ٹیگ کے محفوظات: اشارے

جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے

ہر ایک کو خوش فہمی میں رکھتے ہیں ستارے
جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے
مجنوں سے کہو کٹ چکی اک عُمر جنوں میں
باقی کسی معقول طریقے سے گزارے
بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے
میرے تو کئی بگڑے ہوئے کام سنوارے
کر دیں نہ کہیں ہم کو جوانی میں ہی معذور
ہم جن کو سمجھتے ہیں بڑھاپے کے سہارے
یوں تو کبھی کم آب نہ تھا آنکھوں کا دریا
سیلاب وہ آیا ہے کہ بے بس ہیں کنارے
سچ ہے کہ گُل و لالہ میں ٹھنڈک ہے تجھی سے
یہ نور ہے کس کا مگر اے چاند ہمارے
بیکار سے پتھر ہیں چمکتے ہیں جو شب کو
پوشیدہ ہیں دن میں تِری قسمت کے ستارے
باصر کاظمی

پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
رنجش میں پسِ چشم اشارے، مری توبہ
پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ
کس درجہ سبکسار کیا، جذبِ جنوں کو
محفل سے وُہ رخصت کیا اِشارے، مری توبہ
اظہارِ تمّنا ہی کیا تھا مگر اُس پر
انداز عتابی وہ تمہارے، مری توبہ
سُرخی سی لب و چشم میں وہ طیش و حیا کی
بپھرے ہوئے دریا کے کنارے، مری توبہ
اک شور سا رَگ رَگ میں، تمازت دل و جاں میں
آثار قیامت کے وُہ سارے، مری توبہ
جو پیکرِ اُمید تھا دل میں وُہی شق تھا
تھیں شوخ نگاہیں کہ وُہ آرے، مری توبہ
ماجدؔ سرِ اغیار جو گزری وُہی لکھے
کیا رُوپ قلم نے ترے دھارے، مری توبہ
ماجد صدیقی

آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 383
ٹوٹنے والے تارے پر رک جاتے ہیں
آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں
وقت کی تیز ٹریفک چلتی رہتی ہے
ہم ہی سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں
جب میں سطحِ آب پہ چلتا پھرتا ہوں
دیکھ کے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں
ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا
ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں
روز نکلتے ہیں مہتاب نگر میں ہم
لیکن ایک ستارے پر رک جاتے ہیں
اڑتے اڑتے گر پڑتے ہیں آگ کے بیچ
شام کے وقت ہمارے پر رک جاتے ہیں
منصور آفاق