ٹیگ کے محفوظات: اندازہ

کیا تمہیں اپنی نظر کا خود بھی اندازہ نہیں

کون سا ہے زخم جو کاری نہیں تازہ نہیں
کیا تمہیں اپنی نظر کا خود بھی اندازہ نہیں
منتشر ہونے کو ہے چاہو تو اب بھی روک لو
میرے بس میں اب مری ہستی کا شیرازہ نہیں
ہیچ ہیں عشق و جنون و جذب سب پیشِ فنا
منزلِ آخر پَہ کوئی خوفِ خمیازہ نہیں
چشمِ گریاں سے ٹپکتی نطقِ خاموشی کی گونج
محض آوازِ شکستِ دِل ہے آوازہ نہیں
جب محبت ہو گئی ضامنؔ! تب اندازہ ہُوا
یہ وہ زنداں ہے کہ جس میں کوئی دروازہ نہیں
ضامن جعفری

دام کے زیرِ قدم ہونے کا اندازہ نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وار تو حالات نے جو بھی کیا تازہ نہ تھا
دام کے زیرِ قدم ہونے کا اندازہ نہ تھا
کچھ نہ کچھِاس میں کرشمہ ناز کا بھی تھا ضرور
منہ کی کھانا خام فکری ہی کا خمیازہ نہ تھا
چہرہ چہرہ عکس سا سمجھا گیا جو پیار کا
وہ تمازت تھی اُبلتے خون کی غازہ نہ تھا
آ گئے ہوتے مثالِ خس نہ یوں گرداب میں
سیل جو اب کے اُٹھا اُس کا کچھ آوازہ نہ تھا
پل میں جو ماجدؔ بدل کر دھجّیوں میں رہ گئی
اُس کتابِ فکر کا ایسا تو شیرازہ نہ تھا
ماجد صدیقی

وہ رنگِ رُخ ہے کہ خود غازہ مست رہتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 212
مہک سے اپنی گَلِ تازہ مست رہتا ہے
وہ رنگِ رُخ ہے کہ خود غازہ مست رہتا ہے
نگاہ سے کبھی گزرا نہیں وہ مست انداز
مگر خیال سے، اندازہ مست رہتا ہے
کہاں سے ہے رَسدِ نشہ، اس کی خلوت میں
کہ رنگ مست کا اندازہ مست رہتا ہے
یہاں کبھی کوئی آیا نہیں مگر سرِ شام
بس اک گمان سے دروازہ مست رہتا ہے
مجھے خیال کی مستی میں کس کا اندازہ
خدا نہیں جو باندازہ مست رہتا ہے
جون ایلیا