ٹیگ کے محفوظات: اعصاب

روز اک تازہ تلاطم ہے مرے اعصاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
گھِر گئی ہے رُوح اپنی جانے کس گرداب میں
روز اک تازہ تلاطم ہے مرے اعصاب میں
یاس کی خشکی، نمِ اُمید کی بہتات سے
ایک کائی سی جمی ہے دیدۂ بے خواب میں
میں کہ تنہائی میں تھا بے در حویلی کی طرح
بند کمرہ سا بنا بیٹھا ہوں اب احباب میں
دل کہ باغی لہر تھا اب پیرہن ذرّوں کا ہے
ڈھل گیا ہے یہ بھی آخر زیست کے آداب میں
اُکھڑے حرفوں کی کتابِ زیست کے اوراق پر
چیونٹیاں سی کسمساتی ہیں سکوں کے باب میں
کچھ ہَوا یا دھوپ ہی ماجدؔ مرے درپے نہ تھی
جانے کیا کچھ اور بربادی کے تھا اسباب میں
ماجد صدیقی

تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 28
کس عجب ساعتِ نایاب میں آیا ہُوا ہوں
تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں
پھر وہی میں ہوں، وہی ہجر کا دریائے عمیق
کوئی دم عکسِ سرِ آب میں آیا ہُوا ہوں
کیسے آئینے کے مانند چمکتا ہُوا میں
عشق کے شہرِ ابدتاب میں آیا ہُوا ہوں
میری ہر تان ہے از روزِ ازل تا بہ ابد
ایک سُر کے لیے مضراب میں آیا ہُوا ہوں
کوئی پرچھائیں کبھی جسم سے کرتی ہے کلام؟
بے سبب سایہِٗ مہتاب میں آیا ہُوا ہوں
ہر گزرتے ہوئے لمحے میں تپکتا ہُوا میں
درد ہوں، وقت کے اعصاب میں آیا ہُوا ہوں
کیسی گہرائی سے نکلا ہوں عدم کی عرفان
کیسے پایاب سے تالاب میں آیا ہُوا ہوں
عرفان ستار

اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 50
نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں
رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاں
اور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں
مَیں بھنور سے تو نکل آئی،اور اب سوچتی ہوں
موجِ ساحل نے کیا ہے مجھے غرقاب کہاں
مَیں نے سونپی تھی تجھے آخری پُونجی اپنی
چھوڑ آیا ہے مری ناؤ تہہِ آب کہاں
ہے رواں آگ کا دریا مری شریانوں میں
موت کے بعد بھی ہو پائے گا پایاب کہاں
بند باندھا ہے سَروں کا مرے دہقانوں نے
اب مری فصل کو لے جائے گا سیلاب کہاں
پروین شاکر