ٹیگ کے محفوظات: انتخاب

ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
کرے تو اور ہی وہ احتساب کرتا ہے
ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے
سنان و تیر و کماں توڑ دے اُسی پر وہ
ستم کشی کو جسے انتخاب کرتا ہے
دمکتا اور جھلکتا ہے برگِ سبز سے کیوں؟
وہ برگِ زرد سے کیوں اجتناب کرتا ہے
بھلے جھلک نہ دکھائے وہ اپنے پیاروں کو
بُلا کے طُور پہ کیوں لاجواب کرتا ہے
گلوں میں عکس وہ ماجد دکھائے خود اپنے
کلی کلی کو وہی بے نقاب کرتا ہے
ماجد صدیقی

بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا
بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا
جنم بھی روک دیا، آنے والی نسلوں کا
ستم نے اپنا تحفّظ تھا، بے حساب کیا
وُہ اپنے آپ کو، کیوں عقلِ کُل سمجھتا تھا
فنا کا راستہ، خود اُس نے انتخاب کیا
بہت دنوں میں، کنارا پھٹا ہے جوہڑ کا
زمیں نے خود ہی، تعفّن کا احتساب کیا
یہ ہم کہ خیر ہی، پانی کا گُن سمجھتے تھے
ہمیں بھنور نے، بالآخر ہے لاجواب کیا
نہ ہمکنارِ سکوں، ہو سکا کبھی ماجدؔ
یہ دل کہ ہم نے جِسے، وقفِ اضطراب کیا
ماجد صدیقی

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 22
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا
قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہُوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا
جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ،لُہو کو چناب کر دے گا
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا، اورلا جواب کر دے گا
اَنا پرست ہے اِتنا کہ بات سےپہلے
وہ اُٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا
سکوتِ شہرِ سخن میں وہ پُھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا
اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی ا پنی
تُمھاری یاد کے نام اِنتساب کر دے گا
پروین شاکر

ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 71
بنتا نہیں ہے حسن ستمگر شباب میں
ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں
جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں
کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں
بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی
بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں
صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو
بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں
آغازِ شوق دید میں اتنی خطا ہوئی
انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں
اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے
تصویر کھنچ گئی نگہِ انتخاب میں
کشتی کسی غریب کی ڈوبی ضرور ہے
آنسو دکھائے دیتا ہے چشمِ حباب میں
محشر میں ایک اشکِ ندامت نے دھو دیئے
جتنے گناہ تھے مری فردِ حساب میں
اس وقت تک رہے گی قیامت رکی ہوئی
جب تک رہے گا آپ کا چہرہ نقاب میں
ایسے میں وہ ہوں، باغ ہو، ساقی ہو اے قمر
لگ جائیں چار چاند شبِ ماہتاب میں
قمر جلالوی

اور پھر بند ہی یہ باب کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 40
شکوہ اول تو بے حساب کیا
اور پھر بند ہی یہ باب کیا
جانتے تھے بدی عوام جسے
ہم نے اس سے بھی اجتناب کیا
تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا
اک طرف میں ہوں ، اک طرف تم ہو
جانے کس نے کسے خراب کیا
آخر اب کس کی بات مانوں میں
جو مِلا، اس نے لاجواب کیا
یوں سمجھ تجھ کہ مضطرب پا کر
میں نے اظہارِ اضطراب کیا
جون ایلیا

ساتھ میرے دل گڑا تو آچکا مرنے کا خواب

دیوان ششم غزل 1813
مارے ہی ڈالے ہے جس کا زندگی میں اضطراب
ساتھ میرے دل گڑا تو آچکا مرنے کا خواب
ٹک ٹھہرتا بھی تو کہتے تھا کسو بجلی کی تاب
یا کہ نکہت گل کی تھا آیا گیا عہد شباب
کی نماز صبح کو کھوکر نماز اشراق کی
ہو گیا مجھ پر ستم اچٹا نہ ٹک مستی میں خواب
دیکھنا منھ یار کا اس وجہ سے ہوتا نہیں
یا الٰہی دے زمانے سے اٹھا رسم نقاب
ضعف ہے اس کے مرض اور اس کے غم سے الغرض
دل بدن میں آدمی کے ایک ہے خانہ خراب
یار میں ہم میں پڑا پردہ جو ہے ہستی ہے یہ
بیچ سے اٹھ جائے تو ہووے ابھی رفع حجاب
صورت دیوار سے مدت کھڑے در پر رہے
پر کبھو صحبت میں اس کی ہم ہوئے نہ باریاب
مے سے توبہ کرتے ہی معقول اگر ہم جانتے
ہم پہ شیخ شہر برسوں سے کرے ہے احتساب
جمع تھے خوباں بہت لیکن پسند اس کو کیا
کیا غلط میں نے کیا اے میر وقت انتخاب
میر تقی میر

میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب

دیوان دوم غزل 774
تابوت پر بھی میرے نہ آیا وہ بے نقاب
میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب
اس آفتاب حسن کے جلوے کی کس کو تاب
آنکھیں ادھر کیے سے بھر آتا ہے ووہیں آب
اس عمر برق جلوہ کی فرصت بہت ہے کم
جو کام پیش آوے تجھے اس میں ہو شتاب
غفلت سے ہے غرور تجھے ورنہ ہے بھی کچھ
یاں وہ سماں ہے جیسے کہ دیکھے ہے کوئی خواب
اس موج خیز دہر نے کس کے اٹھائے ناز
کج بھی ہوا نہ خوب کلہ گوشۂ حباب
یہ بستیاں اجڑ کے کہیں بستیاں بھی ہیں
دل ہو گیا خراب جہاں پھر رہا خراب
بیتابیاں بھری ہیں مگر کوٹ کوٹ کر
خرقے میں جیسے برق ہمارے ہے اضطراب
ٹک دل کے نسخے ہی کو کیا کر مطالعہ
اس درس گہ میں حرف ہمارا ہے اک کتاب
مجنوں نے ریگ بادیہ سے دل کے غم گنے
ہم کیا کریں کہ غم ہیں ہمارے تو بے حساب
کاش اس کے روبرو نہ کریں مجھ کو حشر میں
کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
شاید کہ ہم کو بوسہ بہ پیغام دست دے
پھرتا ہے بیچ میں تو بہت ساغر شراب
ہے ان بھوئوں میں خال کا نقطہ دلیل فہم
کی ہے سمجھ کے بیت کسو نے یہ انتخاب
گذرے ہے میر لوٹتے دن رات آگ میں
ہے سوز دل سے زندگی اپنی ہمیں عذاب
میر تقی میر

دامن پکڑ کے رویئے یک دم سحاب کا

دیوان دوم غزل 730
بالقوہ ٹک دکھایئے چشم پرآب کا
دامن پکڑ کے رویئے یک دم سحاب کا
جو کچھ نظر پڑے ہے حقیقت میں کچھ نہیں
عالم میں خوب دیکھو تو عالم ہے خواب کا
دریا دلی جنھیں ہے نہیں ہوتے کاسہ لیس
دیکھا ہے واژگوں ہی پیالہ حباب کا
شاید کہ قلب یار بھی ٹک اس طرف پھرے
میں منتظر زمانے کے ہوں انقلاب کا
بارے نقاب دن کو جو رکھتا ہے منھ پہ تو
پردہ سا رہ گیا ہے کچھ اک آفتاب کا
تلوار بن نکلتے نہیں گھر سے ایک دم
خوں کر رہو گے تم کسو خانہ خراب کا
یہ ہوش دیکھ آگے مرے ساتھ غیر کے
رکھتا ہے پائوں مست ہو جیسے شراب کا
مجنوں میں اور مجھ میں کرے کیوں نہ فرق عشق
چھپتا نہیں مزہ تو جلے سے کباب کا
رو فرصت جوانی پہ جوں ابر بے خبر
انداز برق کا سا ہے عہد شباب کا
واں سے تو نامہ بر کو ہے کب کا جواب صاف
میں سادگی سے لاگو ہوں خط کے جواب کا
ٹپکاکرے ہے زہر ہی صرف اس نگاہ سے
وہ چشم گھر ہے غصہ و ناز و عتاب کا
لائق تھا ریجھنے ہی کے مصراع قد یار
میں معتقد ہوں میر ترے انتخاب کا
میر تقی میر

یہ نمائش سراب کی سی ہے

دیوان اول غزل 485
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
چشم دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
آتش غم میں دل بھنا شاید
دیر سے بو کباب کی سی ہے
دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشم پر آب کی سی ہے
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
میر تقی میر

زمین میکدہ یک دست ہے گی آب زدہ

دیوان اول غزل 425
جو ہوشیار ہو سو آج ہو شراب زدہ
زمین میکدہ یک دست ہے گی آب زدہ
بنے یہ کیونکے ملے تو ہی یا ہمیں سمجھیں
ہم اضطراب زدہ اور تو حجاب زدہ
کرے ہے جس کو ملامت جہاں وہ میں ہی ہوں
اجل رسیدہ جفا دیدہ اضطراب زدہ
جدا ہو رخ سے تری زلف میں نہ کیوں دل جائے
پناہ لیتے ہیں سائے کی آفتاب زدہ
لگا نہ ایک بھی میر اس کی بیت ابرو کو
اگرچہ شعر تھے سب میرے انتخاب زدہ
میر تقی میر

کس طرح آفتاب نکلے گا

دیوان اول غزل 147
وہ جو پی کر شراب نکلے گا
کس طرح آفتاب نکلے گا
محتسب میکدے سے جاتا نہیں
یاں سے ہوکر خراب نکلے گا
یہی چپ ہے تو درد دل کہیے
منھ سے کیونکر جواب نکلے گا
جب اٹھے گا جہان سے یہ نقاب
تب ہی اس کا حجاب نکلے گا
عرق اس کے بھی منھ کا بو کیجو
گر کبھو یہ گلاب نکلے گا
آئو بالیں تلک نہ ہو گی دیر
جی ہمارا شتاب نکلے گا
دفتر داغ ہے جگر اس بن
کسو دن یہ حساب نکلے گا
تذکرے سب کے پھر رہیں گے دھرے
جب مرا انتخاب نکلے گا
میر دیکھوگے رنگ نرگس کا
اب جو وہ مست خواب نکلے گا
میر تقی میر

کون اے دوست باریاب نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 137
میکشوں میں وہ اضطراب نہیں
کون اے دوست باریاب نہیں
بار دنیا نہ اٹھ سکا تو کیا
زندگی میرا انتخاب نہیں
دل کی تسکیں بھی چاہتا ہوں میں
میرا مقصد فقط جواب نہیں
اک نہ اک چیز کی کمی ہی رہی
کبھی ساغر کبھی شراب نہیں
دل کو کیونکر فریب دیں باقیؔ
غم حقیقت ہے کوئی خواب نہیں
باقی صدیقی