ٹیگ کے محفوظات: الوداع، اے داشتہ!

الوداع، اے داشتہ!

نکسیر، نیل، چاک گریبان و آستین

کچھ اور (کٹ)

بھنور سابنے رخ پہ کرب کا

لب بستہ چیخ اور ذرا (کٹ) بلند ہو

دہشت سے جیسے آئینہ (کٹ) ٹوٹ کر گرے

اندر کے فرش پر

رشتوں کے مسخ عکس (بہت خوب اس طرح)

تعمیلِ حکم جبر ہو اور ٹھیکرا سی آنکھ

اس سے کہے کہ کون ہو تم، میں تمہیں پہچانتا نہیں

انکار تین بار

بازارِ دشمنان کی شئۓ زر خرید سے

کیا واسطہ مرا

(اقرار پھڑ پھڑائے، پھٹے حرف و لب کے ساتھ)

اور یہ زنِ غلیظ!

عورت مری! نہیں نہیں، تھی داشتہ مری

فوکس۔۔۔۔ کچھ اور، اور صداقت کا ا یک رُخ

کیسا مہیب ہے

دے اے خدا پناہ خدایانِ خاک سے

آفتاب اقبال شمیم