ٹیگ کے محفوظات: افزا

مجھے بھی عشق کا سودا نہیں ہے

خیال اُس کو اگر میرا نہیں ہے
مجھے بھی عشق کا سودا نہیں ہے
بُرا ہرگز نہیں اُس کا رویہ
مگر کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے
تمہاری مہربانی تم نے پوچھا
ہمارا حال کچھ اچھا نہیں ہے
جو اُن کے جی میں آئے گی کریں گے
کسی کا زور تو چلتا نہیں ہے
پرانی بات اُن سے کیا کریں اب
انہیں کچھ یاد تو رہتا نہیں ہے
بُرا کہتا تو ہوں میں اُن کو باصرؔ
کبھی اُن کا بُرا چاہا نہیں ہے
باصر کاظمی