ٹیگ کے محفوظات: اعظم

غریبم شاعرم گوشہ نشینم

نہ کوئی ہمنوا میرا نہ ہمدم
غریبم شاعرم گوشہ نشینم
اب اِس سے بڑھ کے کیا نام و نَسَب ہو
مَن آدم ابنِ آدم ابنِ آدم
بہت چھوٹی سی اپنی سلطنت میں
مَنم سلطان ہم سلطان زادم
کٹی ہے زندگی لفظوں میں اپنی
سخن گویم سخن دانم دبیرم
مرا اعمال نامہ مختصر ہے
تہی دستم و لیکن شادمانم
مری دانِست میں نامِ محمدؐ
کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم
باصر کاظمی

کہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 263
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
کہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اِک نگہ کہ ، بظاہر نگاہ سے کم ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 119
دِل سوزاں پہ جیسے دست شبنم رکھ دیا دیکھو
علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو
سنا ہے گرد راہِ بوترابؑ آنے کو ہے سر پر
سو میں نے خاک پر تاجِ مئے و جم رکھ دیا دیکھو
سخی داتا سے انعامِ قناعت میں نے مانگا تھا
مرے کشکول میں خوان دو عالم رکھ دیا دیکھو
ملا فرماں سخن کے ملک کی فرماں روائی کا
گدا کے ہاتھ پر آقا نے خاتم رکھ دیا دیکھو
طلسمِ شب مری آنکھوں کا دشمن تھا سو مولاؑ نے
لہو میں اِک چراغِ اِسم اعظم رکھ دیا دیکھو
کھلا آشفتہ جانوں پر علم مشکل کشائی کا
ہوائے ظلم نے پیروں میں پرچم رکھ دیا دیکھو
شہِ مرداںؑ کے در پر گوشہ گیری کا تصدق ہے
کہ میں نے توڑکر یہ حلقۂ رم رکھ دیا دیکھو
مجھے اس طرح نصرت کی نوید آئی کہ دم بھر میں
اُٹھاکر طاق پر سب دفترِ غم رکھ دیا دیکھو
عرفان صدیقی