ٹیگ کے محفوظات: افتاد

کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 216
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے
عنایت کی ہیں ناممکن امدیں
کرم ایجاد فرمایا گیا ہے
ہیں ہم اب اور زد ہے حادثوں کی
ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے
ذرا اس کی پراحوالی تو دیکھیں
جسے برباد فرمایا گیا ہے
نسیمِ سبزگی تھے ہم، سو ہم کو
غبار افتاد فرمایا گیا ہے
سند بخشی ہے عشقِ بے غرض کی
بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے
سلیقے کو لبِ فریاد تیرے
ادا کی داد فرمایا گیا ہے
کہاں ہم اور کہاں حسنِ سرِ بام
ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے
جون ایلیا

اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی

دیوان اول غزل 433
آخر ہماری خاک بھی برباد ہو گئی
اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی
مدت ہوئی نہ خط ہے نہ پیغام ہے مگر
اک رسم تھی وفا کی پر افتاد ہو گئی
دل کس قدر شگفتہ ہوا تھا کہ رات میر
آئی جو بات لب پہ سو فریاد ہو گئی
میر تقی میر

افتاد

کوئی دوزخ کوئی ٹھکانہ تو ہو

کوئی غم حاصلِ زمانہ تو ہو

لالہ و گل کی رت نہیں، نہ سہی

کچھ نہ ہو، شاخِ آشیانہ تو ہو

کبھی لچکے بھی آسمان کی ڈھال

یہ حقیقت کبھی فسانہ تو ہو

ان اندھیروں میں روشنی کے لیے

طاقِ چوبیں پہ شمعِ خانہ تو ہو

کسی بدلی کی ڈولتی چھایا

کوئی رختِ مسافرانہ تو ہو

گونجتے گھومتے جہانوں میں

کوئی آوازِ محرمانہ تو ہو

اس گلی سے پلٹ کے کون آئے

ہاں مگر اس گلی میں جانا تو ہو

میں سمجھتا ہوں ان سہاروں کو

پھر بھی جینے کا اک بہانہ تو ہو

مجید امجد

اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 646
دل کو کچھ دن اور بھی برباد رکھنا چاہیے
اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے
کونج کی سسکاریاں سُن کر کھلا رخصت کی شام
گھر بڑی شے ہے اسے آباد رکھنا چاہیے
ریل میں جس سے ہوئی تھی یونہی دم بھر گفتگو
خوبصورت آدمی تھا، یاد رکھنا چاہیے
موسم گل ہے کہیں بھی لڑکھڑا سکتا ہے دل
ہر گھڑی اندیشۂ افتاد رکھنا چاہیے
فربہ بھیڑوں کی چراگاہوں میں خیمہ زن نہ رہ
اک سفر جاری سفر کے بعد رکھنا چاہیے
باغ چاہے کہر میں گم ہے تجھے آنکھوں کے بیچ
بس وہی خوش قامتِ شمشاد رکھنا چاہیے
مت پکڑ منصور پتوں میں یہ چھپتی تیتری
ایسی نازک چیز کو آزاد رکھنا چاہیے
منصور آفاق

اس کو بھی اپنی طرح برباد کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 170
اب کوئی ایسا ستم ایجاد کر
اس کو بھی اپنی طرح برباد کر
روند کر رکھ دوں ترے سات آسماں
اک ذرا بس موت سے آزاد کر
اب مجھے تسخیر کرنے کے لیے
اسم اعظم روح میں آباد کر
میری باتیں میری آنکھیں میرے ہاتھ
بیٹھ کر اب رو مجھے اور یاد کر
قریہء تشکیک کی سرحد پہ ہوں
صاحبِ لوح و قلم امداد کر
خالق و مخلوق میں دے فاصلے
ہم خدا زادوں کو آدم زاد کر
خشک سالی آ گئی آنکھوں تلک
پانیوں کے واسطے فریاد کر
ہے رکا کوئی یہاں برسوں کے بعد
بس دعائے عمرِ ابر و باد کر
اک قیامت سے نکل آیا ہوں میں
اب کوئی نازل نئی افتاد کر
ہیں ہمہ تن گوش ساتوں آسماں
بول کچھ منصور کچھ ارشاد کر
منصور آفاق