ٹیگ کے محفوظات: انسان

دیکھو جو ہوئے لوگوں کے نقصان مری جان

اک دل کے زیاں پر ہو پریشان مری جان
دیکھو جو ہوئے لوگوں کے نقصان مری جان
جانا کہ یہی ہوں گے مری جان کے درپے
کہتے نہیں تھکتے جو مری جان مری جان
جنت پہ اگر حق ہے تو بس تیرا ہے واعظ
اپنا تو کوئی دین نہ ایمان مری جان
اک عمر گزاری اسے آنکھوں سے لگاتے
اب کھول کے بھی دیکھ لو قرآن مری جان
اوروں کی شکایت جو کیا کرتے ہو باصِرؔ
کچھ آپ ہی بن جاؤ جو انسان مری جان
باصر کاظمی

نام ہمارے،کیا کیا کُچھ تاوان ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
فصلیں اُجڑیں اور قُرقی کھلیان ہوئے
نام ہمارے،کیا کیا کُچھ تاوان ہوئے
اُگتی فصلوں کو چاٹا، آسیبوں نے
موسم بھر بھی، چاہ اگر، ویران ہوئے
رہبروں کی قامت، بالا کرنے کو
ہم کیا کیا، تعمیر کا ہیں سامان ہوئے
اپنے ناپ سے ناپیں، اُس کی رحمت کو
اِس جگ میں ایسے بھی کُچھ انسان ہوئے
ماجدؔ کاش، کبھی چھم سے، وُہ آ جائے
عمر ہوئی ہے ہم پر، یہ احسان ہوئے
ماجد صدیقی

کم نہیں کسبِ خسارہ میں مگر انسان بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
عرش تک سے اِس پہ ارزانی ہیں گو احسان بھی
کم نہیں کسبِ خسارہ میں مگر انسان بھی
ہے ہمیں کیوں اُس بدن پر حکمرانی کا یقیں
جس کے ملنے کا نہیں باقی کوئی امکان بھی
سرو کا تو کیا جو لرزاں بھی ہو شورِ سیل سے
خاک پر دِبکے ملے ہیں سنبل و ریحان بھی
آبجو میں اور ہے پودا سرِ ساحل کچھ اور
سانس لینا دہر میں مشکل بھی ہے آسان بھی
باپ روزی کے لئے نکلا وطن سے دُور تو
مڑ کے بچّوں کی نہ اُس سے ہو سکی پہچان بھی
سحرِ سے فرصت مِلے دل کے تو ماجدؔ دیکھنا
کچھ تقاضے تجھ سے رکھتی ہے بدن میں جان بھی
ماجد صدیقی

احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 44
گر ہو سلوک کرنا انسان کر کے بھولے
احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے
نشتر سے کم نہیں ہے کچھ چھیڑ آرزو کی
عاشق مزاج کیوں کر ارمان کر کے بھولے
وعدہ کیا پھر اُس پر تم نے قسم بھی کھائی
کیا بھول ہے انساں پیمان کر کے بھولے
وعدے کی شب رہا ہے کیا انتظار مجھ کو
آنے کا وہ یہاں تک سامان کر کے بھولے
اپنے کئے پہ نازاں ہو آدمی نہ ہر گز
طاعت ہو یا اطاعت انسان کر کے بھولے
خود ہی مجھے بلایا پھر بات بھی نہ پوچھی
وہ انجمن میں اپنی مہمان کر کے بھولے
یہ بھول بھی ہماری ہے یادگار دیکھو
دل دے کے مفت اپنا نقصان کر کے بھولے
تم سے وفا جو کی ہے ہم سے خطا ہوئی ہے
ایسا قصور کیوں کر انسان کر کے بھولے
آخر تو آدمی تھے نسیان کیوں نہ ہوتا
میری شناخت شب کو دربان کر کے بھولے
اب یاد ہے اُسی کی فریاد ہے اُسی کی
سارے جہاں کو جس کا ہم دھیان کر کے بھولے
اب عشق کا صحیفہ یوں دل سے مٹ گیا ہے
جس طرح یاد کوئی قرآن کر کے بھولے
اے داغ اپنا احساں رکھے گا یاد قاتل
وہ اور میری مشکل آسان کر کے بھولے
داغ دہلوی

مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 34
حضرت دل آپ ہیں جس دھیان میں
مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں
گر فرشتہ وش ہوا کوئی تو کیا
آدمیت چاہئے انسان میں
جس نے دل کھویا اسی کو کچھ ملا
فائدہ دیکھا اسی نقصان میں
کسی نے ملنے کا کیا وعدہ کہ داغ
آج ہو تم اور ہی سامان میں
داغ دہلوی

تُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 54
راس آ نہیں سکا کوئی بھی پیمان الوداع
تُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع
میں تیرے ساتھ بُجھ نہ سکا حد گزر گئی
اے شمع! میں ہوں تجھ سے پشیمان الوداع
میں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میں
دامان الوداع! گریبان الوداع
اِک رودِ ناشناس میں ہے ڈوبنا مجھے
سو اے کنارِ رود ، بیابان الوداع
خود اپنی اک متاعِ زبوں رہ گیا ہوں میں
سو الوداع، اے مرے سامان الوداع
سہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کی
اب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداع
اے شام گاہِ صحنِ ملالِ ہمیشگی
کیا جانے کیا تھی تری ہر اک آن ، الوداع
کِس کِس کو ہے علاقہ یہاں اپنے غیر سے
انسان ہوں میں ، تُو بھی ہے انسان الوداع
نسبت کسی بھی شہہ سے کسی شے کو یاں نہیں
ہے دل کا ذرہ ذرہ پریشان الوداع
رشتہ مرا کوئی بھی الف ، بے سے اب نہیں
امروہا الوداع سو اے بان الوداع
اب میں نہیں رہا ہوں کسی بھی گمان کا
اے میرے کفر ، اے مرے ایمان الوداع
جون ایلیا

انسان

الٰہی تیری دنیا جس میں ہم انسان رہتے ہیں

غریبوں، جاہلوں، مُردوں کی، بیماروں کی دنیا ہے

یہ دنیا بے کسوں کی اور لاچاروں کی دنیا ہے

ہم اپنی بے بسی پر رات دن حیران رہتے ہیں!

ہماری زندگی اک داستاں ہے ناتوانی کی

بنا لی اے خدا اپنے لیے تقدیر بھی تُو نے

اور انسانوں سے لے لی جرأت تدبیر بھی تُو نے

یہ داد اچھی ملی ہے ہم کو اپنی بے زبانی کی!

اسی غور و تجسس میں کئی راتیں گزری ہیں

میں اکثر چیخ اُٹھتا ہوں بنی آدم کی ذلّت پر

جنوں سا ہو گیا ہے مجھ کو احساسِ بضاعت پر

ہماری بھی نہیں افسوس، جو چیزیں ’’ہماری‘‘ ہیں!

کسی سے دور یہ اندوہِ پنہاں ہو نہیں سکتا!

خدا سے بھی علاجِ دردِ انساں ہو نہیں سکتا!

ن م راشد

کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1593
آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ
کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ
پایہ اس کی شہادت کا ہے عرش عظیم سے بالاتر
جو مظلوم عشق موا ہے بڑھ کر ٹک میدان کے بیچ
یوں ہی نظر چڑھ رہتی نہیں کچھ حسرت میں تو چشم سفید
دیکھی ہے ہیرے کی دمک میں اس چشم حیران کے بیچ
وہ پرکالہ آتش کا ہے صبح تلک بھڑکا بھی نہ تھا
کیا جانوں کیا پھونک دیا لوگوں نے اس کے کان کے بیچ
وعدے کرو ہو برسوں کے تم دم کا بھروسا ہم کو نہیں
کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے یاں اک پل میں اک آن کے بیچ
تبعیّت سے جو فارسی کی میں نے ہندی شعر کہے
سارے ترک بچے ظالم اب پڑھتے ہیں ایران کے بیچ
بندے خداے پاک کے ہم جو میر نہیں تو زیر فلک
پھر یہ تقدس آیا کہاں سے مشت خاک انسان کے بیچ
میر تقی میر

جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ

دیوان سوم غزل 1244
ہے تمناے وصال اس کی مری جان کے ساتھ
جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ
کیا فقط توڑ کے چھاتی ہی گیا تیر اس کا
لے گیا صاف مرے دل کو بھی پیکان کے ساتھ
دین و دل ہی کے رہا میرے وہ کافر درپے
خصمی قاطبہ اس کو ہے مسلمان کے ساتھ
بحر پر نہر پہ برسے ہے برابر ہی ابر
پیش ہر اک سے کریم آتے ہیں احسان کے ساتھ
سطرزلف آئی ہے اس روے مخطط پہ نظر
یہ عبارت نئی لاحق ہوئی قرآن کے ساتھ
تیر اس کا جو گذر دل سے چلا جی بھی چلا
رسم تعظیم سے ہو لیتے ہیں مہمان کے ساتھ
میں تو لڑکا نہیں جو بالے بتائو مجھ کو
یہ فریبندگی کریے کسو نادان کے ساتھ
خون مسلم کو تو واجب یہ بتاں جانے ہیں
ہوجے کافر کہ اماں یاں نہیں ایمان کے ساتھ
آدمیت سے تمھیں میر ہو کیونکر بہرہ
تم نے صحبت نہیں رکھی کسو انسان کے ساتھ
میر تقی میر

خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا

دیوان سوم غزل 1055
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا
اس سرے دل کی خرابی ہوئی اے عشق دریغ
تو نے کس خانۂ مطبوع کو ویران کیا
ضبط تھا جب تئیں چاہت نہ ہوئی تھی ظاہر
اشک نے بہ کے مرے چہرے پہ طوفان کیا
انتہا شوق کی دل کے جو صبا سے پوچھی
اک کف خاک کو لے ان نے پریشان کیا
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر تقی میر

