ٹیگ کے محفوظات: اشتعال

دل کے شیشے میں جتنے بال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 122
جی جلانے نہ اِتنے سال آئے
دل کے شیشے میں جتنے بال آئے
دشت میں کچھ رہا نہیں شاید
رات بستی میں پھر شغال آئے
کس پہ برسیں جُز اپنے پیکر کے
بُلبلوں کو گر اشتعال آئے
اے غمِ جاں! ترے کہے پر ہم
آج دل کا کہا بھی ٹال آئے
جن سے ہوتی تھی برہمی اُن کو
پھر نہ ہونٹوں پہ وہ سوال آئے
سانپ بھی تو لگے مہذّب ہی
زہر دانتوں سے جب نکال آئے
جس کے بس میں ہو کچھ ضرر ماجدؔ
ہاتھ اُسی کے ہی اب کمال آئے
ماجد صدیقی

بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 464
تشریف آوری تھی چراغِ خیال کی
بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی
شاید جنم جنم کی اداسی ہے میرے ساتھ
صدیاں پڑی ہیں صحن میں شامِ ملال کی
میں نے تمام عمر گزاری شبِ فراق
میں شکل جانتا نہیں صبحِ وصال کی
ہے کوئی مادھولال میرے انتظارمیں
آواز آرہی ہے کہیں سے دھمال کی
پچھلے پہر میں گزری ہے منصور زندگی
میری شریکِ عمر ہے ساعت زوال کی
منصور آفاق