ٹیگ کے محفوظات: اعتراف

اُس کا اب تک ہے اعتراف ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
دی دکھائی خطا جو صاف ہمیں
اُس کا اب تک ہے اعتراف ہمیں
جا سکے گی نہ تم سے جھُٹلائی
بات جس پرہے اختلاف ہمیں
کون ہے جو درست کروائے
ہند سے آ کے شین قاف ہمیں
نیتِ حاسداں سے بچنے کو
دے کوئی آہنی غلاف ہمیں
جِن محّبوں کو ہم بھُلا بیٹھے
کیوں وہ ماجدؔ کریں معاف ہمیں
ماجد صدیقی

جا بیٹھیں میکدے میں مسجد سے اٹھ کے صاف اب

دیوان سوم غزل 1104
ماہ صیام آیا ہے قصد اعتکاف اب
جا بیٹھیں میکدے میں مسجد سے اٹھ کے صاف اب
مسلم ہیں رفتہ رو کے کافر ہیں خستہ مو کے
یہ بیچ سے اٹھے گا کس طور اختلاف اب
جو حرف ہیں سو ٹیڑھے خط میں لکھے ہیں شاید
اس کے مزاج میں ہے کچھ ہم سے انحراف اب
مجرم ٹھہر گئے ہم پھرنے سے ساتھ تیرے
بہتر ہے جو رکھے تو اس سے ہمیں معاف اب
گو لگ گیا گلے میں مت کھینچ تیغ مجھ پر
اپنے گنہ کا میں تو کرتا ہوں اعتراف اب
کیا خاک میں ملاکر اپنے تئیں موا ہے
پیدا ہو گورمجنوں تو کیجیے طواف اب
کھنچتے ہیں جامے خوں میں کن کن کے میر دیکھیں
لگتی ہے سرخ اس کے دامن کے تیں سنجاف اب
میر تقی میر

اعتراف

چند لمحے جو ترے ساتھ گزارے میں نے

ان کی یاد ان کا تصور ابھی رخشندہ نہیں

تو ابھی چھائی نہیں مجھ پر، مری دنیا پر

خود ترا حسن مرے ذہن میں تابندہ نہیں

کیا خبر کل مجھے یکسر ہی بدل ڈالے تو

یوں ترا حسن، مرا شوق بھی پایندہ نہیں

دیکھ میں ہوش میں ہوں اے غم گیتی کے شعور

تیرے ملنے کی تمنّا لیے آنکھوں میں کہاں

اپنے ظلمت کدے اے جان، سنوارے میں نے

غم چشیدہ مرے جذبات میں جذبہ پنہاں

اب کہاں پہلے گزاریں کئی راتیں میں نے

جن میں افسانے کہے چاند سے افسانے سنے

اب کہاں، پہلے برس گزرے، کسی مہوش کی

چاہ میں کتنے ہی ہنگام سحر گیت بنے

اب مگر تاب کہاں مجھ میں یہ انگور کی بیل

خون چاہے گی رگ و پے میں سما جائے گی

اختر الایمان

ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 36
جو دل میں ہے اُسے کہنا ہے صاف صاف مجھے
ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے
مرے سخن اُسے اچھے لگیں ، لگیں نہ لگیں
جو کر سکے تو کرے زندگی معاف مجھے
کسی گدا کی طرح کوئے رزق و جنس میں کیوں
تمام عمر ہی کرنا پڑا طواف مجھے
یہ جور و جبر میں کس کے حساب میں ڈالوں
بجا کہ اپنی کمی کا ہے اعتراف مجھے
یہ نصرتیں ، یہ شکستیں ۔ تمام بے معنی
نہال کر گیا آخر یہ انکشاف مجھے
ہر ایک شکل پسِ شکل مسخروں جیسی
یہ کارِ فکر و متانت لگے ہے لاف مجھے
آفتاب اقبال شمیم

یہ کون ہیں کہ رکا ہے طواف ہوتا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 59
ہجوم عاشقاں میں اک شگاف ہوتا ہوا
یہ کون ہیں کہ رکا ہے طواف ہوتا ہوا
خیال آ گیا لاکھوں کروڑوں تاروں کا
پلٹ پڑا میں کہیں انکشاف ہوتا ہوا
لے آیا ہے مجھے خوشبو بھری عمارت میں
کسی گلی سے مرا اختلاف ہوتا ہوا
طوافِ وجدِمسلسل سے عرش تک پہنچا
میں خانہ کعبہ کا روشن غلاف ہوتا ہوا
بس عین وقت پہ دستک ہوئی وہاں منصور
زباں پہ رہ گیا، پھر اعتراف ہوتا ہوا
منصور آفاق