ٹیگ کے محفوظات: اسرار

احساس کے تلوے میں چھپا خار کہاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
آنکھوں کو نہیں سُوجھتا، آزار کہاں ہے
احساس کے تلوے میں چھپا خار کہاں ہے
جو جھاگ سا اُٹھا تھا کبھی اپنے سروں سے
اب دیکھیے وہ طرۂ پندار کہاں ہے
ہلچل سی مچا دیتا تھا جو کاسۂ خوں میں
جو دشمنِ جاں تھا وہ مرا یار کہاں ہے
شعلہ تو کہاں کا کہ دھُواں تک نہیں دیکھا
موجود پسِ لب ہے جو وہ نار کہاں ہے
تہہ دار ہے، اُلجھاؤ نہیں اُس کے سخن میں
ماجد کا لکھا ایسا پُر اسرار کہاں ہے
ماجد صدیقی

ٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجاب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 37
کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجاب
ٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجاب
لا و نَعَم نہیں جو تمنائے وصل پر
انکار سے حجاب ہے، اقرار سے حجاب
تقلیدِ شکل چاہئے سیرت میں بھی تجھے
کب تک رہے مجھے ترے اطوار سے حجاب
دشنام دیں جو بوسے میں ابرام ہم کریں
طبعِ غیور کو ہے پر اصرار سے حجاب
رندی میں بھی گئی نہ یہ مستوری و صلاح
آتا ہے مجھ کو محرمِ اسرار سے حجاب
وہ طعنہ زن ہے زندگیِ ہجر پر عبث
آتا ہے مجھ کو حسرتِ دیدار سے حجاب
جوشِ نگاہِ دیدۂ حیراں کو کیا کہوں
ظاہر ہے روئے آئینہ رخسار سے حجاب
روز و شبِ وصال مبارک ہو شیفتہ
جورِ فلک کو ہے ستمِ یار سے حجاب
مصطفٰی خان شیفتہ

میری آنکھوں میں سجا ہے لب و رخسار کا شہر

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 27
کوئی دیکھے تو سہی یار طرحدار کا شہر
میری آنکھوں میں سجا ہے لب و رخسار کا شہر
دشت احساس میں شعلہ سا کوئی لپکا تھا
اسی بنیاد پہ تعمیر ہوا پیار کا شہر
اس کی ہر بات میں ہوتا ہے کسی بھید کا رنگ
وہ طلسمات کا پیکر ہے کہ اسرار کا شہر
میری نظروں میں چراغاں کا سماں رہتا ہے
میں کہیں جاؤں مرے ساتھ ہے دلدار کا شہر
یوں تری گرم نگاہی سے پگھلتے دیکھا
جس طرح کانچ کا گھر ہو مرے پندار کا شہر
دل کا آفاق سمٹتا ہی چلا جاتا ہے
اور پھیلے گا کہاں تک در و دیوار کا شہر
مسکراتے رہیں سینے کے دہکتے ہوئے داغ
دائم آباد رہے درد کی سرکار کا شہر
شکیب جلالی

ہے حیا مانعِ اظہار، کہوں یا نہ کہوں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 164
اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں
ہے حیا مانعِ اظہار، کہوں یا نہ کہوں
نہیں کرنے کا میں تقریر ادب سے باہر
میں بھی ہوں واقفِ اسرار، کہوں یا نہ کہوں
شکوہ سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
اپنی ہستی سے ہوں بیزار، کہوں یا نہ کہوں
اپنے دل ہی سے میں احوالِ گرفتارئِ دل
جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
دل کے ہاتھوں سے، کہ ہے دشمنِ جانی اپنا
ہوں اک آفت میں گرفتار، کہوں یا نہ کہوں
میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غمّاز
گوش ہیں در پسِ دیوار کہوں یا نہ کہوں
آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
حسبِ حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
مرزا اسد اللہ خان غالب

بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم

دیوان ششم غزل 1839
کڑھتے جو رہے ہجر میں بیمار ہوئے ہم
بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم
بہلانے کو دل باغ میں آئے تھے سو بلبل
چلانے لگی ایسے کہ بیزار ہوئے ہم
جلتے ہیں کھڑے دھوپ میں جب جاتے ہیں اودھر
عاشق نہ ہوئے اس کے گنہگار ہوئے ہم
اک عمر دعا کرتے رہے یار کو دن رات
دشنام کے اب اس کے سزاوار ہوئے ہم
ہم دام بہت وحشی طبیعت تھے اٹھے سب
تھی چوٹ جو دل پر سو گرفتار ہوئے ہم
چیتے ہوئے لوگوں کی بھلی یا بری گذری
افسوس بہت دیر خبردار ہوئے ہم
کیا کیا متمول گئے بک دیکھتے جس پر
بیعانگی میں اس کے خریدار ہوئے ہم
کچھ پاس نہیں یاری کا ان خوش پسروں کو
اس دشمن جانہا سے عبث یار ہوئے ہم
گھٹ گھٹ کے جہاں میں رہے جب میر سے مرتے
تب یاں کے کچھ اک واقف اسرار ہوئے ہم
میر تقی میر

کم دماغی ہے بہت مجھ کو کہ ہوں بیمار دل

دیوان ششم غزل 1834
چپ رہ اب نالوں سے اے بلبل نہ کر آزار دل
کم دماغی ہے بہت مجھ کو کہ ہوں بیمار دل
ابتداے خبط میں ہوتا تدارک کچھ تو تھا
اب کوئی سنبھلے ہے مجھ سے وحشت بسیار دل
یک توجہ میں رہے ہے سیر اس کی عرش پر
عقل میں آتے نہیں ہیں طرفہ طرفہ کار دل
باغ سے لے دشت تک رکھتے ہیں اک شور عجب
ہم اسیران قفس کے نالہ ہاے زار دل
اس سبک روحی پہ جوں باد سحر در در پھرے
زندگی اب یار بن اپنی ہوئی ہے بار دل
تنگی و وسعت سے اس کی اے عبارت ساز فہم
میر کچھ سمجھے گئے نہ معنی اسرار دل
میر تقی میر

کچھ چیز مال ہو تو خریدار ہو کوئی

دیوان چہارم غزل 1496
دنیا کی قدر کیا جو طلبگار ہو کوئی
کچھ چیز مال ہو تو خریدار ہو کوئی
کیا ابررحمت اب کے برستا ہے لطف سے
طاعت گزیں جو ہو سو گنہگار ہو کوئی
کیا ضعف تن میں ہے جگر و دل دماغ بن
پوچھے جو اس قشون میں سردار ہو کوئی
ہم عاشقان زرد و زبون و نزار سے
مت کر ادائیں ایسی کہ بیزار ہو کوئی
چپکے ہیں ہم تو حیرت حالات عشق سے
کریے بیاں جو واقف اسرار ہو کوئی
یکساں ہوئے ہیں خاک سے پامال ہو کے ہم
کیا اور اس کی راہ میں ہموار ہو کوئی
وہ رہ سکے ہے دل زدہ کچھ منتظر کھڑا
حیرت سے اس کے در پہ جو دیوار ہو کوئی
اک نسخۂ عجیب ہے لڑکا طبیب کا
کچھ غم نہیں ہے اس کو جو بیمار ہو کوئی
کیا اضطراب دل سے کہے میر سرعشق
یہ حال سمجھے وہ جو گرفتار ہو کوئی
میر تقی میر

