ٹیگ کے محفوظات: امیہ

چوکور اپنی کار کا پہیہ دکھائی دے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 529
پھر دسترس سے دور ثریا دکھائی دے
چوکور اپنی کار کا پہیہ دکھائی دے
ہیٹر تو بالکونی کا بھی آن ہے مگر
کیوں اتنا سرد گھر کا رویہ دکھائی دے
سرکار نے فقیرکی خیرات لوٹ لی
گرتی کرنسیوں میں روپیہ دکھائی دے
کتنے دنوں سے خواب میں ملاح کے بغیر
دریا میں تیرتی ہوئی نیا دکھائی دے
منبر پہ بوجہل کی ہے اولاد جلوہ گر
منصب پہ خاندانِ امیہ دکھائی دے
دل نے ترے وصال کی ٹھائی ہوئی ہے دوست
جی میں ترے ملن کاتہیہ دکھائی دے
منصور ایک موت کاکوئی نہیں علاج
ہر چیز اس زمیں پہ مہیا دکھائی دے
منصور آفاق