ٹیگ کے محفوظات: اشاروں

آئنہ جیسے ریگ زاروں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
تو نمایاں ہے یُوں نگاروں میں
آئنہ جیسے ریگ زاروں میں
حُسن سارا وُہ اِک تجھی میں ہے
ڈھونڈتا ہُوں جسے ہزاروں میں
جب سے مہکا ہے تن بدن تیرا
کھلبلی سی ہے اِک بہاروں میں
عالمِ خواب ہے کہ قُرب تِرا
گھر گیا ہوں عجب شراروں میں
پھُوٹتی ہے جو کنجِ لب سے ترے
آگ ایسی کہاں چناروں میں
روز تفسیرِ لطفِ جاں دیکھوں
تیرے مبہم سے اِن اشاروں میں
لہلہاتا ہے مثلِ گلُ تُو ہی
فکرِ ماجدؔ کے کشت زاروں میں
ماجد صدیقی

خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 225
یارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہے
خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے
جاں سے بھی گئے ، بات بھی جاناں کی نہ سمجھی
جاناں کو بہت عشق کے ماروں سے گلہ ہے
اب وصل ہو یا ہجر ، نہ اب تک بسر آیا
اک لمحہ ، جسے لمحہ شماروں سے گلہ ہے
اڑتی ہے ہر اک شور کے سینے سے خموشی
صحراؤں پر شور دیاروں سے گلہ ہے
بیکار کی اک کارگزاری کے حسابوں
بیکار ہوں اور کار گزاروں سے گلہ ہے
میں آس کی بستی میں گیا تھا سو یہ پایا
جو بھی ہے اسے اپنے سہاروں سے گلہ ہے
بے فصل اشاروں سے ہوا خون جنوں کا
ان شوخ نگاہوں کے اشاروں سے گلہ ہے
جون ایلیا

باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 66
مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو
باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو
اک معرکہ بہار و خزاں میں ہے ان دنوں
سب کچھ نثار کر کے بہاروں کا ساتھ دو
تم کو حریمِ دیدہ و دل ہے اگر عزیز
شہروں کے ساتھ آؤ، دیاروں کا ساتھ دو
آبادیوں سے عرض ہے، شہروں سے التماس
اس وقت اپنے کارگزاروں کا ساتھ دو
زخموں سے جن کے پھوٹ رہی ہے شعاعِ رنگ
ان حسن پروروں کی قطاروں کا ساتھ دو
روشن گروں نے خوں سے جلائی ہیں مشعلیں
ان مشعلوں کے سرخ اشاروں کا ساتھ دو
بیدار رہ کے آخرِ شب کے حصار میں
خورشید کے جریدہ نگاروں کا ساتھ دو
یاروں کا اک ہجوم چلا ہے کفن بدوش
ہے آج روزِ واقعہ، یاروں کا ساتھ دو
جون ایلیا