ٹیگ کے محفوظات: اصنام

وقت سمٹا تو ہمیں کام بہت یاد آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
ایک آغاز تھا انجام بہت یاد آئے
وقت سمٹا تو ہمیں کام بہت یاد آئے
کچھ تو ایسے تھے جنہیں بھول کے تسکین ملی
اور کچھ لوگ بہ ہر گام بہت یاد آئے
وہ نہ جو ٹوہ میں روزی کی نکل کر لوٹے
چہچہے اُن کے سرِشام بہت یاد آئے
مول جب اپنا پڑا شہر کے بازاروں میں
وہ جو یوسف کے لگے دام، بہت یاد آئے
خود ہی نکلے تھے نکالے نہ گئے جو اُس سے
کعبۂ دِل کو وہ اصنام بہت یاد آئے
دیکھ کر ندّیاں جذبوں کی اترتی ماجِد
تھے کبھی دل میں جو کہرام، بہت یاد آئے
ماجد صدیقی

پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
جگنو جگنو حرف نِکھارے روشن پھر بھی نام نہیں
پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں
پانی کی پھنکار یہی ہے تو کب خیر کناروں کی
دریا زور دکھائے گا یہ محض خیالِ خام نہیں
کس کسکے ہونٹوں پر پرکھیں روشن حرف دکھاوے کے
شہر میں ایسا کون ہے جس کی بغلوں میں اصنام نہیں
خوشوں ہی میں سحر ہے وُہ جو پر نہ مکّرر کُھلنے دے
فصلوں پر پھیلانے کو اب ہاتھ کسی کے دام نہیں
ایک سی چُپ ہر سمت ہے چاہے سانپ نگل لے چڑیا کو
کچھ ہو جائے ہونے کو برپا ہی کہیں کہرام نہیں
اَب وُہ دَور ہے برسوں جس میں اسکے سِکے چلتے ہیں
آج کے مشکیزوں میں ماجدؔپہلے جیسا چام نہیں
ماجد صدیقی

حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
تو میسّر ہو کسی شب تو یہ اقدام کروں
حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں
حرفِ روشن، تری اُمیدِ ملاقات ایسا
میں حمائل بہ گلُو کیوں نہ سرِ شام کروں
پر سلامت ہیں تو زخموں کو لئے ہر جانب
قصّۂ ضربتِ صیّاد بھی اب عام کروں
ساعتِ نحس جو غالب مرے حالات پہ ہے
ایسی آفت کو اکیلے میں کہاں رام کروں
قائلِ صنعتِ آذر ہوں ہنرمند ہوں میں
میں جو کرتا ہوں تو یوں مدحتِ اصنام کروں
مجھ کو درپیش مسافت ہے رُتوں کی ماجدؔ
سایۂ گل میں جو پہنچوں تو اب آرام کروں
ماجد صدیقی

مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 137
منصور پر خدائی کے الزام کے سبب
مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب
بس رہ گئی ہے یاد میں بجھتی سی ریل کار
میں لیٹ ہو گیا تھا کسی کام کے سبب
مہکا ہوا ہے دیر سے میری گلی کا موڑ
خوشبو پہن کے چلتی ہوئی شام کے سبب
کر لوں گا آسمانوں پہ آباد بستیاں
میں پُر یقیں ہوں زینہء ایام کے سبب
چہرے تک آ گئی تھیں شعاعوں کی ٹہنیاں
جاگا ہوں آفتابِ لبِ بام کے سبب
کتنے سفید کتنے حسین و جمیل لوگ
چھوڑ آیا ایک حسن سیہ فام کے سبب
انجامِ گفتگو ہوا پھولوں کے درمیان
آغازِ گفتگو ہوا دشنام کے سبب
بیٹھا ہوں کوہِ سرخ کے پتھر تراشتا
دریائے سندھ ! آپ کے پیغام کے سبب
صحرا نے صادقین کی تصویر اوڑھ لی
اک نظمِ گردباد کے الہام کے سبب
جس کی مجھے تلاش تھی وہ درد مل گیا
ہوں کامیاب صحبتِ ناکام کے سبب
سورج پلٹ گیا ہے ملاقات کے بغیر
زلف سیہ کے بسترِ بدنام کے سبب
پروردگارِ اول و آخر سے پانچ وقت
ملتے ہیں لوگ کمرئہ اصنام کے سبب
شب ہائے زخم زخم گزارے خوشی کے ساتھ
لندن کی ایک غم زدہ مادام کے سبب
دینا پڑے گا شیخ کو میرا حساب بھی
کافر ہوا ہوں چہرئہ اسلام کے سبب
منصور آفاق