ٹیگ کے محفوظات: اندھیری

‎موت جہاں بھی ناچ رہی ہے، ناچنے دو

‎خون کی پیاسی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎موت جہاں بھی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎جہل کی اس کالی آندھی کو روکو مت
‎اچھی خاصی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎عقل سے خطرہ تھا وہ ساکت بیٹھی ہے
‎بھیڑ جنوں کی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎اس کے لیے کیا وقتِ عصر قضا کردیں؟
‎ظلم کی دیوی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎ہم پر "مشعل” گُل کرنا ہی واجب تھا
‎رات اندھیری ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎تم ہو قوم کے رہبر، چوکیدار نہیں
‎دہشت گردی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎عورت کا پردے میں رہنا لازم ہے
‎وحشت ننگی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎وجدآور ہے تال بہت جلادی کی
‎ملت ساری ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎عزت داروں کو کیا ایسی لعنت سے
‎کاروکاری ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎آدھی قوم کو کوئی فرق نہیں پڑتا
‎باقی آدھی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
‎تم آباد ہو، چین سے شعر کہو عرفان
‎جو بربادی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
عرفان ستار