ٹیگ کے محفوظات: افسانہ

اب شمع بکف پھرتا ہے دیوانہِ مہتاب

اوجھل ہوا نظروں سے ضیا خانہِ مہتاب
اب شمع بکف پھرتا ہے دیوانہِ مہتاب
بخشی ہیں تحیّر کی نگاہوں کو پناہیں
دائم رہے آباد صنم خانہِ مہتاب
ڈھونڈے نہ ملی جاے سکُوں قریہِ شب میں
کاندھے پہ اٹھائے پھرے کاشانہِ مہتاب
پھِر اُڑنے لگے گیسوے غم دوشِ فضا پر
پھر کوئی چھلکتا ہوا پیمانہِ مہتاب
شمعیں نہ بھڑک اٹھیں شبستانِ جنوں کی
ہم کہتے ہوئے ڈرتے ہیں افسانہِ مہتاب
تم سے تو کوئی فیض نہیں عرش نشینو
ہم خاک بسر، لائے ہیں نذرانہِ مہتاب
شکیب جلالی

بُجھ رہی تھی شمعِ محفل، رقص میں پروانہ تھا

میری ناکامی کا افسانہ بھی کیا افسانہ تھا
بُجھ رہی تھی شمعِ محفل، رقص میں پروانہ تھا
ملتی جلتی داستاں وجہِ غلط فہمی ہوئی
آپ شرمندہ نہ ہوں یہ میرا ہی افسانہ تھا
کشمکش کی زَد میں تھا انساں کا ذوقِ بندگی
ایک جانب تیرا کعبہ، اک طرف بُت خانہ تھا
میرے غم انگیز نغمے جانِ محفل بن گئے
ورنہ تیرا سازِ مطرب سوز سے بیگانہ تھا
ان کی آنکھوں نے کبھی بخشا تھا کیفِ بے خودی
زندگی مسرور تھی اور وَجد میں مے خانہ تھا
آبدیدہ ہو گئے اہلِ ستم بھی، اے شکیبؔ
ہائے کتنا سوز میں ڈوبا ہوا افسانہ تھا
شکیب جلالی

پِھر کیسے دِوانے کو دِیوانہ کَہا جائے

وحشَت کا نہ ذِکر آئے صحرا نہ کَہا جائے
پِھر کیسے دِوانے کو دِیوانہ کَہا جائے
یہ کِس کی ضَرورَت ہے معلوم تَو ہو یارو
کیوں پیشِ نَظَر مَنظَر اَفسانہ کہا جائے
کیوں خُون کے قَطروں پَر تحقیق نہ ہو صاحب
کیوں خُون کے قَطرے کو دَریا نہ کَہا جائے
بولے نہ سُنے کوئی یوں تَو تِری بَستی میں
جَب خُود سے کَروں باتیَں دِیوانہ کَہا جائے
ہم خواب بَہاروں کے دیکھیں یہ اِجازِت ہے
قَدغَن یہ ہے خوابوں کو سَچّا نہ کَہا جائے
خُوش ہُوں کہ وہ بَس میری ہی جان کا دُشمَن ہے
اَچّھا نَہیِں لَگتا گَر میرا نہ کَہا جائے
تُم دِل میں تَو رہتے ہو خوابوں میں نہیں آتے
اِس طَرح کے رہنے کو رہنا نہ کَہا جائے
جَب تَک مِری آنکھوں میں وہ جھانک نہ لیں ضامنؔ
صحرا کو نہ وحشت کا پیمانہ کَہا جائے
ضامن جعفری

