ٹیگ کے محفوظات: اناؤں

سپنے سکُھ کی چھاؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
نقش بنے صحراؤں کے
سپنے سکُھ کی چھاؤں کے
دیدۂ تر کو مات کریں
دشت میں چھالے پاؤں کے
دیکھیں کیا دکھلاتے ہیں
پتّے آخری داؤں کے
پیڑ اکھڑتے دیکھے ہیں
کِن کِن شوخ اناؤں کے
ابریشم سے جسموں پر
برسیں سنگ جفاؤں کے
خرکاروں کے ہاتھ لگیں
لعل بلکتی ماؤں کے
ماجدؔ دیہہ میں شہری ہم
شہر میں باسی گاؤں کے
ماجد صدیقی

آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 121
جان جیسے گھری پھر چتاؤں میں ہے
آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے
پھر سے غارت ہُوا ہے سکوں دشت کا
کھلبلی پھر نئی فاختاؤں میں ہے
آگ سی کیا یہ رگ رگ میں اُتری لگے
دھوپ کا سا گماں کیوں یہ چھاؤں میں ہے
میرے جینے کے اسباب سب شہر میں
میری تسکیں کا سامان گاؤں میں ہے
آج تک ہم نے بنتی تو دیکھی نہیں
بات ماجدؔ چھپی جو اناؤں میں ہے
ماجد صدیقی