ٹیگ کے محفوظات: الزام

مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
مجُھ کو یہ کربِ مسافت بھی ہے، انعام لگا
مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا
صیدِ تخریب ہوا میں، تو ہُوا عدل یہی
پُرسشِ شاہ کا اعزاز، مِرے نام لگا
دیکھ کر قصر میں کوٹھوں سی سیاست، خود کو
مَیں کہ پختہ تھا عقیدے کا، بہت خام لگا
جب بھی دیکھا ہے تمنّاؤں کا یکجا ہونا
شام کے پیڑ پہ چڑیوں کا وُہ کہرام لگا
اُن کی جانب سے، کہ کھلیان ہیں جن کے ماجدؔ
مُجھ پہ خوشوں کے چرانے ہی کا، الزام لگا
ماجد صدیقی

مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 142
بظاہر تو وہ ہم سے رام سا ہے
مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے
چمن پر کس نے پھر شب خون مارا
بپا شاخوں میں پھر کہرام سا ہے
بچیں کیوں کر نہ اُس عیّار سے ہم
کہ جس کا دیکھنا بھی دام سا ہے
ہماری برتری یہ ہے کہ ہم پر
کسی کی چاہ کا الزام سا ہے
ہمیں کیا یاد رکھیں گے وہ جن کو
ہمارا نام بھی دشنام سا ہے
نکل کر حلقۂ دامِ ہوس سے
زیاں ہے گو مگر آرام سا ہے
ماجد صدیقی

ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 79
اب کیسی پردہ داری ، خبر عام ہو چکی
ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی
اب آسماں سے چادرِ شب آئے بھی تو کیا
بے چاری زمین پہ الزام ہو چکی
اُجڑے ہُوئے دیارپہ پھر کیوں نگاہ ہے
اس کشت پر تو بارشِ اکرام ہو چکی
سُورج بھی اُس کو ڈھونڈ کے واپس چلا گیا
اب ہم بھی گھر کو لوٹ چلیں ، شام ہو چکی
شملے سنبھالتے ہی رہے مصلحت پسند
ہونا تھا جس کو پیار میں بدنام ہو چکی
کوہِ ندا سے بھی سخن اُترے اگر تو کیا
نا سامعوں میں حرمتِ الہام ہو چکی
پروین شاکر

میری قسمت پر نکل آئے ہیں آنسو جام کے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 127
یہ جو چَھلکے ہیں، نہیں قطرے مئے گلفام کے
میری قسمت پر نکل آئے ہیں آنسو جام کے
کس سے شکوہ کر رہے ہیں آ دامن تھام کے
بندہ پرور سینکڑون ہوتے ہیں اک اک نام کے
ہیں ہمارے قتل میں بدنام کتنے نام کے
جو کہ قاتل ہے وہ بیٹھا ہے ہے کلیجہ تھام کے
یہ سمجھ لو رکھنی بات مجھے صیاد کی
ورنہ میں نے سینکڑوں توڑے ہیں حلقے دام کے
غفلت خوابِ جوانی عہدِ پیری میں کیا
صبح کو اٹھ بیٹھتے ہیں سونے والے شام کے
رہبروں کی کشمکش میں ہے ہمارا قافلہ
منزلوں سے بڑھ گئے ہیں فاصلے دو گام کے
دیدہ میگوں نہ دکھلا روئے روشن کھول کر
صبح کو پیتے نہیں ہیں پینے والے شام کے
مرگِ عاشق پر تعجب اس تعجب کے نثار
مرتکب جیسے نہیں سرکار اس الزام کے
اے قمر بزمِ حسیناں کی وہ ختمِ شب نہ پوچھ
صبح کو چھپ جائیں جیسے چاند تارے شام کے
قمر جلالوی

ہر اک شاخِ چمن پر پھول بن کر جام آ جائے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 111
بہار آ جائے گر وہ ساقی گلفام آ جائے
ہر اک شاخِ چمن پر پھول بن کر جام آ جائے
بہار ایسی کوئی اے گردشِ ایام آ جائے
بجائے صید خود صیاد زیرِ دام آ جائے
مرا دل ٹوٹ جانے کی صدا رسوا نہ ہو یا رب
کوئی ایسے میں شکستِ جام آ جائے
تماشہ دیکھنے کیوں جا رہے ہو خونِ ناحق کا
حنائی ہاتھ ہیں تم پر نہ کچھ الزام آ جائے
ہمارا آشیانہ اے باغباں غارت نہ کر دینا
ہمارے بعد ممکن ہے کسی کے کام آ جائے
خدا کے سامنے یوں تک رہا ہے سب کے منہ قاتل
کسی پر بے خطا جیسے کوئی الزام آ جائے
ستم والوں سے پرسش ہو رہی ہے میں یہ ڈرتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو تم پر کوئی الزام آ جائے
قمر اس آبلہ پا راہ رو کی بے بسی توبہ
کہ منزل سامنے ہو اور سر پر شام آ جائے
قمر جلالوی

ہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہو گا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 19
تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا
ہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہو گا
صیاد کا دل اس سے پگھلنا متعذر
جو نالہ کہ آتش فگنِ دام نہ ہو گا
جس سے ہے مجھے ربط وہ ہے کون، کہاں ہے
الزام کے دینے سے تو الزام نہ ہو گا
بے داد وہ اور اس پہ وفا یہ کوئی مجھ سا
مجبور ہوا ہے، دلِ خود کام نہ ہو گا
وہ غیر کے گھر نغمہ سرا ہوں گے مگر کب
جب ہم سے کوئی نالہ سرانجام نہ ہو گا
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
قاصد کو کیا قتل، کبوتر کو کیا ذبح
لے جائے مرا اب کوئی پیغام، نہ ہو گا
جب پردہ اٹھا تب ہے عدو دوست کہاں تک
آزارِ عدو سے مجھے آرام نہ ہو گا
یاں جیتے ہیں امیدِ شبِ وصل پر اور واں
ہر صبح توقع ہے کہ تا شام نہ ہو گا
قاصد ہے عبث منتظرِ وقت، کہاں وقت
کس وقت انہیں شغلِ مے و جام نہ ہو گا
دشمن پسِ دشنام بھی ہے طالبِ بوسہ
محوِ اثرِ لذتِ دشنام نہ ہو گا
رخصت اے نالہ کہ یاں ٹھہر چکی ہے
نالہ نہیں جو آفتِ اجرام، نہ ہو گا
برق آئینۂ فرصتِ گلزار ہے اس پر
آئینہ نہ دیکھے کوئی گل فام، نہ ہو گا
اے اہلِ نظر ذرے میں پوشیدہ ہے خورشید
ایضاح سے حاصل بجز ابہام نہ ہو گا
اس ناز و تغافل میں ہے قاصد کی خرابی
بے چارہ کبھی لائقِ انعام نہ ہو گا
اس بزم کے چلنے میں ہو تم کیوں متردد
کیا شیفتہ کچھ آپ کا اکرام نہ ہو گا
مصطفٰی خان شیفتہ

مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 21
رکھنا یا فہرست میں تم مرا نام نہ رکھنا
مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا
سارے بوسے خاک میں مل گئے آتے آتے
اب کے ہوا کے ہاتھ میں یہ پیغام نہ رکھنا
شب کے مسافر اور پھر ایسی شب کے مسافر
دیکھ ہماری آس چراغِ شام نہ رکھنا
ورنہ خالی ہوجائیں گے سارے خزانے
آئندہ کسی سر پہ کوئی انعام نہ رکھنا
ایسے شور کے شہر میں اتنا مدھم لہجہ
اونچا سننے والوں پر الزام نہ رکھنا
میں چاہوں مرے دل کا لہو کسی کام آجائے
موسم چاہے چہروں کو گلفام نہ رکھنا
عرفان صدیقی

بنایا خاص کسی عام کو ترے غم نے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 562
خراب و خستہ و ناکام کو ترے غم نے
بنایا خاص کسی عام کو ترے غم نے
یہ جانتا ہی نہیں ہے فراق کے آداب
لگا دی آگ درو بام کو ترے غم نے
کھلے ہوئے ہیں درختوں کے بال وحشت سے
رلا دیا ہے عجب شام کو ترے غم نے
میں آنسوئوں کے گہر ڈھونڈتا تھا پہلے بھی
بڑھایا اور مرے کام کو ترے غم نے
بنا دیا ہے جہاں بھر میں معتبر کیا کیا
مجھ ایسے شاعرِ بے نام کو ترے غم نے
بدل دیا ہے یقیں کے گمان میں منصور
فروغِ ہجر کے الزام کو ترے غم نے
منصور آفاق

کہ جل رہا تھا سرِ بام کچھ زیادہ ہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 492
چراغ ہو گیا بدنام کچھ زیادہ ہی
کہ جل رہا تھا سرِ بام کچھ زیادہ ہی
ترے بھلانے میں میرا قصور اتنا ہے
کہ پڑ گئے تھے مجھے کام کچھ زیادہ ہی
میں کتنے ہاتھ سے گزرا یہاں تک آتے ہوئے
مجھے کیا گیا نیلام کچھ زیادہ ہی
ملال گن لئے ہیں ، درد کر لئے ہیں شمار
فسردہ ہے یہ مری شام کچھ زیادہ ہی
تمام عمر کی آوارگی بجا لیکن
لگا ہے عشق کا الزام کچھ زیادہ ہی
بس ایک رات سے کیسے تھکن اترتی ہے
بدن کو چاہیے آرام کچھ زیادہ ہی
سنبھال اپنی بہکتی ہوئی زباں منصور
تُو لے رہا ہے کوئی نام کچھ زیادہ ہی
منصور آفاق

یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 97
ناریل کے درختوں کی شاخوں میں بادام کا پیڑ تھا
یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا
قمقموں سے پرویا ہوا، روشنی سے بھگویا ہوا
برف کے ڈھیر میں سرخ سا زخمِ ناکام کا پیڑ تھا
شاعری نہر کے ساتھ چلتی ہوئی چاپ تھی خواب کی
رات نظموں کی فٹ پاتھ تھی چاند الہام کا پیڑ تھا
میں ثمر باریوں کی توقع لئے دیکھتا تھا اسے
جو کرائے کے گھر میں لگایا ابھی آم کا پیڑ تھا
ایک دہکی ہوئی آگ کے تھے شمالی پہاڑوں پہ پھول
اک دہکتے چناروں میں کشمیر کے نام کا پیڑ تھا
جس کے پتوں سے تصویر کھینچی گئی میرے کردار کی
ٹہنیوں سے کئی جھوٹ لٹکے تھے، الزام کا پیڑ تھا
اک طرف نیکیوں کا شجر تھا سفیدی پھری قبر سا
اک طرف لمس افزا گناہِ سیہ فام کا پیڑ تھا
زلزلے بھی وبائیں بھی سیلاب بھی شاخ درشاخ تھے
ساری بستی پہ پھیلا ہوا کوئی آلام کا پیڑ تھا
سب پھلوں کے مگر مختلف ذائقے ، مختلف رنگ تھے
اپنی تفہیم کے باغ میں تازہ افہام کا پیڑ تھا
جس شجر کی جوانی کومیں چھوڑ آیا بہاروں کے بیچ
گالیاں چھاؤں میں چہچہاتی تھیں دشنام کا پیڑ تھا
کوئی انبوہ تھا اہلِ اسباب کا اس کی آغوش میں
کیا ہوس کار گلزار میں درہم و دام کا پیڑ تھا
برگ و بار اس پہ آئے ہوئے تھے نئی شاعری کے بہت
ایک دریا کے مبہم کنارے پہ ابہام کا پیڑ تھا
آگ ہی آگ تھی اس کی شاخوں میں پھیلی ہوئی لمس کی
باغِ فردوس میں ایک ممنوعہ مادام کا پیڑ تھا
اک جڑوں سے لپیٹی ہوئی موت کی بیل کی چیخ تھی
زندگی ، شورِ واہی تباہی تھی ، سرسام کا پیڑ تھا
جس سے منصور گنتے پرندے پھریں اپنی تنہائیاں
حسنِ تقویم کے صحن میں ایک ایام کا پیڑ تھا
منصور آفاق

کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 24
وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا
بندوق کے دستے پر تحریر تھا امریکا
میں قتل کا بھائی کو الزام نہیں دیتا
کچھ ایسے بھی اندھے ہیں کہتے ہیں خدا اپنا
پیشانی پہ سورج کی کیوں نام نہیں دیتا
رستے پہ بقا کے بس قائم ہے منافع بخش
اْس پیڑ نے کٹنا ہے جو آم نہیں دیتا
اب سامنے سورج کے برسات نہیں ہوتی
دکھ آنکھ نہیں بھرتے غم کام نہیں دیتا
موتی میری پلکوں کے بازار میں رُلتے ہیں
کوئی بھی جواہر کے اب دام نہیں دیتا
اوراقِ گل و لالہ لکھے ہوئے لے جائے
جو صبحِ غزل جیسی اک شام نہیں دیتا
کرداروں کے چہروں پر چھریاں ہیں ابھر آئیں
پھر بھی وہ کہانی کو انجام نہیں دیتا
بیڈ اپنا بدل لینا منصور ضروری ہے
یہ خواب دکھاتا ہے، آرام نہیں دیتا
منصور آفاق

فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 249
علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے
فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے
مری حیات بھی صدمے اٹھا نہیں سکتی
تری نظر کو بھی آرام کی ضرورت ہے
غم جہاں کا تصور بھی جرم ہے اب تو
غم جہاں کو نئے نام کی ضرورت ہے
نظام کہنہ کی باتیں نہ کر کہ اب ساقی
نئی شراب، نئے جام کی ضرورت ہے
ترے لبوں پہ زمانے کی بات ہے باقیؔ
تجھے بھی کیا کسی الزام کی ضرورت ہے
باقی صدیقی

بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 108
دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں
بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے
کچھ جراتیں حیات پر الزام بن گئیں
ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لئے نہ تھیں
پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں
آنے لگا حیات کو انجام کا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں
جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں
باقیؔ جہاں کرے گا مری میکشی پہ رشک
ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں
باقیؔ مال شوق کا آنے لگا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
باقی صدیقی

اور بھی ہیں دنیا کے کام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 15
یاد نہ آؤ صبح و شام
اور بھی ہیں دنیا کے کام
ایسی پیاس کا کیا ہو گا
جب بھی دیکھو تشنہ کام
کوئی تیری بات کرے
ہم پر آتا ہے الزام
کتنے فسانوں کا عنواں
میری نظریں تیرا بام
چپکے چپکے دل سے گزر
دیکھ نہ لے دور ایام
اتنا جرم نہ تھا باقیؔ
جتنے ہوئے ہیں ہم بدنام
باقی صدیقی