ٹیگ کے محفوظات: امامت

بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
چہرۂ سرو قداں پر داغِ ندامت ٹھہرے
بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے
اُس کے لیے جو خود شامت ہے بستی بھر کی
جانے کونسی ساعت، ساعتِ شامت ٹھہرے
جس کے طلوع پہ خود سورج بھی شرمندہ ہے
اور وہ کون سا دن ہو گا جو قیامت ٹھہرے
اہلِ نشیمن کو آندھی سے طلب ہے بس اتنی
پیڑ اکھڑ جائے پر شاخ سلامت ٹھہرے
کون یزید کی بیعت سے منہ پھیر دکھائے
کون حسین ہو، دائم جس کی امامت ٹھہرے
خائف ہیں فرعون عصائے قلم سے تیرے
اور بھلا ماجد کیا تیری کرامت ٹھہرے
ماجد صدیقی

مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے

دیوان سوم غزل 1304
بتوں کے جرم الفت پر ہمیں زجرو ملامت ہے
مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے
کھڑا ہوتا نہیں وہ رہزن دل پاس عاشق کے
موافق رسم کے اک دور کی صاحب سلامت ہے
جھکی ہے شاخ پرگل ناز سے کیا صحن گلشن میں
نہال قد کی اس کے مدعی تھی سو ندامت ہے
نکلتا ہے سحر خورشید ہر روز اس کے گھر پر سے
مقابل ہو گیا اس سے تو اس سادہ کی شامت ہے
پیے دارو پڑے پھرتے تھے کل تک میر کوچوں میں
انھیں کو مسجد جامع کی دیکھی آج امامت ہے
میر تقی میر

غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 43
کون بیماری میں آتا ہے عیادت کرنے؟
غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے
اُس کو سمجھاتے نہیں جا کے کسی دن ناصح
روز آتے ہیں مجھ ہی کو یہ نصیحت کرنے
تیر کے ساتھ چلا دل، تو کہا میں نے، کہاں؟
حسرتیں بولیں کہ، مہمان کو رخصت کرنے
آئے میخانے میں، تھے پیرِ خرابات امیر
اب چلے مسجدِ جامع کی امامت کرنے
امیر مینائی