ٹیگ کے محفوظات: انتقال

دل ابھی پائمال مت کریو

وقفِ رنج و ملال مت کریو
دل ابھی پائمال مت کریو!
زخم دامن سمیٹ لیتے ھیں
دیکھیو! تم دھمال مت کریو!
کریو دشمن کو لاجواب تو یوں
اس سے کوئی سوال مت کریو!
میں ابھی بزدلوں میں بیٹھا ہوں
میرا گریہ بحال مت کریو!
دھیرے دھیرے ہی چھوڑیو ھم کو
ایک دم انتقال مت کریو!!!
افتخار فلک

یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

دیوان اول غزل 355
خوش نہ آئی تمھاری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو
کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود
اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
اس مہ چاردہ کی دوری نے
دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال
حلقہ حلقہ تمھارے بال ہمیں
تنگی اس جا کی نقل کیا کریے
یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
مغ بچے مال مست ہم درویش
کون کرتا ہے مشت مال ہمیں
کب تک اس تنگنا میں کھینچئے رنج
یاں سے یارب تو ہی نکال ہمیں
ترک سبزان شہر کریے اب
بس بہت کر چکے نہال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ میر منھ پہ ترے
نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
میر تقی میر

اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل

دیوان اول غزل 268
جانیں ہیں فرش رہ تری مت حال حال چل
اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل
اک آن میں بدلتی ہے صورت جہان کی
جلد اس نگارخانے سے کر انتقال چل
سالک بہر طریق بدن ہے وبال جاں
یہ بوجھ تیرے ساتھ جو ہے اس کو ڈال چل
آوارہ میرے ہونے کا باعث وہ زلف ہے
کافر ہوں اس میں ہووے اگر ایک بال چل
دنیا ہے میر حادثہ گاہ مقرری
یاں سے تو اپنا پائوں شتابی نکال چل
میر تقی میر