آہ میں یکجا کروں
ایک چشمک ہی چلی جاتی ہے گل کی میری اور
یعنی بازار جنوں میں جائوں کچھ سودا کروں
خوار تو آخر کیا ہے گلیوں میں تونے مجھے
تو سہی اے عشق جو تجھ کو بھی میں رسوا کروں
خاک اڑاتا اشک افشاں آن نکلوں میں تو پھر
دشت کو دریا کروں بستی کے تیں صحرا کروں
کعبے جانے سے نہیں کچھ شیخ مجھ کو اتنا شوق
چال وہ بتلا کہ میں دل میں کسو کے جا کروں
اب کے ہمت صرف کر جو اس سے جی اچٹے مرا
پھر دعا اے میر مت کریو اگر ایسا کروں
میر تقی میر