صبح کی بائو نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ

دیوان دوم غزل 788
آگ سا تو جو ہوا اے گل تر آن کے بیچ
صبح کی بائو نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ
ہم نہ کہتے تھے کہیں زلف کہیں رخ نہ دکھا
اک خلاف آیا نہ ہندو و مسلمان کے بیچ
باوجود ملکیت نہ ملک میں پایا
وہ تقدس کہ جو ہے حضرت انسان کے بیچ
پاسباں سے ترے کیا دور جو ہو ساز رقیب
ہے نہ اک طرح کی نسبت سگ و دربان کے بیچ
جیسی عزت مری دیواں میں امیروں کے ہوئی
ویسی ہی ان کی بھی ہو گی مرے دیوان کے بیچ
ساتھ ہے اس سر عریاں کے یہ وحشت کرنا
پگڑی الجھی ہے مری اب تو بیابان کے بیچ
وے پھری پلکیں اگر کھب گئیں جی میں تو وہیں
رخنے پڑ جائیں گے واعظ ترے ایمان کے بیچ
کیا کہوں خوبی خط دیکھ ہوئی بند آواز
سرمہ گویا کہ دیا ان نے مجھے پان کے بیچ
گھر میں آئینے کے کب تک تمھیں نازاں دیکھوں
کبھو تو آئو مرے دیدئہ حیران کے بیچ
میرزائی کا کب اے میر چلا عشق میں کام
کچھ تعب کھینچنے کو تاب تو ہو جان کے بیچ
میر تقی میر

بڑی کلول ٹلی ہے جان پر سے

دیوان اول غزل 502
ہمیں غش آگیا تھا وہ بدن دیکھ
بڑی کلول ٹلی ہے جان پر سے
لیا دل اس مخطط رو نے میرا
اٹھالوں میں اسے قرآن پر سے
کہاں ہیں آدمی عالم میں پیدا
خدائی صدقے کی انسان پر سے
تفنگ اس کی چلی آواز پر لیک
گئی ہے میر گولی کان پر سے
میر تقی میر

ہو گر شریف مکہ مسلمان ہی نہیں

دیوان اول غزل 306
جو حیدری نہیں اسے ایمان ہی نہیں
ہو گر شریف مکہ مسلمان ہی نہیں
وہ ترک صید پیشہ مرا قصد کیا کرے
دبلے پنے سے تن میں مرے جان ہی نہیں
خال و خط ایسے فتنے نگاہیں یہ آفتیں
کچھ اک بلا وہ زلف پریشان ہی نہیں
ہیں جزو خاک ہم تو غبار ضعیف سے
سر کھینچنے کا ہم کنے سامان ہی نہیں
دیکھی ہو جس نے صورت دلکش وہ ایک آن
پھر صبر اس سے ہو سکے امکان ہی نہیں
خورشید و ماہ و گل سبھی اودھر رہے ہیں دیکھ
اس چہرے کا اک آئینہ حیران ہی نہیں
یکساں ہے تیرے آگے جو دل اور آرسی
کیا خوب و زشت کی تجھے پہچان ہی نہیں
سجدہ اس آستاں کا نہ جس کے ہوا نصیب
وہ اپنے اعتقاد میں انسان ہی نہیں
کیا تجھ کو بھی جنوں تھا کہ جامے میں تیرے میر
سب کچھ بجا ہے ایک گریبان ہی نہیں
میر تقی میر

اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں

دیوان اول غزل 302
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے
جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے
دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سے
یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش
اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
جاگہ سے بھی جاتے ہو منھ سے بھی خشن ہوکر
وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے
برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
ان آئینہ رویوں کے کیا میر بھی عاشق ہیں
جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
میر تقی میر

وحشت میں مبتلا ہوا انسان کس لئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 498
ہر لمحہ تازہ قتل کا امکان کس لئے
وحشت میں مبتلا ہوا انسان کس لئے
میں سوچتا ہوں دیکھ کے اڑتے ہوئے پرند
لایا ہوں ہفتہ بھر کا یہ سامان کس لئے
شاخیں لدی ہوئی ہیں گلابوں سے غیر کی
خالی ہے میری ذات کا گلدان کس لئے
جنت نما ہیں اہل ستم کی ریاستیں
اپنے دیارِ زندگی ویران، کس لئے
رائج جہاں میں کیوں ہوئی جنگل کی شہریت
کچھ بھیڑیاصفت ہوئے سلطان کس لئے
کیا جانوں کس نے پیٹھ لگائی تھی اس کے ساتھ
پھیلا ہوا پیڑ میں سرطان کس لئے
آخر کہاں گئی ہیں وہ کرنیں وہ گرم دھوپ
ویراں پڑا ہوا ہے یہ دالان کس لئے
آسیب پھر رہا ہے کوئی میرے ساتھ ساتھ
ہونے لگا ہے روزہی نقصان کس لئے
جاتے نہیں ہیں لوٹ کے اپنے ستاروں پر
منصور کائنات کے مہمان کس لئے
منصور آفاق