ٹیگ کے محفوظات: اعتراض

جسے ہے ترکِ مراسم پہ اعتراض ۔وہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 496
یہ کیا کہ ہجر کا موسم کرے دراز وہی
جسے ہے ترکِ مراسم پہ اعتراض ۔وہی
جسے فراق کی راتیں گزار لیتی ہیں
وصالِ صبح سے ہوتا ہے سرفراز وہی
میں چھوڑآیاتھا جس کوکسی کے چہرے میں
دکھارہا ہے کوئی چشمِ بدلحاظ وہی
میں جانتا ہوں اب ہارنا ضروری ہے
میں مانتا ہوں کہ ہے جنگ کا محاذوہی
جسے پسندنہیں تھی اداس رت کی غزل
سرھانے رکھتی اب کیوں مری بیاض وہی
وہی خیال کی مسجد وہی حریمِ حرم
مرا وضو وہی ، سجدہ وہی ، نماز وہی
جسے ملی تیرے رخسار و لب کی گیرائی
ہوا خدائی سے منصور بے نیاز وہی
منصور آفاق

آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 262
شب زندہ دار خواب، عشائے نماز لوگ
آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ
کھلنے لگے تھے پھول گریباں کے چاک سے
لوٹ آئے دشتِ یاد سے ہم بے نیاز لوگ
دونوں کا ایک بیج ہے دونوں کی اک نمو
یونہی یہ خار و گل میں کریں امتیاز لوگ
کیسی عجیب چیز ہیں چہرے کے خال و خد
دل میں بسے ہوئے ہیں کئی بد لحاظ لوگ
پہلے پہل تھے میرے اجالے سے منحرف
کرتے ہیں آفتاب پہ اب اعتراض لوگ
ہر شخص بانس باندھ کے پھرتا ہے پاؤں سے
نکلیں گھروں سے کس طرح قامت دراز لوگ
صبحوں کو ڈھانپتے پھریں خوفِ صلیب سے
کالک پرست عہد میں سورج نواز لوگ
پتھر نژاد شہر! غنیمت سمجھ ہمیں
ملتے کہاں ہیں ہم سے سراپا گداز لوگ
منصور اب کہاں ہیں ہم ایسے ، دیار میں
غالب مثال آدمی، احمد فراز لوگ
منصور آفاق