نظروں کا تصادم ہے ہم کو تمہیدِ شکستِ پیمانہ

ہیں مستِ بادہِ حُسنِ صَنَم کیا رُخ کریں سُوئے میخانہ
نظروں کا تصادم ہے ہم کو تمہیدِ شکستِ پیمانہ
تمہیدِ محبّت کیا کہیے شرحِ غمِ ہجراں کیا کیجے
ہر ایک نظر اِک عنواں ہے ہر موجِ نَفَس اِک افسانہ
کیا غمزہِ چشمِ سرمہ سا غارت گرِ ہوش و عقلِ رسا
کیا وصفِ نگاہِ ہوشرُبا کر جائے جو خود سے بیگانہ
پائینِ غبارِ راہِ جنوں پھر شورِ سلاسل سُنتا ہُوں
ہو مژدہ وادیِ نجد تجھے پھر آتا ہے کوئی دیوانہ
اے محرَمِ سرِّ عشق بتا ہوتا ہے جب اُس کوچے سے گذر
آجاتی ہے لغزش چال میں کیوں کیا ڈھونڈے نظر بیتابانہ
اعزازِ کمالِ جذب و جنوں ہُوں عالَمِ وحشَت میں ضامنؔ
مِری مُشتِ خاک آگے آگے مِرے پیچھے پیچھے ویرانہ
ضامن جعفری

کُچھ روز اَپنے آپ سے بیگانہ ہو کے دیکھ

ہوش و خِرَد فَریب ہیں دِیوانہ ہو کے دیکھ
کُچھ روز اَپنے آپ سے بیگانہ ہو کے دیکھ
پھِر دیکھیو کہاں کا خلوص اُور کہاں کا عشق
مَنظَر سے کَٹ ذَرا، ذرا اَفسانہ ہو کے دیکھ
مَت پُوچھ رَبطِ ساقی و میِنا و بادہ خوار
سَب راز کھُلتے جائیں گے پیمانہ ہو کے دیکھ
کیا جانے کَب سے ٹھوکروں میں تھا اِک اہلِ ہوش
آخر ضَمِیر چیخا کہ دیوانہ ہو کے دیکھ
سَمجھا رَہا ہُوں دیکھئے کَب تَک سَمَجھ میں آئے
اَپنا ہی ہو کے دیکھ لے میرا نہ ہو کے دیکھ
ضامنؔ! مُصِر ہے کَب سے کِسی کی نگاہِ ناز
خُودسوز! شَمعِ حُسن کا پَروانہ ہو کے دیکھ
ضامن جعفری

کچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی

کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی
کچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی
صبح دم دیکھا تو سارا باغ تھا گل کی طرف
شمع کے تابوت پر رویا نہ پروانہ کوئی
خلوتوں میں روئے گی چھپ چھپ کے لیلائے غزل
اس بیاباں میں نہ اب آئے گا دِیوانہ کوئی
ہمنشیں خاموش، دیواریں بھی سنتی ہیں یہاں
رات ڈھل جائے تو پھر چھیڑیں گے افسانہ کوئی
ناصر کاظمی

پھر صبا لائی ہے پیمانۂ گل

وا ہوا پھر درِ میخانۂ گل
پھر صبا لائی ہے پیمانۂ گل
زمزمہ ریز ہوے اہلِ چمن
پھر چراغاں ہوا کاشانۂ گل
رقص کرتی ہُوئی شبنم کی پری
لے کے پھر آئی ہے نذرانۂ گل
پھول برسائے یہ کہہ کر اُس نے
میرا دیوانہ ہے دیوانۂ گل
پھر کسی گل کا اشارہ پا کر
چاند نکلا سرِ میخانۂ گل
پھر سرِ شام کوئی شعلہ نوا
سو گیا چھیڑ کے افسانۂ گل
آج غربت میں بہت یاد آیا
اے وطن تیرا صنم خانۂ گل
آج ہم خاک بسر پھرتے ہیں
ہم سے تھی رونقِ کاشانۂ گل
ہم پہ گزرے ہیں خزاں کے صدمے
ہم سے پوچھے کوئی افسانۂ گل
کل ترا دَور تھا اے بادِ صبا
ہم ہیں اب سرخیٔ افسانۂ گل
ہم ہی گلشن کے امیں ہیں ناصر
ہم سا کوئی نہیں بیگانۂ گل
ناصر کاظمی

بڑا مہنگا پڑا یارانۂ دل

خوب تھا رہتے جو بیگانۂ دل
بڑا مہنگا پڑا یارانۂ دل
ایک وہ جس کا ہے دل دیوانہ
ایک میں ہوں کہ ہوں دیوانۂ دل
خاک تو پہلے بھی اُڑتی تھی مگر
تجھ سے آباد تھا ویرانۂ دل
آج وہ گھر ہے کھنڈر سا ویراں
جس پہ تحریر تھا کاشانۂ دل
اک ذرا لہر اٹھی اور چھلکا
کیا بھرا رہتا تھا پیمانۂ دل
ابھی باقی ہے طلب آنکھوں میں
ہے ادھورا ابھی افسانۂ دل
جس قدر پی سکو پی لو باصرِؔ
بند ہونے کو ہے میخانۂ دل
باصر کاظمی

