ٹیگ کے محفوظات: افسانے

ہُوا کا رخ نہ پہچانے بگولے

چلے تھے ہم سے ٹکرانے بگولے
ہُوا کا رخ نہ پہچانے بگولے
یہی حاصل ہے ذوقِ رَہ رَوی کا
یہی دوچار ویرانے، بگولے
تمھاری جلوہ گاہیں لالہ و گُل
ہمارے آینہ خانے بگولے
اگر بیٹھا ہُوں سستانے کی خاطر
چلے آئے ہیں سمجھانے بگولے
مِرے قدموں کی مہریں رہ گزر پر
مری جُرأت کے افسانے بگولے
مزاجِ گردشِ دوراں نہ بدلا
رہے گردش میں پیمانے بگولے
مِرا مسلک، شکیبؔ، ان سے جُدا ہے
نہ جوڑیں مجھ سے یارانے بگولے
شکیب جلالی

جس سمت نگاہیں اٹھتی ہیں پیمانے ہی پیمانے ہیں

پلکوں کے نشیلے سایے میں مے خانے ہی مے خانے ہیں
جس سمت نگاہیں اٹھتی ہیں پیمانے ہی پیمانے ہیں
ان سہمی سہمی آنکھوں میں سُرخی ہے مدھر آشاؤں کی
ان اُلجھی اُلجھی سانسوں میں افسانے ہی افسانے ہیں
اُلفت کے سودے کون کرے، نفرت کی جھولی کون بھرے
ہم کاروباری دنیا میں بیگانے ہی بیگانے ہیں
جب موسمِ گُل کی آمد تھی دنیا نے پسارے تھے دامن
اب موسمِ گُل کی رخصت پر دیوانے ہی دیوانے ہیں
تاریک بگولے رقصاں ہیں اک خول چڑھا ہے کرنوں پر
مایوس دلوں کو کیا کہیے، غم خانے ہی غم خانے ہیں
ہر شاخ سے گہنے چھین لیے، ہر ڈال سے موتی بِین لیے
اب کھیت سنہری کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں
کوئی جو انھیں اپنا لیتا بَن باس نہ لیتے دیوانے
آباد گھروندوں میں اے دل بیگانے ہی بیگانے ہیں
شکیب جلالی

ایک خواہش، ہزار تہ خانے

کوئی اِس دل کا حال کیا جانے
ایک خواہش، ہزار تہ خانے
آپ سمجھے نہ ہم ہی پہچانے
کتنے مبہم تھے دل کے افسانے
زِیست کے شور و شر میں ڈوب گئے
وقت کو ناپنے کے پیمانے
پھر ہُوا کوئی بدگماں ہم سے
پھر جنم لے رہے ہیں افسانے
شوخیِ برق ہے نہ رقصِ نسیم
سوگئے ہیں بہار کے شانے
کتنا مشکل ہے منزلوں کا حُصول
کتنے آساں ہیں جال پھیلانے
دُور سے ایک چیخ اُبھری تھی
بن گئے بے شُمار افسَانے
موت نے آج خود کُشی کرلی
زیست پر کیا بنی خُدا جانے
راز یہ ہے کہ کوئی راز نہیں
لوگ پھر بھی مجھے نہ پہچانے
وقت نے یہ کہا ہے رُک رُک کر
آج کے دوست کل کے بیگانے
شکیب جلالی

اک نیا دور ہو ساقی، نئے پیمانے کا

خواب آلودہ ہے ماحول، طرب خانے کا
اک نیا دور ہو ساقی، نئے پیمانے کا
وہ اگر اپنی نگاہوں سے اشارہ کردیں
لُطف آجائے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
جام دیتے ہوئے نظریں نہ ملا اے ساقی
پھر چھلک جائے گا ساغر کسی دیوانے کا
دو نگاہوں کا تصادم، دو دلوں کی فریاد
وہ ہے آغاز، یہ انجام ہے افسانے کا
یہ بدلتا ہوا موسم، یہ اداسی، یہ سُکوت
اک تصوّر ہے گُلستاں میں بھی ویرانے کا
ایسی باتوں کا نہ کہنا ہی مناسب ہے، شکیبؔ
دل کہیں ٹوٹ نہ جائے کسی دیوانے کا
شکیب جلالی

زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
فرق نہ سمجھیں کچھ دھُتکارے جانے میں
زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں
پیڑ بحالِ ضعف بھی ہے مسرور لگا
خشک زبانوں کے پرچم لہرانے میں
پر ٹُوٹے اور ساتھ ہوا نے چھوڑ دیا
سطر بڑھا دو یہ بھی اب افسانے میں
لو اس کو بھی تکڑی تول جو رکھتا تھا
وقت نے دیر نہ کی عادل ٹھہرانے میں
اپنی جگہ امید سے پیروکار سبھی
رہبر محو ہے ماجد، مال بنانے میں
ماجد صدیقی

لوگ تماشا بننے سے کترانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
حق طلبی سے اب کے دھیان ہٹانے لگے ہیں
لوگ تماشا بننے سے کترانے لگے ہیں
نرم ہوا کانٹوں سے الجھنا سیکھ رہی ہے
اور بگولے پھولوں کو سہلانے لگے ہیں
مہلتِ شر کو دیکھ کے جو ابلیس نے پائی
خیر کے جتنے قصّے ہیں افسانے لگے ہیں
صاحبِ قامت، اور بلندیِ فرق کی خاطر
سب کوتاہ قدوں کو پاس بلانے لگے ہیں
زردیِ رنگ پہ شور مچانے والے پتّے
ابر کے ہاتھوں ماجد خوب ٹھکانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
موسمِ گل کے رنگ تو آنے جانے ہیں
ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں
ہم نے پانے کو تیرے اقرار کی نم
کونجوں جیسے حرف زباں پر لانے ہیں
خوشبو کے مرغولے ،رنگت پُھولوں کی
بھنوروں کے ایسے ہی ٹھور ٹھکانے ہیں
تجھ سے ملنا اور پھر تیرا ہو جانا
ایک حقیقت ،باقی سب افسانے ہیں
قرب ترے کی، چھاؤں میں جا رُکنے کو
دشت کی آنچ میں ہم نے پنکھ جلانے ہیں
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

انت نجانے کیا ٹھہرے اِس ناٹک، اِس افسانے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کیا کیا کچھ زوروں پہ نہیں ہے، کام ہمیں بہلانے کا
انت نجانے کیا ٹھہرے اِس ناٹک، اِس افسانے کا
کب سے پھُونکیں مار رہا ہے، لا کے گرفت میں جگنو کو
بندر نے فن سیکھ لیاہے اپنا گھر گرمانے کا
اِک جیسے انداز ہیں جس کے، سب تیور اِک جیسے ہیں
جانے کب اعلان کرے، وُہ موسم باغ سے جانے کا
اِک جانب پُچکار لبوں پر، ہاتھ میں دُرّہ اُس جانب
تانگے والا جان چکا، گُر گُھوڑا تیز چلانے کا
چھوڑ نہیں دیتے کیوں ماجدؔ یہ بیگار کی مزدوری
کس نے تمہیں آزار دیا یہ لکھنے اور لکھانے کا
ماجد صدیقی

مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
ڈھنگ جِسے آئے سب کو بہلانے کا
مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا
ویسا ہی، کنکر ہو جیسے کھانے میں
بزم میں تھا احساس کسی بیگانے کا
کام نہ کیونکر ہم بھی یہی اَب اپنا لیں
ساری اچّھی قدریں بیچ کے کھانے کا
وُہ چنچل جب بات کرے تو، گُر سیکھے
بادِصبا بھی اُس سے پھُول کھِلانے کا
پُوچھتے کیا ہو پیڑ تلک جب ٹُوٹ گرے
حال کہیں کیا ہم اپنے کاشانے کا
آیا ہے وُہ دَور کہ باغ میں پھُولوں کو
گرد بھی کرتب دِکھلائے سہلانے کا
جوڑتے ہو کیوں سُوکھے پتّے شاخوں سے
حاصل کیا؟ پچھلی باتیں دہرانے کا
ماجدؔ ہر کردار ہی جس کا شاطر ہے
جانے کیا عنوان ہو اُس افسانے کا
ماجد صدیقی

شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 59
ہم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک
دیکھیے محفلِ ساقی کا نتیجہ کیا ہوا
بات شیشے کی پہنچنے لگی پیمانے تک
صبح ہوئی نہیں اے عشق یہ کیسی شب ہے
قیس و فرہاد کے دہرا لئے افسانے تک
پھر نہ طوفان اٹھیں گے نہ گرے گی بجلی
یہ حوادث ہیں غریبوں ہی کے مٹ جانے تک
میں نے ہر چند بلا ٹالنی چآ ہی لیکن
شیخ نے ساتھ نہ چھوڑا مرا میخانے تک
وہ بھی کیا دن تھے گھر سے کہیں جاتے ہی نہ تھے
اور گئے بھی تو فقط شام کو میخانے تک
میں وہاں کیسے حقیقت کو سلامت رکھوں
جس جگہ رد و بدل ہو گئے افسانے تک
باغباں فصلِ بہار آنے کا وعدہ تو قبول
اور اگر ہم نے رہے فصلِ بہار آنے تک
اور تو کیا کہیں اے شیخ تری ہمت پر
کوئی کافر ہی گیا ہو ترے میخانے تک
اے قمر شام کا وعدہ ہے وہ آتے ہوں گے
شام کہلاتی ہے تاروں کے نکل آنے تک
قمر جلالوی

