ٹیگ کے محفوظات: امروہن

میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 18
بول رے جی اب ساجن جی کا مکھڑا ہے کس درپن کا
میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا
جب تجھ سے ناتا ٹوٹا تو پھر اپنے سے کیا ناتا
پر اب بھی تو اک ناتا ہے، وہ ناتا ہے ان بن کا
میرا دل ہے ساگر ایسا، تم ندیوں کے مان میں ہو
میں بھی اپنی گنگا کا ہوں، میں بھی اپنی گانگن کا
مجھ کو میرے سارے کھلونے لا کے دو میں کیا جانوں
کیسی جوانی، کس کی جوانی، میں ہوں اپنے بچپن کا
بیچ میں آنے والے تو بس بِن کارن ہلکان ہوئے
سید جی تھا سارا کھیل، تمہارا اور برہمن کا
جو بھی ہو گا اس نے کوئی دامن تھام رکھا ہو گا
جانے میرا ہاتھ ہے یارو کس دلبر کے دامن کا
اس جوگن کے روپ ہزاروں، ان میں سے اک روپ ہے تُو
جب سے میں نے جوگ لیا ہے، جوگی ہوں اس جوگن کا
چلمن پیچھے اک چلمن ہے آنکھوں سے آکاش تلک
جو تیری دیکھن میں آیا، تھا وہ جھلکا چلمن کا
کیا بتلاؤں اس سے لڑنے بھڑنے میں جو لِیلا تھی
لڑنا تھا اس من موہن سے میرا کھیل لڑکپن کا
تُو جو دریچے سے آتی ہے کیوں میں تجھ کو آنے دوں
کوئی بگولا لائی ہے کیا تُو، بادِ صبا اس آنگن کا
جون بڑا ہرجائی نکلا، پر وہ تو بیراگی تھا
ایک رسیلی، ایک انیلی، البیلی امروہن کا
جون ایلیا