سُن تو لیتا وُہ مری گو بات بچگانہ سہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
ٹھیک ہے طرزِ کرم اُس بُت کی جانانہ سہی
سُن تو لیتا وُہ مری گو بات بچگانہ سہی
گوہرِ مقصود کی دُھن ہے تو پھر کیا دیکھنا
جو کہے کہہ لے، چلن اپنا گدایانہ سہی
اُس نے کرنا تھا کسی کو تو نظر انداز بھی
بزم میں اُس شوخ کی میں ہی وُہ بیگانہ سہی
جانتے ہیں کچھ ہمِیں، ہے حالِ دل اندر سے کیا
دیکھنے میں ٹھاٹھ اِس بستی کے شاہانہ سہی
سیج تھی شاید کوئی، نَے وصل کی شب تھی کوئی
تم سے تھی منسوب جو ہر بات افسانہ سہی
ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جنوں کی رفعتیں
زیست میں ماجدؔ اگرچہ لاکھ فرزانہ سہی
ماجد صدیقی

کوئی تو سمجھادیا رِ غیر میں اپنا ہمیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 62
یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں
کوئی تو سمجھادیا رِ غیر میں اپنا ہمیں
وہ کہ جن کے ہاتھ میں تقدیرِ فصل گُل رہی
دے گئے سُوکھے ہُوئے پتوں کا نذرانہ ہمیں
وصل میں تیرے خرابے بھی لگیں گھر کی طرح
اور تیرے ہجر میں بستی بھی ویرانہ ہمیں
سچ تمھارے سارے کڑوے تھے،مگر اچھے لگے
پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ ہمیں
اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اِتنی دُور ہو
ایک اُلجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں
سُنتے ہیں قیمت تمھاری لگ رہی ہے آج کل
سب سے اچھے دام کس کے ہیں ،یہ بتلانا ہمیں
تاکہ اُس خوش بخت تاجر کو مبارکباد دیں
اور اُس کے بعد دل کو بھی ہے سمجھانا ہمیں
پروین شاکر

اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 51
کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم
اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم
دل عجب شے ہے یہ پھر کہتے ہیں آزادانہ ہم
چاہے جب کعبہ بنا لیں چاہے جب بت خانہ ہم
داستانِ غم پہ وہ کہتے ہیں یوں ہے یوں نہیں
بھول جاتے ہیں جو دانستہ کہیں افسانہ ہم
اپنے در سے آ جائے ساقی ہمیں خالی نہ پھیر
مے کدے کی خیر ہو آتے نہیں روزانہ ہم
مسکرا دیتا ہے ہر تارا ہماری یاد پر
بھول جاتے ہیں قمر اپنا اگر افسانہ ہم
قمر جلالوی

وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 23
اگر چھوٹا بھی اس سے آئینہ خانہ تو کیا ہو گا
وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہو گا
بھلا اہلِ جنوں سے ترکِ ویرانہ تو کیا ہو گا
خبر آئے گی ان کی ان کا اب آنا تو کیا ہو گا
سنے جاؤ جہاں تک سن سکو جن نیند آئی گی
وہیں ہم چھوڑ دیں گے ختم افسانہ تو کیا ہو گا
اندھیری رات، زِنداں، پاؤں میں زنجیریں، تنہائی
اِس عالم میں نہ مر جائے گا دیوانہ تو کیا ہو گا
ابھی تو مطمئن ہو ظلم کا پردہ ہے خاموشی
اگر منہ سے بول اٹھا یہ دیوانہ تو کیا ہو گا
جنابِ شیخ ہم تو رند ہیں چلو سلامت ہے
جو تم نے توڑ ڈالا یہ پیمانہ تو کیا ہو گا
یہی ہے گر خوشی تو رات بھر گنتے رہو تارے
قمر اس چاندنی میں ان کا اب آنا تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 21
ہوا شب کو عبث مئے کے لئے جانا تو کیا ہو گا
اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا
چمن والو قفس کی قید بے میعاد ہوتی ہے
تمھیں آؤ تو آ جانا میرا آنا تو کیا ہو گا
گرا ہے جام خود ساقی سے اس پر حشر برپا ہے
مرے ہاتھوں سے چھوتے گا پیمانہ تو کیا ہو گا
جگہ تبدیل کرنے کو تو کر لوں ساقی میں
وہاں بھی آ سکا مجھ تک نہ پیمانہ تو کیا ہو گا
بہارِ گل بنے بیٹھے ہو تم غیروں کی محفل میں
کوئی ایسے میں ہو جائے دیوانہ تو کیا ہو گا
سرِ محشر مجھے دیکھا تو وہ دل میں یہ سوچیں گے
جو پہچانا تو کیا ہو گا نہ پہچانا تو کیا ہو گا
حفاظت کے لئے اجڑی ہوئی محفل میں بیٹھے ہیں
اڑا دی گر کسی نے خاکِ پروانہ تو کیا ہو گا
زباں تو بند کرواتے ہو تم اللہ کے آگے
کہا ہم نے اگر آنکھوں سے افسانہ تو کیا ہو گا
قمر اس اجنبی محفل میں تم جاتے تو ہو لیکن
وہاں تم کو کسی نے بھی نہ پہچانا تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے

دیوان ششم غزل 1895
ہم رو رو کے درد دل دیوانہ کہیں گے
جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے
سودائی و رسوا و شکستہ دل و خستہ
اب لوگ ہمیں عشق میں کیا کیا نہ کہیں گے
دیکھے سو کہے کوئی نہیں جرم کسو کا
کہتے ہیں بجا لوگ بھی بیجا نہ کہیں گے
ہوں دربدر و خاک بسر چاک گریباں
اس طور سے کیونکر مجھے رسوا نہ کہیں گے
ویرانے کو مدت کے کوئی کیا کرے تعمیر
اجڑی ہوئی آبادی کو ویرانہ کہیں گے
میں رویا کڑھا کرتا ہوں دن رات جو درویش
من بعد مرے تکیے کو غم خانہ کہیں گے
موقوف غم میر کہ شب ہوچکی ہمدم
کل رات کو پھر باقی یہ افسانہ کہیں گے
میر تقی میر

میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو

دیوان پنجم غزل 1704
دل کھلتا ہے واں صحبت رندانہ جہاں ہو
میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو
ان بکھرے ہوئے بالوں سے خاطر ہے پریشاں
وے جمع ہوئے پر ہیں بلا شانہ جہاں ہو
رہنے سے مرے پاس کے بدنام ہوئے تم
اب جاکے رہو واں کہیں رسوا نہ جہاں ہو
کچھ حال کہیں اپنا نہیں بے خودی تجھ کو
غش آتا ہے لوگوں کو یہ افسانہ جہاں ہو
کیوں جلتا ہے ہر جمع میں مانند دیے کے
اس بزم میں جا شمع سا پروانہ جہاں ہو
ان اجڑی ہوئی بستیوں میں دل نہیں لگتا
ہے جی میں وہیں جا بسیں ویرانہ جہاں ہو
وحشت ہے خردمندوں کی صحبت سے مجھے میر
اب جا رہوں گا واں کوئی دیوانہ جہاں ہو
میر تقی میر

حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا جانا ہے

دیوان چہارم غزل 1523
دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے
حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا جانا ہے
اس کی نگاہ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں
یعنی دل پہلو میں میرے تیرستم کا نشانہ ہے
دل جو رہے تو پائوں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں
صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے
سرخ کبھو آنسو ہیں ہوتے زرد کبھو ہے منھ میرا
کیا کیا رنگ محبت کے ہیں یہ بھی ایک زمانہ ہے
اس نومیدی بے غایت پر کس مقدار کڑھا کریے
دو دم جیتے رہنا ہے تو قیامت تک مر جانا ہے
فرصت کم ہے یاں رہنے کی بات نہیں کچھ کہنے کی
آنکھیں کھول کے کان جو کھولو بزم جہاں افسانہ ہے
فائدہ ہو گا کیا مترتب ناصح ہرزہ درائی سے
کس کی نصیحت کون سنے ہے عاشق تو دیوانہ ہے
تیغ تلے ہی اس کے کیوں نہ گردن ڈال کے جا بیٹھیں
سر تو آخرکار ہمیں بھی خاک کی اور جھکانا ہے
آنکھوں کی یہ مردم داری دل کو کسو دلبر سے ہے
طرزنگہ طراری ساری میر تمھیں پہچانا ہے
میر تقی میر

