ٹیگ کے محفوظات: اصرار

دِل کہ بیگانۂ راحت ہے کسے یار کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
جس کو چھیڑے سرِ محفل وہی بیزار کرے
دِل کہ بیگانۂ راحت ہے کسے یار کرے
سرِ مقتل ہے یہی حرفِ ملامت کافی
کام باقی ہی رہا کیا ہے جو تلوار کرے
دل ہے میرا کہ پرندہ کوئی جوئندۂ آب
خواب میں کون یہ ہر شب مجھے بیدار کرے
ہم رُکے ہیں کہ یہی ڈور میّسر تھی ہمیں
اور ہوا ہے کہ اُڑانے ہی پہ اصرار کرے
آدمی بھی کہ ہے زندانِ تمّنا کا اسِیر
کام جو کرنا نہ چاہے وہی ناچار کرے
لوگ ہیں سطح پہ کائی کے بھی قائل ماجدؔ
تو ہی پاگل ہے جو ہر دَرد کا اظہار کرے
ماجد صدیقی

ٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجاب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 37
کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجاب
ٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجاب
لا و نَعَم نہیں جو تمنائے وصل پر
انکار سے حجاب ہے، اقرار سے حجاب
تقلیدِ شکل چاہئے سیرت میں بھی تجھے
کب تک رہے مجھے ترے اطوار سے حجاب
دشنام دیں جو بوسے میں ابرام ہم کریں
طبعِ غیور کو ہے پر اصرار سے حجاب
رندی میں بھی گئی نہ یہ مستوری و صلاح
آتا ہے مجھ کو محرمِ اسرار سے حجاب
وہ طعنہ زن ہے زندگیِ ہجر پر عبث
آتا ہے مجھ کو حسرتِ دیدار سے حجاب
جوشِ نگاہِ دیدۂ حیراں کو کیا کہوں
ظاہر ہے روئے آئینہ رخسار سے حجاب
روز و شبِ وصال مبارک ہو شیفتہ
جورِ فلک کو ہے ستمِ یار سے حجاب
مصطفٰی خان شیفتہ

بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب

دیوان ششم غزل 1814
اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب
بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب
لگ نہیں پڑتے ہیں لے کر ہاتھ میں شمشیر تیز
بے کسوں کے قتل میں اتنا نہیں اصرار خوب
آخر ان خوباں نے عاشق جان کر مارا مجھے
چاہ کا اپنی نہ کرنا ان سے تھا اظہار خوب
آج کل سے مجھ کو بیتابی و بدحالی ہے کیا
مجھ مریض عشق کے کب سے نہ تھے آثار خوب
کیا کریمی اس کی کہیے جنت دربستہ دی
ورنہ مفلس غم زدوں کے کچھ نہ تھے کردار خوب
مخترع جور و ستم میں بھی ہوا وہ نوجواں
ظلم تب کرتا ہے جب ہو کوئی منت دار خوب
دہر میں پستی بلندی برسوں تک دیکھی ہے میں
جب لٹا پامالی سے میں تب ہوا ہموار خوب
کیا کسو سے آشنائی کی رکھے کوئی امید
کم پہنچتا ہے بہم دنیا میں یارو یار خوب
کہتے تھے افعی کے سے اے میر مت کھا پیچ و تاب
آخر اس کوچے میں جا کھائی نہ تو نے مار خوب
میر تقی میر

عشق بھی اس کا ہے نام اک پیار کا

دیوان ششم غزل 1797
میں ہوں خاک افتادہ جس آزار کا
عشق بھی اس کا ہے نام اک پیار کا
بیچتا سرکیوں نہ گلیوں میں پھروں
میں ہوں خواہاں لطف تہ بازار کا
خون کرکے ٹک نہ دل ان نے لیا
کشتہ و مردہ ہوں اس اصرار کا
گھر سے وہ معمار کا جو اٹھ گیا
حال ابتر ہو گیا گھر بار کا
نقل اس کی بے وفائی کی ہے اصل
کب وفاداری ہے شیوہ یار کا
سر جو دے دے مارتے گھر میں پھرے
رنگ دیگر ہے در و دیوار کا
اک گداے در ہے سیلاب بہار
غم کشوں کے دیدۂ خونبار کا
دلبراں دل جنس ہے گنجائشی
اس میں کچھ نقصاں نہیں سرکار کا
عشق کا مارا ہے کیا پنپے گا میر
حال ہے بدحال اس بیمار کا
میر تقی میر

