ٹیگ کے محفوظات: اندھیروں

بولیں خاموشی کے گھیروں میں چٹختے پتے

چار سُو چُپ کا سماں ہو کوئی آواز نہ ہو
بولیں خاموشی کے گھیروں میں چٹختے پتے
پھر سے گھنگھور سیہ رات، خزاں کا یہ سماں
پھر سے گلشن کے اندھیروں میں چٹختے پتے
تجھ سے تو اچھے ہیں اے شامِ بہارِ خاموش
سیر سرما کے سویروں میں چٹختے پتے
گُم ہوئیں شہر کی شورش میں صدائیں میری
دب گئے دُھول کے ڈھیروں میں چٹختے پتے
اب کمی مجھ کو نہیں کوئی ہوئے ہم آواز
دِل کی تنہائی کے ڈھیروں میں چٹختے پتے
اپنے ہر شعر میں گوندھا ہے خزاں کو میَں نے
جاوداں زبروں میں زیروں میں چٹختے پتے
لے گئے توڑ کے پھل لوگ یہاں سے یاؔور
رہ گئے جھولتے بیروں میں چٹختے پتے
یاور ماجد

مل گئے اندھیروں سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 535
لوگ کچھ سویروں سے
مل گئے اندھیروں سے
چمنیاں چمکتی ہیں
راکھ کے پھریروں سے
دوستی کی خواہشمند
مچھلیاں مچھیروں سے
دھوپ مانگتے کیا ہو
برف کے بسیروں سے
خالی ہوتی جاتی ہیں
بستیاں سپیروں سے
آئے شہر میں بارود
دین دارڈیروں سے
خوف کھائیں کیا منصور
ہم پرند شیروں سے
منصور آفاق