ٹیگ کے محفوظات: امر

اظہارِ حال کرنے کا دل نے جگر کیا

کیا تیری ایک نیم نگہ نے نڈر کیا
اظہارِ حال کرنے کا دل نے جگر کیا
اب بھی اگرچہ روز نکلتا ہے آفتاب
دن تھا وہی جو ساتھ تمہارے بسر کیا
تُو نے تو خیر ہم کو بلانا تھا کیا مگر
ہم نے بھی دیکھ کر ترے تیور حذر کیا
تھے تیرے پاس قطعِ تعلق کے سو جواز
ہم نے بھی ترکِ عشق کسی بات پر کیا
اب کے چلی ہوائے حقیقت کچھ ایسی تیز
نخلِ گمان آن میں بے برگ و بر کیا
تُو نے بھی جاں کھپائی ہے باصرِؔ ہمارے ساتھ
جا اپنے ساتھ ہم نے تجھے بھی امر کیا
باصر کاظمی