ٹیگ کے محفوظات: امیر

ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 88
جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی
یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے
جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی
وہ میرے پاؤں کو چُھونے جُھکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی
شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں
مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی
کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر
تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی
پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم
جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی
بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا
اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی
ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا
تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی
کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا
نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
پروین شاکر

سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے

دیوان ششم غزل 1897
خم ہوا قد کماں سا پیر ہوئے
سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے
اب نہ حسرت رہے گی مرنے تک
موسم گل میں ہم اسیر ہوئے
میں ہی درویش خوار و زار نہیں
عشق میں بادشہ فقیر ہوئے
ہے شرارت کا وقت عہد شباب
تم لڑکپن ہی سے شریر ہوئے
گھر کو اس کے خراب ہی دیکھا
جس کے یہ چشم و دل مشیر ہوئے
شور جن کے سروں میں عشق کا تھا
وے جواں سارے پاے گیر ہوئے
یاں کی خلقت کی ہے زباں الٹی
کہتے ہیں اندھوں کو بصیر ہوئے
نہ ہوئے ہم نظیریؔ سے یوں تو
شعر کے فن میں بے نظیر ہوئے
بات کا ہم سے ان کو کب ہے دماغ
میر درویشی میں امیر ہوئے
میر تقی میر