ٹیگ کے محفوظات: امتیاز

آئینے ٹوٹ جاتے ہیں آئینہ ساز سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 120
شکوہ شکستِ دل کا ہو کیا دستِ ناز سے
آئینے ٹوٹ جاتے ہیں آئینہ ساز سے
اب التماسِ دید کروں تو گناہ گار
واقف میں ہو گیا ترے پردے کے راز سے
ہر شے انہیں کی شکل میں آنے لگی نظر
شاید گزر گیا میں حدِ امتیاز سے
خود آئیں پوچھنے وہ مرے پاس حالِ دل
کچھ دور تو نہیں ہے مرے کار ساز سے
اے شیخ مے کدے سے نکل دیکھ بال کے
واپس نہ آ رہے ہوں نمازی نماز سے
اللہ ان کو عشق کی کیونکر خبر ہوتی
واقف نہ تھا کوئی بھی مرے دل کے راز سے
بھیدی ہوں گھر کا مجھ سے نہ چل چال اے فلک
واقف قمر ہے خوب تری سازباز سے
قمر جلالوی

ناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 9
کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکا
ناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کا
لگتی نہیں پلک سے پلک جو تمام شب
ہے ایک شعبدہ مژہِ نیم باز کا
دشمن پئے صبوح جگاتے ہیں یار کو
یہ وقت ہے نسیمِ سحر اھتزاز کا
ایمن ہیں اہلِ جذبہ کہ رہبر ہے ان کے ساتھ
سالک کو ہے خیال نشیب و فراز کا
پھنسنے کے بعد بھی ہے وہی دل شگفتگی
کیا خوب جال ہے نگہِ جاں نواز کا
تقویٰ مرا شعار ہے ، عصمت سرشتِ دوست
پھر مجھ سے کون سا ہے سبب احتراز کا
بارے عجیب بات تو پھیلی جہان میں
پایا کسی نے گو ثمر افشائے راز کا
ساقی کے ہیں اگر یہی الطاف، کیا عجب
ارض و سما میں ہوش نہ ہو امتیاز کا
پیرِ مغاں نے رات کو وہ کچھ دکھا دیا
ہرگز رہا نہ دھیان بھی حسنِ مجاز کا
دیتا ہے داغِ رشک پرندِ سپہر کو
جلوہ تمہاری معجزِ گوہر طراز کا
پانی وضو کو لاؤ، رخِ شمع زرد ہے
مینا اٹھاؤ وقت اب آیا نماز کا
یکتا کسی کو ہم نے نہ دیکھا جہان میں
طولِ امل جواب ہے زلفِ دراز کا
جورِ اجل کو شوخیِ بے جا کہا کیا
تھا مست شیفتہ جو کسی مستِ ناز کا
مصطفٰی خان شیفتہ

کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے

دیوان ششم غزل 1898
آئو کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے
کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے
پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دور
کرلو موافقت کسو بے برگ و ساز سے
ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھا
کوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے
مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلے
جی اپنا کیونکے اچٹے نہ روزے نماز سے
کرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تمام
وہ دیکھنا ترا مژئہ نیم باز سے
دل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشق
پرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے
آگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشت
کرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے
مانع ہوں کیونکے گریۂ خونیں کے عشق میں
ہے ربط خاص چشم کو افشاے راز سے
شاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میر
کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے
میر تقی میر

گفتار اس کی کبر سے رفتار ناز سے

دیوان دوم غزل 977
کرتا ہے کب سلوک وہ اہل نیاز سے
گفتار اس کی کبر سے رفتار ناز سے
یوں کب ہمارے آنسو پچھیں ہیں کہ تونے شوخ
دیکھا کبھو ادھر مژئہ نیم باز سے
خاموش رہ سکے نہ تو بڑھ کر بھی کچھ نہ کہہ
سر شمع کا کٹے ہے زبان دراز سے
اب جا کسو درخت کے سائے میں بیٹھیے
اس طور پھریے کب تئیں بے برگ و ساز سے
یہ کیا کہ دشمنوں میں مجھے ساننے لگے
کرتے کسو کو ذبح بھی تو امتیاز سے
مانند شمع ٹپکے ہی پڑتے ہیں اب تو اشک
کچھ جلتے جلتے ہو گئے ہیں ہم گداز سے
شاید کہ آج رات کو تھے میکدے میں میر
کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے
میر تقی میر

