ٹیگ کے محفوظات: اشتباہ

یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 17
اگر ہے شرط بچھڑنا تو رسم و راہ بھی کیا
یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا
نہ ہو جو ذوقِ تماشا یہاں تو کچھ بھی نہیں
نظر کی بزم بھی کیا دل کی خانقاہ بھی کیا
بہت سکون ہے بیداریوں کے نرغے میں
تو مجھ کو چھوڑ گئی خواب کی سپاہ بھی کیا
سب اپنے اپنے طریقے ہیں خود نمائی کے
قبائے عجز بھی کیا فخر کی کلاہ بھی کیا
یہ راہِ شوق ہے اس پر قدم یقین سے رکھ
گماں کے باب میں اس درجہ اشتباہ بھی کیا
نہیں ہے کوئی بھی صورت سپردگی کے سوا
ہوس کی قید بھی کیا عشق کی پناہ بھی کیا
مجھے تمہاری تمہیں میری ہم نشینی کی
بس ایک طرح کی عادت سی ہے، نباہ بھی کیا
کوئی ٹھہر کے نہ دیکھے میں وہ تماشا ہوں
بس اک نگاہ رُکی تھی، سو وہ نگاہ بھی کیا
عرفان ستار

آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا

دیوان پنجم غزل 1558
اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا
آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا
لڑ کے ملنا ہے آپ سے بے لطف
یار ہووے نہ عذرخواہ تو کیا
کب رخ بدر روشن ایسا ہے
ایک شب کا ہے اشتباہ تو کیا
بے خرد خانقہ میں ہیں گو مست
وہ کرے مست یک نگاہ تو کیا
اس کے پرپیچ گیسو کے آگے
ہووے کالا کوئی سیاہ تو کیا
حسن والے ہیں کج روش سارے
ہوئے دو چار روبراہ تو کیا
دل رہے وصل جو مدام رہے
مل گئے اس سے گاہ گاہ تو کیا
ایک اللہ کا بہت ہے نام
جمع باطل ہوں سو الٰہ تو کیا
میر کیا ہے فقیر مستغنی
آوے اس پاس بادشاہ تو کیا
میر تقی میر

آنکھوں میں یوں ہماری عالم سیاہ تا چند

دیوان دوم غزل 796
رہیے بغیر تیرے اے رشک ماہ تا چند
آنکھوں میں یوں ہماری عالم سیاہ تا چند
اب دیکھنے میں پیارے ٹک تو بڑھا عنایت
کوتاہ تر پلک سے ایدھر نگاہ تا چند
خط سے جو ہے گرفتہ وہ مہ نہیں نکلتا
مانند چشم اختر ہم دیکھیں راہ تا چند
عمر عزیز ساری منت ہی کرتے گذری
بے جرم آہ رہیے یوں عذر خواہ تا چند
یاں ناز و سرکشی سے کیا دیکھتا نہیں ہے
کج اس چمن میں ٹھہری گل کی کلاہ تا چند
جب مہ ادھر سے نکلا جانا وہ گھر سے نکلا
رکھتا ہے داغ دیکھیں یہ اشتباہ تا چند
ایذا بھی کھنچ چکے گر جو ہفتے عشرے کی ہو
اس طرح مرتے رہیے اے میر آہ تا چند
میر تقی میر