صراحی جھک گئی اٹھے ادب سے پیمانے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 5
وہ مہتمم ہیں جہاں بھی گئے دیوانے
صراحی جھک گئی اٹھے ادب سے پیمانے
جب آئے تھے مجھے وحشت میں لوگ سمجھانے
نہ جانے آپ کو کیا کیا کہا تھا دنیا نے
سنائے کوئی کہاں تک جنوں کے افسانے
نہ جانے ہو گئے آباد کتنے ویرانے
زمینِ عشق میں ہیں دفن وہ بھی دیوانے
نہ جن کے نام کی شہرت نہ جن کے افسانے
کمالِ حسن بناتا ہے عشق کو دشمن
فروغِ شمع سے جلنے لگے ہیں پروانے
نہ رکھ قفس میں مگر طعنۂ قفس تو نہ دے
کہ ہم بھی چھوڑ کر آئیں ہیں اپنے خس خانے
یہ عشق ہے جسے پرواہ حسن کی بھی نہیں
کہ شمع روتی ہے اور سو رہے ہیں پروانے
جہاں سے عشق نے رودادِ غم کو چھوڑ دیا
شروع میں نے وہاں سے کئے ہیں افسانے
وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمر
کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے
قمر جلالوی

افسانے

پھر کلی بن کے کوئی ناچتی آہٹ نہ کھلی

پھر کوئی بنسی نہ بجی

ریگ زاروں کے تپکتے سے، چمکتے سے نشیب

منزلِ لیلیٰ کے فریب

قصرِ پرویز کی دہلیز پہ روندی ہوئی سل

دل، کسی فرہاد کا دل

اک بھنور، ایک گھڑا، ایک خیالِ محبوب

سو دکھی روحوں کا غروب

برف انبار دیاروں کے کسی پھول کا دھیان

پر جلی تتلی کی اڑان!

ہاں یہ سب جھلسی روایات ہیں اگنی بھرے خواب

دشتِ حقیقت کے سراب

ہاں یہ سب کچھ فقط آرائشِ افسانہ سہی

صورتِ دنیا نہ سہی

پھر بھی سچ پوچھو تو یہ آندھیاں چلتی بھی رہیں

مشعلیں جلتی بھی رہیں

کاش میں بھی ترے سوچوں بھرے نینوں میں جلوں

اک فسانے میں ڈھلوں

مجید امجد

کب آئیں گے وہ من مانے زمانے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 65
مہکتے، میٹھے، مستانے زمانے
کب آئیں گے وہ من مانے زمانے
جو میرے کنجِ دل میں گونجتے ہیں
نہیں دیکھے وہ دنیا نے زمانے
تری پلکوں کی جنبش سے جو ٹپکا
اسی اک پل کے افسانے زمانے
تری سانسوں کی سوغاتیں بہاریں
تری نظروں کے نذرانے زمانے
کبھی تو میری دنیا سے بھی گزرو
لیے آنکھوں میں اَن جانے زمانے
انہی کی زندگی جو چل پڑے ہیں
تری موجوں سے ٹکرانے، زمانے!
میں فکر رازِ ہستی کا پرستار
مری تسبیح کے دانے زمانے
مجید امجد

عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 32
چلے ہیں ایک زمانے کے بعد دیوانے
عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے
ادا شناس نگاہیں بھی کھا گئیں دھوکا
یہ کس لباس میں نکلے ہیں تیرے دیوانے
کسی امید پہ پھر بھی نظر بھٹکتی ہے
اگرچہ چھان چکے ہیں دلوں کے ویرانے
کہیں نہ روشنی پاؤ گے میرے دل کے سوا
کہاں چلے ہو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے
تری نگاہ نے رستہ بدل دیا ورنہ
چلے تھے ہم بھی غم زندگی کو اپنانے
بہار انجمن شب میں اب وہ بات کہاں
ہزار شمع جلے، لاکھ آئیں پروانے
پر ایک بات زباں پر نہ آ سکی باقیؔ
کہاں کہاں کے سنائے ہیں ہم نے افسانے
باقی صدیقی