ہے فرض عین رونا دل کا گداز واجب

دیوان دوم غزل 773
عشاق کے تئیں ہے عجز و نیاز واجب
ہے فرض عین رونا دل کا گداز واجب
یوں سرفرو نہ لاوے ناداں کوئی وگرنہ
رہنا سجود میں ہے جیسے نماز واجب
ناسازی طبیعت ایسی پھر اس کے اوپر
ہے ہر کسو سے مجھ کو ناچار ساز واجب
لڑکا نہیں رہا تو جو کم تمیز ہووے
عشق و ہوس میں اب ہے کچھ امتیاز واجب
صرفہ نہیں ہے مطلق جان عزیز کا بھی
اے میر تجھ سے ظالم ہے احتراز واجب
میر تقی میر

مطلق نہیں ہم سے ساز تیرا

دیوان دوم غزل 728
اللہ رے غرور و ناز تیرا
مطلق نہیں ہم سے ساز تیرا
ہم سے کہ تجھی کو جانتے ہیں
جاتا نہیں احتراز تیرا
مل جن سے شراب تو پیے ہے
کہہ دیتے ہیں وہ ہی راز تیرا
کچھ عشق و ہوس میں فرق بھی کر
کیدھر ہے وہ امتیاز تیرا
کہتے نہ تھے میر مت کڑھاکر
دل ہو نہ گیا گداز تیرا
میر تقی میر

کوئی خاک سے ہو یکساں وہی ان کو ناز کرنا

دیوان دوم غزل 690
یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا
کوئی خاک سے ہو یکساں وہی ان کو ناز کرنا
کوئی عاشقوں بتاں کی کرے نقل کیا معیشت
انھیں ناز کرتے رہنا انھیں جی نیاز کرنا
رہیں بند میری آنکھیں شب و روز ضعف ہی میں
نہ ہوا مجھے میسر کبھو چشم باز کرنا
یہ بھی طرفہ ماجرا ہے کہ اسی کو چاہتا ہوں
مجھے چاہیے ہے جس سے بہت احتراز کرنا
نہیں کچھ رہا تو لڑکا تجھے پر ضرور ہے اب
ہوس اور عاشقی میں ٹک اک امتیاز کرنا
کوئی عاشقوں کی پھپٹ کنھوں نے اٹھائی بھی ہے
انھیں بات ہو جو تھوڑی اسے بھی دراز کرنا
یہی میر کھینچے قشقہ در دیر پر تھے ساجد
نہیں اعتماد قابل انھوں کا نماز کرنا
میر تقی میر

خانہ خراب ہوجیو آئینہ ساز کا

دیوان دوم غزل 681
دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا
خانہ خراب ہوجیو آئینہ ساز کا
ہوتا ہے کون دست بسر واں غرور سے
گالی ہے اب جواب سلام نیاز کا
ہم تو سمند ناز کے پامال ہوچکے
اس کو وہی ہے شوق ابھی ترک تاز کا
ہے کیمیاگران محبت میں قدر خاک
پر وقر کچھ نہیں ہے دل بے گداز کا
اس لطف سے نہ غنچۂ نرگس کھلا کبھو
کھلنا تو دیکھ اس مژئہ نیم باز کا
کوتاہ تھا فسانہ جو مرجاتے ہم شتاب
جی پر وبال سب ہے یہ عمر دراز کا
مارا نہ اپنے ہاتھ سے مجھ کو ہزار حیف
کشتہ ہوں یار میں تو ترے امتیاز کا
ہلتی ہے یوں پلک کہ گڑی دل میں جائے ہے
انداز دیدنی ہے مرے دل نواز کا
پھر میر آج مسجد جامع کے تھے امام
داغ شراب دھوتے تھے کل جانماز کا
میر تقی میر

کوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو

دیوان اول غزل 401
جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو
کوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو
نہ دیکھو غنچۂ نرگس کی اور کھلتے میں
جو دیکھو اس کی مژہ نیم باز کرنے کو
نہ سوئے نیند بھر اس تنگنا میں تا نہ موئے
کہ آہ جا نہ تھی پا کے دراز کرنے کو
جو بے دماغی یہی ہے تو بن چکی اپنی
دماغ چاہیے ہر اک سے ساز کرنے کو
وہ گرم ناز ہو تو خلق پر ترحم کر
پکارے آپ اجل احتراز کرنے کو
جو آنسو آویں تو پی جا کہ تا رہے پردہ
بلا ہے چشم تر افشاے راز کرنے کو
سمند ناز سے تیرے بہت ہے عرصہ تنگ
تنک تو ترک کر اس ترک تاز کرنے کو
بسان زر ہے مرا جسم زار سارا زرد
اثر تمام ہے دل کے گداز کرنے کو
ہنوز لڑکے ہو تم قدر میری کیا جانو
شعور چاہیے ہے امتیاز کرنے کو
اگرچہ گل بھی نمود اس کے رنگ کرتا ہے
ولیک چاہیے ہے منھ بھی ناز کرنے کو
زیادہ حد سے تھی تابوت میر پر کثرت
ہوا نہ وقت مساعد نماز کرنے کو
میر تقی میر

معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو

دیوان اول غزل 389
خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو
معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو
سجدے کا کیا مضائقہ محراب تیغ میں
پر یہ تو ہو کہ نعش پہ میری نماز ہو
اک دم تو ہم میں تیغ کو تو بے دریغ کھینچ
تا عشق میں ہوس میں تنک امتیاز ہو
نزدیک سوز سینہ سے رکھ اپنے قلب کو
وہ دل ہی کیمیا ہے جو گرم گداز ہو
ہے فرق ہی میں خیر نہ کر آرزوے وصل
مل بیٹھیے جو اس سے تو شکوہ دراز ہو
جوں توں کے اس کی چاہ کا پردہ کیا ہے میں
اے چشم گریہ ناک نہ افشاے راز ہو
جوں چشم بسملی نہ مندی آوے گی نظر
جو آنکھ میرے خونی کے چہرے پہ باز ہو
ہم سے تو غیرعجز کبھو کچھ بنا نہ میر
خوش حال وہ فقیر کہ جو بے نیاز ہو
میر تقی میر

آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 262
شب زندہ دار خواب، عشائے نماز لوگ
آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ
کھلنے لگے تھے پھول گریباں کے چاک سے
لوٹ آئے دشتِ یاد سے ہم بے نیاز لوگ
دونوں کا ایک بیج ہے دونوں کی اک نمو
یونہی یہ خار و گل میں کریں امتیاز لوگ
کیسی عجیب چیز ہیں چہرے کے خال و خد
دل میں بسے ہوئے ہیں کئی بد لحاظ لوگ
پہلے پہل تھے میرے اجالے سے منحرف
کرتے ہیں آفتاب پہ اب اعتراض لوگ
ہر شخص بانس باندھ کے پھرتا ہے پاؤں سے
نکلیں گھروں سے کس طرح قامت دراز لوگ
صبحوں کو ڈھانپتے پھریں خوفِ صلیب سے
کالک پرست عہد میں سورج نواز لوگ
پتھر نژاد شہر! غنیمت سمجھ ہمیں
ملتے کہاں ہیں ہم سے سراپا گداز لوگ
منصور اب کہاں ہیں ہم ایسے ، دیار میں
غالب مثال آدمی، احمد فراز لوگ
منصور آفاق