ٹیگ کے محفوظات: افشاں

منظر وہ ابھی تم نے مری جاں! نہیں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہوتے ہیں بدن کیسے گلستاں، نہیں دیکھا
منظر وہ ابھی تم نے مری جاں! نہیں دیکھا
ہم صبح ومساجان بہ لب حبسِ چمن سے
اور ہم پہ عتاب اُن کو کہ زنداں نہیں دیکھا
جس شاخ کو تھی راس نہ جنبش بھی ہَوا کی
پھل جب سے لُٹے پھر اُسے لرزاں نہیں دیکھا
چھلکا ہے جو آنکھوں سے شبِ جور میں اب کے
ایسا تو کبھی رنجِ فراواں نہیں دیکھا
مدّاح وہی اُس کے سکوں کا ہے کہ جس نے
مہتاب سرِغرب پر افشاں نہیں دیکھا
جب تک ہے تصّرف میں فضا اُس کے بدن کی
ہم کیوں یہ کہیں تختِ سلیماں نہیں دیکھا
دیوار کے کانوں سے ڈرا لگتا ہے شاید
ماجدؔ کو کئی دن سے غزل خواں نہیں دیکھا
ماجد صدیقی

دل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 232
یونہی افزائشِ وحشت کےجو ساماں ہوں گے
دل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے
وجہِ مایوسئ عاشق ہے تغافل ان کا
نہ کبھی قتل کریں گے، نہ پشیماں ہوں گے
دل سلامت ہے تو صدموں کی کمی کیا ہم کو
بے شک ان سے تو بہت جان کے خواہاں ہوں گے
منتشر ہو کے بھی دل جمع رکھیں گے یعنی
ہم بھی اب پیروۓ گیسو ۓ پریشاں ہوں گے
گردشِ بخت نے مایوس کیا ہے لیکن
اب بھی ہر گوشۂ دل میں کئ ارماں ہوں گے
ہے ابھی خوں سے فقط گرمئ ہنگامۂ اشک
پر یہ حالت ہے تو نالے شرر افشاں ہوں گے
باندھ کر عہدِ وفا اتنا تنفّر، ہے ہے
تجھ سے بے مہر کم اے عمرِ گریزاں! ہوں گے
اس قدر بھی دلِ سوزاں کو نہ جان افسردہ
ابھی کچھ داغ تو اے شمع! فروزاں ہوں گے
عہد میں تیرے کہاں گرمئ ہنگامۂ عیش
گل میری قسمت واژونہ پہ خنداں ہوں گے
خوگرِ عیش نہیں ہیں ترے برگشتہ نصیب
اُن کو دشوار ہیں وہ کام جو آساں ہوں گے
موت پھر زیست نہ ہوجاۓ یہ ڈر ہے غالب
وہ مری نعش پہ انگشت بہ دنداں ہوں گے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دامن گل گریۂ خونیں سے سب افشاں ہوا

دیوان دوم غزل 710
وارد گلشن غزل خواں وہ جو دلبر یاں ہوا
دامن گل گریۂ خونیں سے سب افشاں ہوا
طائران باغ کو تھا بیت بحثی کا دماغ
پر ہر اک درد سخن سے میر کے نالاں ہوا
دل کی آبادی کو پہنچا اپنے گویا چشم زخم
دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر سب ویراں ہوا
سبز بختی پر ہے اس کی طائر سدرہ کو رشک
جو شکار اس تیغ کے سائے تلے بے جاں ہوا
خاک پر بھی دوڑتی ہے چشم مہر و ماہ چرخ
کس دنی الطبع کے گھر جا کے میں مہماں ہوا
تھا جگر میں جب تلک قطرہ ہی تھا خوں کا سرشک
اب جو آنکھوں سے تجاوز کر چلا طوفاں ہوا
اس کے میرے بیچ میں آئینہ آیا تھا ولے
صورت احوال ساری دیکھ کر حیراں ہوا
دل نے خوں ہو عشق خوباں میں بھی کیا بدلے ہیں رنگ
چہروں کو غازہ ہوا ہونٹوں کا رنگ پاں ہوا
تم جو کل اس راہ نکلے برق سے ہنستے گئے
ابر کو دیکھو کہ جب آیا ادھر گریاں ہوا
جی سے جانا بن گیا اس بن ہمیں پل مارتے
کام تو مشکل نظر آتا تھا پر آساں ہوا
جب سے ناموس جنوں گردن بندھا ہے تب سے میر
جیب جاں وابستۂ زنجیر تا داماں ہوا
میر تقی میر

