ٹیگ کے محفوظات: افسوں

اقرارِ محبت بھی کریں کیوں نہیں کرتے

وہ میری امیدوں کا اگر خوں نہیں کرتے
اقرارِ محبت بھی کریں کیوں نہیں کرتے
یہ چشمِ فسوں گر یہ کھنکتی ہوئی آواز
مُنہ پر تو کہیں میرے ہم افسوں نہیں کرتے
کچھ آپ ہی کی گردِ قدم ہو گئے، ورنہ
ہم لوگ کبھی خاطرِ گردوں نہیں کرتے
xیوں دل میں تو دلجوئی پہ راضی ہیں ہماری
جب وقتِ رضا ہو تو کبھی ہوں نہیں کرتے
بد نامیٔ لیلیٰ کا سبب قیس تمہی ہو
ہم لوگ تو مر جاتے ہیں پر یوں نہیں کرتے
دل توڑنے والوں کو دعا دیجیے ضامنؔ
صدیوں کے طریقوں کو دگرگوں نہیں کرتے
ضامن جعفری

کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں

دیوان سوم غزل 1216
مصرع کوئی کوئی کبھو موزوں کروں ہوں میں
کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں
بات اپنے ڈھب کی کوئی کرے وہ تو کچھ کہوں
بیٹھا خموش سامنے ہوں ہوں کروں ہوں میں
اس بن نظر زمین سے سی دی ہے تو کہے
کاہے کو چشم جانب گردوں کروں ہوں میں
اٹھتا ہے بے دماغ ہی ہرچند رات کو
افسانہ کہتے سینکڑوں افسوں کروں ہوں میں
کب بے دماغی شہر سے دیتی ہے اٹھنے میر
یوں تو خیال وادی مجنوں کروں ہوں میں
میر تقی میر

غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں

دیوان سوم غزل 1176
رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں
غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں
دست و دامن جیب و آغوش اپنے اس لائق نہ تھے
پھول میں اس باغ خوبی سے جو لوں تو لوں کہاں
عاشق و معشوق یاں آخر فسانے ہو گئے
جاے گریہ ہے جہاں لیلیٰ کہاں مجنوں کہاں
آگ برسی تیرہ عالم ہو گیا جادو سے پر
اس کی چشم پرفسوں کے سامنے افسوں کہاں
سیر کی رنگیں بیاض باغ کی ہم نے بہت
سرو کا مصرع کہاں وہ قامت موزوں کہاں
کوچہ ہر یک جاے دلکش عالم خاکی میں ہے
پر کہیں لگتا نہیں جی ہائے میں دل دوں کہاں
ایک دم سے قیس کے جنگل بھرا رہتا تھا کیا
اب گئے پر اس کے ویسی رونق ہاموں کہاں
ناصح مشفق تو کہتا تھا کہ اس سے مت ملے
پر سمجھتا ہے ہمارا یہ دل محزوں کہاں
بائو کے گھوڑے پہ تھے اس باغ کے ساکن سوار
اب کہاں فرہاد و شیریں خسرو گلگوں کہاں
کھا گیا اندوہ مجھ کو دوستان رفتہ کا
ڈھونڈتا ہے جی بہت پر اب انھیں پائوں کہاں
تھا وہ فتنہ ملنے کی گوں کب کسی درویش کے
کیا کہیں ہم میر صاحب سے ہوئے مفتوں کہاں
میر تقی میر

تس پہ یہ جان بلب آمدہ بھی محزوں ہے

دیوان اول غزل 572
سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے
تس پہ یہ جان بلب آمدہ بھی محزوں ہے
اس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیونکر تاب
چشم اعجاز مژہ سحر نگہ افسوں ہے
آہ یہ رسم وفا ہووے برافتاد کہیں
اس ستم پر بھی مرا دل اسی کا ممنوں ہے
کبھو اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک ابر تنک
گرد نمناک پریشاں شدئہ مجنوں ہے
کیونکے بے بادہ لب جو پہ چمن میں رہیے
عکس گل آب میں تکلیف مئے گلگوں ہے
پار بھی ہو نہ کلیجے کے تو پھر کیا بلبل
مصرع نالہ جگر کاوی ہے گو موزوں ہے
شہر کتنا جو کوئی ان میں سرشک افشاں ہو
روکش گریۂ غم حوصلۂ ہاموں ہے
خون ہر یک رقم شوق سے ٹپکے تھا ولے
وہ نہ سمجھا کہ مرے نامے کا کیا مضموں ہے
میر کی بات پہ ہر وقت یہ جھنجھلایا نہ کر
سڑی ہے خبطی ہے وہ شیفتہ ہے مجنوں ہے
میر تقی میر