ٹیگ کے محفوظات: اعادہ

دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغلِ بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
دکھائی دی ہے جھلک اُس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لیے خواب سے زیادہ ہے
ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے ہم کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں اپنے جادہ ہے
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بِساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے
یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہمراہ
اُنہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے
وہ اہلِ بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لیے میرا حرفِ سادہ ہے
اگر خدا نے نکالا بُتوں کے چکّر سے
طوافِ کعبہ کا اب کے برس اِرادہ ہے
باصر کاظمی

اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 8
مے گساری سے ذرا ربط زیادہ کر لو
اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو
وُہ کہ ناخواندۂ جذبہ ہے نہیں پڑھ سکتا
اپنی تحریر کو تم جتنا بھی سادہ کر لو
ایسا سجدہ کہ زمیں تنگ نظر آنے لگے
یہ جبیں اور، ذرا اور کشادہ کر لو
امتحاں کمرۂ دنیا میں اگر دنیا ہے
روز گردان کے فعلوں کا اعادہ کر لو
پھر بتائیں گے تمہیں چشمۂ حیواں ہے کہاں
گھر سے دفتر کا ذرا ختم یہ جادہ کر لو
ٹالنے کی تمہیں ٹل جانے کی عادت ہے ہمیں
پھر سہی، اگلی ملاقات کا وعدہ کر لو
آفتاب اقبال شمیم