اب ان نے سج بنائی ہے خونخوار بے طرح

دیوان پنجم غزل 1597
گھر سے لیے نکلتا ہے تلوار بے طرح
اب ان نے سج بنائی ہے خونخوار بے طرح
جی بچنے کی طرح نظر آتی نہیں کوئی
کرتا ہے میرے خون پہ اصرار بے طرح
چہرہ تو ان نے اپنا بنایا ہے خوب لیک
بگڑا پھرے ہے اب وہ طرحدار بے طرح
کس طرح جائے پکڑی زباں اس کی خشم میں
کہتا ہے بیٹھا متصل اب یار بے طرح
لوہو میں ڈوبے دیکھیو دامان و جیب میر
بپھرا ہے آج دیدئہ خونبار بے طرح
میر تقی میر

انچھر ہیں تو عشق کے دوہی لیکن ہے بستار بہت

دیوان پنجم غزل 1582
دل کی تہ کی کہی نہیں جاتی نازک ہے اسرار بہت
انچھر ہیں تو عشق کے دوہی لیکن ہے بستار بہت
کافر مسلم دونوں ہوئے پر نسبت اس سے کچھ نہ ہوئی
بہت لیے تسبیح پھرے ہم پہنا ہے زنار بہت
ہجر نے جی ہی مارا ہمارا کیا کہیے کیا مشکل ہے
اس سے جدا رہنا ہوتا ہے جس سے ہمیں ہے پیار بہت
منھ کی زردی تن کی نزاری چشم تر پر چھائی ہے
عشق میں اس کے یعنی ہم نے کھینچے ہیں آزار بہت
کہہ کے تغافل ان نے کیا تھا لیکن تقصیر اپنی ہے
کام کھنچا جو تیغ تک اس کی ہم نے کیا اصرار بہت
حرف و سخن اب تنگ ہوا ہے ان لوگوں کا ساتھ اپنے
منھ کرنے سے جن کی طرف آتی تھی ہم کو عار بہت
رات سے شہرت اس بستی میں میر کے اٹھ جانے کی ہے
جنگل میں جو جلد بسا جا شاید تھا بیمار بہت
میر تقی میر

اب میں ہوں جیسے دیر کا بیمار بدنمود

دیوان چہارم غزل 1378
زردی عشق سے ہے تن زار بدنمود
اب میں ہوں جیسے دیر کا بیمار بدنمود
بے برگی بے نوائی سے ہیں عشق میں نزار
پائیز دیدہ جیسے ہوں اشجار بدنمود
ہرچند خوب تجھ کو بنایا خدا نے لیک
اے ناز پیشہ کبر ہے بسیار بدنمود
ہیں خوشنما جو سہل مریں ہم ولے ترا
خونریزی میں ہماری ہے اصرار بدنمود
پوشیدہ رکھنا عشق کا اچھا تھا حیف میر
سمجھا نہ میں کہ اس کا ہے اظہار بدنمود
میر تقی میر

ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
فکر دلداریء گلزار کروں یا نہ کروں
ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں
قصہء سازشِ اغیار کہوں یانہ کہوں
شکوہء یارِ طرحدار کروں یا نہ کروں
جانے کیا وضع ہے اب رسمِ وفا کی اے دل
وضعِ دیرینہ پہ اصرار کروں یا نہ کروں
جانے کس رنگ میں تفسیر کریں اہلِ ہوس
مدحِ زلف و لب و رخسار کروں یا نہ کروں
یوں بہار آئی ہے امسال کہ گلشن میں صبا
پوچھتی ہے گزر اس بار کروں یا نہ کروں
گویا اس سوچ میں ہے دل میں لہو بھر کے گلاب
دامن و جیب کو گلنار کروں یا نہ کروں
ہے فقط مرغِ غزلخواں کہ جسے فکر نہیں
معتدل گرمیء گفتار کروں یا نہ کروں
نذرِ سودا
فیض احمد فیض