ٹیگ کے محفوظات: الماس

ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 23
سزائے جذبہ و احساس کاٹتے رہئے
ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے
اِس اژدہامِ حریصاں کو ہے یہی مطلوب
کہ ایک دوسرے کا ماس کاٹتے رہئے
ہر ایک شکل ملے مثلِ نخل بے چہرہ
یہی کہ شہر میں بن باس کاٹتے رہئے
یہ کارِ زندگی ہے کارِ کوہکن سے کٹھن
بصارتوں سے یہ الماس کاٹتے رہئے
بہ فیضِ نکتہ وری موسم بہار میں بھی
خزاں کی چھوڑی ہوئی گھاس کاٹتے رہئے
اِس انتظار کی لا حاصلی پہ زور ہی کیا
پرائے وقت کو بے آس کاٹتے رہئے
آفتاب اقبال شمیم

ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 115
پیر فرید کی روہی میں ہوں ، مجھ میں پیاس کا دریا
ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا
عمرِ رواں کے ساحل پر اوقات یہی ہیں دل کے
صبح ، طلب کی بہتی کشتی، شب ،وسواس کا دریا
سورج ڈھالے جا سکتے تھے ہر قطرے سے لیکن
یوں ہی بہایا میں نے اشکوں کے الماس کا دریا
جس کے اک اک لمحے میں ہے صدیوں کی خاموشی
میرے اندر بہتا جائے اس بن باس کا دریا
ہم ہیں آبِ چاہ شباں کے ہم حمام سگاں کے
شہر میں پانی ڈھونڈ رہے ہو چھوڑ کے پاس کا دریا
تیری طلب میں رفتہ رفتہ میرے رخساروں پر
سوکھ رہا ہے قطرہ قطرہ تیز حواس کا دریا
سورج اک امید بھرا منصور نگر ہے لیکن
رات کو بہتا دیکھوں اکثر خود میں یاس کا دریا
منصور آفاق