ٹیگ کے محفوظات: التماس

فرق نکلا بہت جو باس کیا

دیوان اول غزل 31
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے
ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
کیا پتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں
سو ترے ظلم نے نراس کیا
دیکھا ڈھہتا ہے جن نے خانہ بنا
زیر افلاک سست اساس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں
میر کو تم عبث اداس کیا
میر تقی میر

ہم نے بدل لیا ہے پیالہ گلاس میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 92
وہ عطرِ خاک اب کہاں پانی کی باس میں
ہم نے بدل لیا ہے پیالہ گلاس میں
کل رات آسمان میرا میہماں رہا
کیا جانے کیا کشش تھی مِرے التماس میں
ممنون ہوں میں اپنی غزل کا، یہ دیکھئے
کیا کام کر گئی میرے غم کے نکاس میں
میں قیدِ ہفت رنگ سے آزاد ہو گیا
کل شب نقب لگا کے مکانِ حواس میں
پھر یہ فسادِ فرقہ و مسلک ہے کس لئے
تو اور میں تو ایک ہیں اپنی اساس میں
آفتاب اقبال شمیم

بھٹک رہا ہوں گھاٹ گھاٹ روشنی کی پیاس میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 61
زمینِ پنج آب! تیری چاہتوں کے طاس میں
بھٹک رہا ہوں گھاٹ گھاٹ روشنی کی پیاس میں
نکل نہیں رہیں گھروں سے، سوہنیوں کی خیر ہو
دھوئیں کا ذائقہ ہے آج دھوپ کی مٹھاس میں
اگر مشقتوں کا ہے معاوضہ برہنگی
لگائیں کیوں نہ چل کے آگ پھولتی کپاس میں
ابھی بہے گی خلوتوں سے روشنی شراب کی
بجیں گی نرم قہقہوں کی گھنٹیاں گلاس میں
بنامِ چشم و گوش آئیں فیصلے شکوک کے
مچی ہوئی ہے اک عجیب ابتری حواس میں
وُہ عرضِ مدعا میں پیچ ڈھونڈتے ہی رہ گئے
بہت زیادہ سادگی تھی میرے التماس میں
کہاں ہوں ! آئنے سے کٹ گیا ہے میرا عکس کیا؟
کہ میری شکل آ نہیں رہی مرے قیاس میں
آفتاب اقبال شمیم

التماس

مری آنکھ میں رتجگوں کی تھکاوٹ

مری منتظر راہ پیما نگاہیں

مرے شہرِ دل کی طرف جانے والی

گھٹاؤں کے سایوں سے آباد راہیں

مری صبح تیرہ کی پلکوں پہ آنسو

مری شامِ ویراں کے ہونٹوں پہ آہیں

مری آرزوؤں کی معبود! تجھ سے

فقط اتنا چاہیں، فقط اتنا چاہیں

کہ لٹکا کے اک بار گردن میں میری

چنبیلی کی شاخوں سی لچکیلی بانہیں

ذرا زلفِ خوش تاب سے کھیلنے دے

جوانی کے اک خواب سے کھیلنے دے

مجید امجد

ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 267
دوبارہ کاٹنے آؤ گے… آس ہے سائیاں
ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں
مری دعاؤں پہ چیلیں جھپٹنے والی ہیں
یہ ایک چیخ بھری التماس ہے سائیاں
عجیب شہد سا بھرنے لگا ہے لہجے میں
یہ حرفِ میم میں کیسی مٹھاس ہے سائیاں
تمہارے قرب کی مانگی تو ہے دعا میں نے
مگر یہ ہجر جو برسوں سے پاس ہے سائیاں
جسے ملو وہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
بھرا ہوا بھی کسی کا گلاس ہے سائیاں
ترے بغیر کسی کا بھی دل نہیں لگتا
مرے مکان کی ہر شے اداس ہے سائیاں
ٹھہر نہ جائے خزاں کی ہوا اسے کہنا
ابھی شجر کے بدن پر لباس ہے سائیاں
کوئی دیا کہیں مصلوب ہونے والا ہے
بلا کا رات پہ خوف و ہراس ہے سائیاں
نجانے کون سی کھائی میں گر پڑے منصور
یہ میرا وقت بہت بد حواس ہے سائیاں
منصور آفاق

خواب میں بھی ہراس سے گزرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 26
کیسے وہم و قیاس سے گزرا
خواب میں بھی ہراس سے گزرا
ہر عمارت بہار بستہ ہے
کون چیرنگ کراس سے گزرا
رات اک کم سخن بدن کے میں
لہجہ ء پُر سپاس سے گزرا
پھر بھی صرفِ نظر کیا اس نے
میں کئی بار پاس سے گزرا
رو پڑی داستاں گلے لگ کر
جب میں دیوانِ خاص سے گزرا
عمر بھر عشق ،حسن والوں کی
صبحتِ ناشناس سے گزرا
کیا کتابِ وفا تھی میں جس کے
ایک ہی اقتباس سے گزرا
مثلِ دریا ہزاروں بار بدن
اک سمندر کی پیاس سے گزرا
ہجر کے خارزار میں منصور
وصل کی التماس سے گزرا
منصور آفاق