ٹیگ کے محفوظات: امام

گزر رہی ہے جو ساعت اُسے امام کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
حصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریں
گزر رہی ہے جو ساعت اُسے امام کریں
ہمیں وہ لوگ، کہ ہم جنس جن سے کترائیں
ہمیں وہ لوگ، کہ یزداں سے بھی کلام کریں
مِلی فلک سے تو جو آبرو، ملی اِس کو
ہمیں بھی چاہیئے انساں کا احترام کریں
ہوا نہ کوہِ الم جن سے آج تک تسخیر
ہزار موسم مہتاب کو غلام کریں
ہر ایک شخص جو بپھرا ہوا مِلے ہے یہاں
حدودِ ارض میں اُس کو تو پہلے رام کریں
گرفت میں ہیں جو ماجدؔ اُنہی پہ بس کیجے
نہ آپ اُڑتے پرندوں کو زیرِ دام کریں
ماجد صدیقی

مگر نہ یوں ہو کہ ہم اپنے کام کے نہ رہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 127
جنوں کریں ہوسِ ننگ و نام کے نہ رہیں
مگر نہ یوں ہو کہ ہم اپنے کام کے نہ رہیں
زیاں ہے اس کی رفاقت کہ اس کے دوش بدوش
چلیں تو منظرِ حسنِ خرام کے نہ رہیں
کہاں ہے وصل سے بڑھ کر کوئی عطا لیکن
یہ خوب ہے کہ پیام و سلام کے نہ رہیں
نصیب ہو کوئی دم وہ معاش۔ حال کے ہم
حسابِ سلسلہ صبح و شام کے نہ رہیں
یہ بات بھی ہے کہ لمحوں کے لوگ جائیں کہاں
اگر فریبِ بقا سے دوام کے نہ رہیں
خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ
غضب خدا کا ہم اپنے امام کے نہ رہیں
جون ایلیا

رسم ظاہر تمام ہے موقوف

دیوان سوم غزل 1157
کیا پیام و سلام ہے موقوف
رسم ظاہر تمام ہے موقوف
حیرت حسن یار سے چپ ہیں
سب سے حرف و کلام ہے موقوف
روز وعدہ ہے ملنے کا لیکن
صبح موقوف شام ہے موقوف
وہ نہیں ہے کہ داد لے چھوڑیں
اب ترحم پہ کام ہے موقوف
پیش مژگاں دھرے رہے خنجر
آگے زلفوں کے دام ہے موقوف
کہہ کے صاحب کبھو بلاتے تھے
سو وقار غلام ہے موقوف
اقتدا میر ہم سے کس کی ہوئی
اپنے ہاں اب امام ہے موقوف
میر تقی میر

کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا

دیوان سوم غزل 1067
اعجاز منھ تکے ہے ترے لب کے کام کا
کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا
رقعہ ہمیں جو آوے ہے سو تیر میں بندھا
کیا دیجیے جواب اجل کے پیام کا
کچھ سدھ سنبھالتے ہی رکھی ان نے پگڑی پھیر
ممنون میں نہیں ہوں جواب سلام کا
منھ دیکھو بدر کا کہ تری روکشی کرے
تو یوں ہی نام لے ہے کسو ناتمام کا
نوبت ہے اپنی جب سے یہی کوچ کاہے شور
بجنا سنا نہیں ہے کبھو یاں مقام کا
کنج لب اس کا دیکھ کے خاموش رہ گئے
یعنی کہ تھا مقام یہ ختم کلام کا
اس رو و مو کے محو کو کیا روزگار سے
جلوہ ہی کچھ جدا ہے مرے صبح و شام کا
صاحب ہو مار ڈالو مجھے تم وگرنہ کچھ
جز عاشقی گناہ نہیں ہے غلام کا
کب اقتدا ہو مجھ سے کسو کی سواے میر
بندہ ہوں دل سے میں اسی سید امام کا
میر تقی میر

کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا

دیوان سوم غزل 1060
ان دلبروں سے رابطہ کرنا ہے کام کیا
کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا
حیرت ہے کھولیں چشم تماشا کہاں کہاں
حسن و جمال ویسا ہے اس کا خرام کیا
کی اک نگاہ گرم جہاں ان سے مل گئے
عاشق کو دلبروں سے سلام و پیام کیا
شکر خدا کہ سر نہ فرو لائے ہم کہیں
کیا جانیں سجدہ کہتے ہیں کس کو سلام کیا
اس کنج لب پہ چپکے ہوئے منھ کو رکھ کے ہم
دلچسپ اس مقام میں حرف و کلام کیا
جس جاے اس کے چہرے سے کرتے ہیں گفتگو
مرآت و ماہ و گل کا ہے اس جا مقام کیا
کہتا ہے کون بدر میں نقصان کچھ رہا
پر منھ کھلے پہ اس کے ہے ماہ تمام کیا
یہ جانوں ہوں کہ دل کو ہے اس رو ومو سے لاگ
کیا جانوں پیش آوے ہے اب صبح و شام کیا
تسبیح تک تو میر نے رکھا کلال کے
وقت نماز اب بھی ہوئے تھے امام کیا
میر تقی میر

کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے

دیوان دوم غزل 1052
کار دل اس مہ تمام سے ہے
کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے
تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب
شہر پرشور اس غلام سے ہے
بوسہ لے کر سرک گیا کل میں
کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے
کوئی تجھ سا بھی کاش تجھ کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے
کب وہ مغرور ہم سے مل بیٹھا
ننگ جس کو ہمارے نام سے ہے
خوش سرانجام وے ہی ہیں جن کو
اقتدا اولیں امام سے ہے
شعر میرے ہیں سب خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
شیطنت سے نہیں ہے خالی شیخ
اس کی پیدائش احتلام سے ہے
سر جھکائوں تو اور ٹیڑھے ہو
کیا تمھیں چڑ مرے سلام سے ہے
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
میر تقی میر

ہے میر کام میرے تئیں اپنے کام سے

دیوان اول غزل 564
گو ننگ اس کو آوے ہے عاشق کے نام سے
ہے میر کام میرے تئیں اپنے کام سے
درد صفر ہی خوب پئیں جس میں صاف مے
کیا میکشوں کو اول ماہ صیام سے
صیاد عرض حال کروں اور تجھ سے کیا
ظاہر ہے اضطراب مرا زیر دام سے
پڑھتے نہیں نماز جنازے پر اس کے میر
دل میں غبار جس کے ہو خاک امام سے
میر تقی میر

غرض اس شوخ نے بھی کام کیا

دیوان اول غزل 132
کام پل میں مرا تمام کیا
غرض اس شوخ نے بھی کام کیا
سرو و شمشاد خاک میں مل گئے
تونے گلشن میں کیوں خرام کیا
سعی طوف حرم نہ کی ہرگز
آستاں پر ترے مقام کیا
تیرے کوچے کے رہنے والوں نے
یہیں سے کعبے کو سلام کیا
اس کے عیارپن نے میرے تئیں
خادم و بندہ و غلام کیا
حال بد میں مرے بتنگ آکر
آپ کو سب میں نیک نام کیا
دختر رز سے کیا تھا میرے تئیں
شیخ کی ضد پہ میں حرام کیا
ہو گیا دل مرا تبرک جب
ورد یہ قطعۂ پیامؔ کیا
’’دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے
کام عشاق کا تمام کیا
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتل عام کیا‘‘
عشق خوباں کو میر میں اپنا
قبلہ و کعبہ و امام کیا
میر تقی میر

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

دیوان اول غزل 7
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں
جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے
آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی
رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لاکر چھوڑ دیے
بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے
استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
میر تقی میر

زندگی لمسِ رنگ عام کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 531
بادِ خوشبو کو ہم کلام کرے
زندگی لمسِ رنگ عام کرے
رزق میرا بھی کچھ کشادہ ہو
کوئی میرے بھی گھر قیام کرے
میں کہ رومانیت کا پیغمبر
کون کافر مجھے امام کرے
ایک شاعرکی حیثیت کیا ہے
اس سے کہہ دو کہ کوئی کام کرے
سندھ دریا کے ٹھنڈے پانی میں
میری خاطر وہ سرد آم کرے
دشت کی آتشیں شعاعوں پر
شامِ قوسِ قزح خرام کرے
غم سے کہنا کہ آج پلکوں پر
محفلِ شب کا اہتمام کرے
کوئی منصور روز و شب میرے
اپنی آسودگی کے نام کرے
منصور آفاق