ٹیگ کے محفوظات: املاک

تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 374
ویسے ہی تمہیں وہم ہے، افلاک نشیں ہیں
تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشیں ہیں
خس خانہ و برفاب کی خواہش نہیں رکھتے
ہم دھوپ صفت لوگ ہیں خاشاک نشیں ہیں
امید بغاوت کی ہم ایسوں سے نہ رکھو
ہم ظلم کے نخچیر ہیں ، فتراک نشیں ہیں
اطراف میں بکھری ہوئی ہے سوختہ بستی
ہم راکھ اڑاتے ہوئے املاک نشیں ہیں
معلوم ہے کیا تم نے کہا ہے پسِ تحریر
اسباقِ خفی ہم کو بھی ادراک نشیں ہیں
کیا کوزہ گری بھول گیا ہے کوئی منصور
ہم لوگ کئی سال ہوئے چاک نشیں ہیں
منصور آفاق

الاؤ سا خس و خاشاک پر بناتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 278
عدم کو صفحہء ادراک پر بناتا ہوں
الاؤ سا خس و خاشاک پر بناتا ہوں
زمیں سے دور بناتا ہوں خاک کے چہرے
خدا بناؤں تو افلاک پر بناتا ہوں
مری زمین کی بنیاد میں شرارے ہیں
مکان سوختہ املاک پر بناتا ہوں
ستارہ لفظ تراشوں میں چاند تحریریں
اک آسمانِ ادب خاک پر بناتا ہوں
لہو کی بوندیں گراتا ہوں اپنے دامن سے
دلِ تباہ کو پوشاک پر بناتا ہوں
مرا وجود مکمل ابھی نہیں منصور
سو اپنے آپ کو پھر چاک پر بناتا ہوں
منصور آفاق

دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 199
مٹی ذرا سی قریہء لولاک کے عوض
دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض
جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی
تم مانگتے ہو دامنِ صد چاک کے عوض
اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں
سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض
وہ پیٹ برگزیدہ کسی کی نگاہ میں
جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض
مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا
اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض
دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے
اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض
بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے
میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض
غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں
جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض
ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط
پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض
جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِ اشتیاقِ لمس
بندِ قبا نے سینہء بیباک کے عوض
کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں
وعدہ ملا ہے دیدئہ نمناک کے عوض
آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں
نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض
نظارئہ جمال ملا ہے تمام تر
تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض
منصور ایک چہرۂ معشوق رہ گیا
پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض
منصور آفاق

محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 151
فلک سے بھی پرانی خاک کی تاریخ
محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ
مکمل ہو گئی ہے آخرش مجھ پر
جنوں کے دامن صد چاک کی تاریخ
ابھی معلوم کرتا پھر رہا ہوں میں
تری دستار کے پیچاک کی تاریخ
مری آنکھوں میں اڑتی راکھ کی صورت
پڑی ہے سوختہ املاک کی تاریخ
رگِ جاں میں اتر کر عمر بھر میں نے
پڑھی ہے خیمہء افلاک کی تاریخ
سرِ صحرا ہوا نے نرم ریشوں سے
پھٹا کویا تو لکھ دی آک کی تاریخ
مسلسل ہے یہ کیلنڈر پہ میرے
جدائی کی شبِ سفاک کی تاریخ
پہن کر پھرتی ہے جس کو محبت
مرتب کر تُو اُس پوشاک کی تاریخ
ہوائے گل سناتی ہے بچشمِ کُن
جہاں کو صاحبِ لولاک کی تاریخ
کھجوروں کے سروں کو کاٹنے والو
دکھائی دی تمہیں ادراک کی تاریخ
ہے ماضی کے مزاروں میں لکھی منصور
بگولوں نے خس و خاشاک کی تاریخ
منصور آفاق