ٹیگ کے محفوظات: اشتہا

نکلے پردے سے کیا خدا معلوم

دیوان دوم غزل 855
ہے تہ دل بتوں کا کیا معلوم
نکلے پردے سے کیا خدا معلوم
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
علم سب کو ہے یہ کہ سب تو ہے
پھر ہے اللہ کیسا نامعلوم
گرچہ تو ہی ہے سب جگہ لیکن
ہم کو تیری نہیں ہے جا معلوم
عشق جانا تھا مار رکھے گا
ابتدا میں تھی انتہا معلوم
ان سیہ چشم دلبروں سے ہمیں
تھی وفا چشم سو وفا معلوم
طرز کینے کی کوئی چھپتی ہے
مدعی کا ہے مدعا معلوم
عشق ہے اے طبیب جی کا روگ
لطف کر ہے جو کچھ دوا معلوم
دل بجا ہو تو میر کچھ کھاوے
کڑھنے پچنے میں اشتہا معلوم
میر تقی میر