تیر تو نکلا مرے سینے سے لیکن جاں سمیت

دیوان اول غزل 182
سب ہوئے نادم پئے تدبیر ہو جاناں سمیت
تیر تو نکلا مرے سینے سے لیکن جاں سمیت
تنگ ہوجاوے گا عرصہ خفتگان خاک پر
گر ہمیں زیرزمیں سونپا دل نالاں سمیت
باغ کر دکھلائیں گے دامان دشت حشر کو
ہم بھی واں آئے اگر مژگان خون افشاں سمیت
قیس و فرہاد اور وامق عاقبت جی سے گئے
سب کو مارا عشق نے مجھ خانماں ویراں سمیت
اٹھ گیا پردہ نصیحت گر کے لگ پڑنے سے میر
پھاڑ ڈالا میں گریباں رات کو داماں سمیت
میر تقی میر

ہو جو زخمی کبھو برہم زدن مژگاں کا

دیوان اول غزل 86
کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا
ہو جو زخمی کبھو برہم زدن مژگاں کا
اٹھتے پلکوں کے گرے پڑتے ہیں لاکھوں آنسو
ڈول ڈالا ہے مری آنکھوں نے اب طوفاں کا
جلوئہ ماہ تہ ابر تنک بھول گیا
ان نے سوتے میں دوپٹے سے جو منھ کو ڈھانکا
لہو لگتا ہے ٹپکنے جو پلک ماروں ہوں
اب تو یہ رنگ ہے اس دیدئہ اشک افشاں کا
ساکن کو کو ترے کب ہے تماشے کا دماغ
آئی فردوس بھی چل کر نہ ادھر کو جھانکا
اٹھ گیا ایک تو اک مرنے کو آبیٹھے ہے
قاعدہ ہے یہی مدت سے ہمارے ہاں کا
کار اسلام ہے مشکل ترے خال و خط سے
رہزن دیں ہے کوئی دزد کوئی ایماں کا
چارئہ عشق بجز مرگ نہیں کچھ اے میر
اس مرض میں ہے عبث فکر تمھیں درماں کا
میر تقی میر

پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 42
پیڑ پر شام کھلی، شاخ سے ہجراں نکلا
پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا
رات نکلی ہیں پرانی کئی چیزیں اس کی
اور کچھ خواب کے کمرے سے بھی ساماں نکلا
نقش پا دشت میں ہیں میرے علاوہ کس کے
کیا کوئی شہر سے پھر چاک گریباں نکلا
خال و خد اتنے مکمل تھے کسی چہرے کے
رنگ بھی پیکرِ تصویر سے حیراں نکلا
لے گیا چھین کے ہر شخص کا ملبوس مگر
والیء شہر پناہ ، بام پہ عریاں نکلا
صبح ہوتے ہی نکل آئے گھروں سے پھر لوگ
جانے کس کھوج میں پھر شہرِ پریشاں نکلا
وہ جسے رکھا ہے سینے میں چھپا کر میں نے
اک وہی آدمی بس مجھ سے گریزاں نکلا
زخمِ دل بھرنے کی صورت نہیں کوئی لیکن
چاکِ دامن کے رفو کا ذرا امکاں نکلا
تیرے آنے سے کوئی شہر بسا ہے دل میں
یہ خرابہ تو مری جان ! گلستاں نکلا
زخم کیا داد وہاں تنگیء دل کی دیتا
تیر خود دامنِ ترکش سے پُر افشاں نکلا
رتجگے اوڑھ کے گلیوں کو پہن کے منصور
جو شبِ تار سے نکلا وہ فروزاں نکلا
منصور آفاق