جوش غم سے جی جو بولایا سو دیوانہ ہوا

دیوان سوم غزل 1093
دل عجب چرچے کی جاگہ تھی سو ویرانہ ہوا
جوش غم سے جی جو بولایا سو دیوانہ ہوا
بزم عشرت پر جہاں کی گوش وا کر جاے چشم
آج یاں دیکھا گیا جو کچھ کل افسانہ ہوا
دیر میں جو میں گدایانہ گیا اودھر کہا
شاہ جی کہیے کدھر سے آپ کا آنا ہوا
کیا کہیں حسرت لیے جیسے جہاں سے کوئی جائے
یار کے کوچے سے اپنا اس طرح جانا ہوا
میر تیر ان جورکیشوں کے جو کھائے بے شمار
چھاتی اب چھلنی ہے میری ہے جگر چھانا ہوا
میر تقی میر

جی میں ہے کبھو حال غریبانہ کہیں گے

دیوان اول غزل 646
ہم رو رو کے درد دل دیوانہ کہیں گے
جی میں ہے کبھو حال غریبانہ کہیں گے
موقوف غم میر کی شب ہوچکی ہمدم
کل رات کو پھر باقی یہ افسانہ کہیں گے
میر تقی میر

دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 275
ہاں اے دلِ دیوانہ حریفانہ اٹھا لے
دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے
خاک اڑتی ہے سینے میں بہت رقص نہ فرما
صحرا سے مری جان پری خانہ اٹھا لے
تم کیا شررِ عشق لیے پھرتے ہو صاحب
اس سے تو زیادہ پرِ پروانہ اٹھا لے
یار اتنے سے گھر کے لیے یہ خانہ بدوشی
سر پر ہی اٹھانا ہے تو دُنیا نہ اٹھا لے
پھر بار فقیروں کا اٹھانا مرے داتا
پہلے تو یہ کشکولِ فقیرانہ اٹھا لے
جو رنج میں اس دل پہ اٹھایا ہوں اسے چھوڑ
تو صرف مرا نعرۂ مستانہ اٹھا لے
آسان ہو جینے سے اگر جی کا اٹھانا
ہر شخص ترا عشوۂ ترکانہ اٹھا لے
لو صبح ہوئی موجِ سحر خیز ادھر آئے
اور آکے چراغِ شبِ افسانہ اٹھا لے
ہم لفظ سے مضمون اٹھا لاتے ہیں جیسے
مٹی سے کوئی گوہرِ یک دانہ اٹھا لے
عرفان صدیقی

مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 348
زمانہ… تجھ کو کیا حاصل ہوا قصہ بنانے میں
مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں
غزل کہنا پڑی ایسے سخن آباد میں مجھ کو
خدا مصلوب ہوتے ہیں جہاں مصرعہ بنانے میں
نجانے کون سے دکھ کی اداسی کا تعلق ہے
مری اس سائیکی کو اتنا رنجیدہ بنانے میں
تجھے دل نے کسی بہتر توقع پر بلایا تھا
لگے ہو تم مسائل اور پیچیدہ بنانے میں
اگر آ ہی گئے ہو تو چلو آؤ یہاں بیٹھو
ذرا سی دیر لگنی ہے مجھے قہوہ بنانے میں
کسے معلوم کیا کیا کر دیا قربان آنکھوں نے
یہ تنہائی کی آبادی، یہ ویرانہ بنانے میں
مری صبح منور کی جسے تمہید بننا تھا
کئی صدیاں لگا دی ہیں وہ اک لمحہ بنانے میں
کہاں سے آ گئی اتنی لطافت جسم میں میرے
شبیں ناکام پھرتی ہیں مرا سایہ بنانے میں
کھڑا ہے لاش پر میری وہ کیسی تمکنت کے ساتھ
جسے تکلیف ہوتی تھی مجھے زینہ بنانے میں
مرے منزل بکف جن پہ تُو طعنہ زن دکھائی دے
یہ پاؤں کام آئے ہیں ترا رستہ بنانے میں
مجھ ایسے آسماں کو گھر سے باہر پھینکنے والو
ضرورت چھت کی پڑتی ہے کوئی کمرہ بنانے میں
کہیں رہ جاتی تھیں آنکھیں کہیں لب بھول جاتا تھا
بڑی دشواریاں آئیں مجھے چہرہ بنانے میں
پلٹ کر دیکھتے کیا ہو۔ صفِ دشمن میں یاروں کو
بڑے ماہر ہیں اپنے دل کو یہ کوفہ بنانے میں
کسی کرچی کے اندر کھو گیا میرا بدن مجھ سے
جہانِ ذات کو اک آئینہ خانہ بنانے میں
مٹھاس ایسے نہیں آئی مرے الفاظِ تازہ میں
لگی ہے عمر مجھ کو دودھ کا چشمہ بنانے میں
بڑا دل پھینک ہے یہ دل بڑی آوارہ آنکھیں ہیں
کوئی عجلت ہوئی شاید دل و دیدہ بنانے میں
کسی ہجرِ مسلسل کا بڑا کردار ہے منصور
محبت کی کہانی اتنی سنجیدہ بنانے میں
انا الحق کی صداؤں میں کہیں گم ہو گیا میں بھی
اسے منصور اپنی ذات کا حصہ بنانے میں
مرے ہمزاد اپنا آپ نادیدہ بنانے میں
تجھے کیا مل گیا آنکھوں کو لرزیدہ بنانے میں
منصور آفاق

یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 200
آنسوئوں کے عکس دیواروں پہ بکھرانا غلط
یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط
وہ پرندوں کے پروں سے نرم، بادل سے لطیف
یہ چراغِ طور کے جلووں سے سنولانا غلط
جاگ پڑتے ہیں دریچے اور بھی کچھ چاپ سے
اس گلی میں رات کے پچھلے پہر جانا غلط
درد کے آتش فشاں تھم، کانپتی ہیں دھڑکنیں
یہ مسلسل دل کے کہساروں کا پگھلانا غلط
کون واشنگٹن کو دے گا ایک شاعر کا پیام
قیدیوں کو بے وجہ پنجروں میں تڑپانا غلط
ان دنوں غم ہائے جاناں سے مجھے فرصت نہیں
اے غمِ دوراں ترا فی الحال افسانہ غلط
ایک دل اور ہر قدم پر لاکھ پیمانِ وفا
اپنے ماتھے کو ہر اک پتھر سے ٹکرانا غلط
ایک تجریدی تصور ہے یہ ساری کائنات
ایسے الجھے مسئلے بے کار۔ سلجھانا غلط
وقت کا صدیوں پرانا فلسفہ بالکل درست
یہ لب و عارض غلط، یہ جام و پیمانہ غلط
کیا بگڑتا اوڑھ لیتا جو کسی تتلی کی شال
شاخ پر کھلنے سے پہلے پھول مرجھانا غلط
کچھ بھروسہ ہی نہیں کالے سمندر پر مجھے
چاند کا بہتی ہوئی کشتی میں کاشانہ غلط
زندگی کیا ہے۔ ٹریفک کا مسلسل اژدہام
اس سڑک پر سست رفتاری کا جرمانہ غلط
جس کے ہونے اور نہ ہونے کی کہانی ایک ہے
اُس طلسماتی فضا سے دل کو بہلانا غلط
منہ اندھیرے چن کے باغیچے سے کچھ نرگس کے پھول
یار بے پروا کے دروازے پہ دھر آنا غلط
پھر کسی بے فیض سے کر لی توقع فیض کی
پھر کسی کو ایسا لگتا ہے کہ پہچانا غلط
زندگی جس کے لیے میں نے لگا دی داؤ پر
وہ تعلق واہمہ تھا، وہ تھا یارانہ غلط
میں انا الحق کہہ رہا ہوں اور خود منصور ہوں
مجھ سے اہل معرفت کو بات سمجھانا غلط
منصور آفاق