ٹیگ کے محفوظات: امراض

کیے لاحق عجب امراض ہم نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
نظر میں پال کر اغراض ہم نے
کیے لاحق عجب امراض ہم نے
ستم کوشی پہ وہ اُترا ہے جب سے
کِیا کیا کچھ نہیں اغماض ہم نے
تقدّس ہی نہ رشتوں میں رہا جب
سنبھالی تب کہیں مقراض ہم نے
بتا دے نیتّوں میں جو بھی کچھ ہو
نہ دیکھا وقت سا نّباض ہم نے
یہ عالم ضبط کا دیکھو کہ ماجدؔ
نہ چہرہ تک کیا غمّاض ہم نے
ماجد صدیقی

گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 4
چاہئے ایک سب کا ہو مقصود
گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض
یاد میں تیری سب کو بھول گئے
کھو دئیے ایک دکھ نے سب امراض
دیکھئے تو بھی خوش ہیں یا نا خوش
اور تو ہم سے سب ہیں کچھ ناراض
رائے ہے کچھ علیل سی تیری
نبض اپنی بھی دکھ اے نباض
ایسی غزلیں سنی نہ تھیں حالیؔ
یہ نکالی کہاں سے تم نے بیاض
الطاف حسین حالی