جیتا رہا ہے کوئی بھی بیمار عشق کا

دیوان دوم غزل 673
بہتوں کو آگے تھا یہی آزار عشق کا
جیتا رہا ہے کوئی بھی بیمار عشق کا
بے پردگی بھی چاہ کا ہوتا ہے لازمہ
کھلتا ہی ہے ندان یہ اسرار عشق کا
زندانی سینکڑوں مرے آگے رہا ہوئے
چھوٹا نہ میں ہی تھا جو گنہگار عشق کا
خواہان مرگ میں ہی ہوا ہوں مگر نیا
جی بیچے ہی پھرے ہے خریدار عشق کا
منصور نے جو سر کو کٹایا تو کیا ہوا
ہر سر کہیں ہوا ہے سزاوار عشق کا
جاتا وہی سنا ہمہ حسرت جہان سے
ہوتا ہے جس کسو سے بہت پیار عشق کا
پھر بعد میرے آج تلک سر نہیں بکا
اک عمر سے کساد ہے بازار عشق کا
لگ جاوے دل کہیں تو اسے جی میں اپنے رکھ
رکھتا نہیں شگون کچھ اظہار عشق کا
چھوٹا جو مر کے قید عبارات میں پھنسا
القصہ کیا رہا ہو گرفتار عشق کا
مشکل ہے عمر کاٹنی تلوار کے تلے
سر میں خیال گوکہ رکھیں یار عشق کا
واں رستموں کے دعوے کو دیکھا ہے ہوتے قطع
پورا جہاں لگا ہے کوئی وار عشق کا
کھوئے رہا نہ جان کو ناآزمودہ کار
ہوتا نہ میر کاش طلبگار عشق کا
میر تقی میر

ولے کم ہیں بہت وے لوگ جن کو یار کہتے ہیں

دیوان اول غزل 344
تجھے بھی یار اپنا یوں تو ہم ہر بار کہتے ہیں
ولے کم ہیں بہت وے لوگ جن کو یار کہتے ہیں
جہاں کے مصطبے میں مست طافح ہی نظر آئے
نہ تھا اس دور میں آیا جسے ہشیار کہتے ہیں
سمجھ کر ذکر کر آسودگی کا مجھ سے اے ناصح
وہ میں ہی ہوں کہ جس کو عافیت بیزار کہتے ہیں
مسافر ہووے جی اس کا خراماں دیکھ کر تجھ کو
جسے میرے وطن میں کبک خوش رفتار کہتے ہیں
معاذ اللہ دخل کفر ہو اسلام میں کیوں ہی
غلط اور پوچ نامعقول بعضے یار کہتے ہیں
علم کو کب ہے وجہ تسمیہ لازم سمجھ دیکھو
سلیمانی میں کیا زنار ہے زنار کہتے ہیں
تری آنکھوں کو آئوں دیکھنے میں تو عجب مت کر
کہ بہتر ہے عیادت اور انھیں بیمار کہتے ہیں
عجب ہوتے ہیں شاعر بھی میں اس فرقے کا عاشق ہوں
کہ بے دھڑکے بھری مجلس میں یہ اسرار کہتے ہیں
مزے ان کے اڑا لیکن نہ یہ سمجھیں تو بہتر ہے
کہ خوباں بھی بہت اپنے تئیں عیار کہتے ہیں
سگ کو میر میں اس شیر حق کا ہوں کہ جس کو سب
نبیؐ کا خویش و بھائی حیدر کرار کہتے ہیں
میر تقی میر

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

دیوان اول غزل 255
ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک
سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک
رنگینی عشق اس کے ملے پر ہوئی معلوم
صحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک
کب سے متحمل ہے جفائوں کا دل زار
زنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک
ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھرائو کیے ہیں
مارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک
وعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہ
پر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک
مدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتے
واقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک
برسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیک
اک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک
کیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسے
پوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک
اس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہو
یوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک
خط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہمارا
جاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک
نکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میں
سو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک
دیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میں
ہیں میر جی آوارہ پری دار سے اب تک
میر تقی میر

جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر

دیوان اول غزل 214
مرتے ہیں تیری نرگس بیمار دیکھ کر
جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر
افسوس وے کہ منتظر اک عمر تک رہے
پھر مر گئے ترے تئیں یک بار دیکھ کر
ناخواندہ خط شوق لگے چاک کرنے تو
قاصد تو کہیو ٹک کہ جفا کار دیکھ کر
کوئی جو دم رہا ہے سو آنکھوں میں ہے پھر اب
کریو ٹک ایک وعدئہ دیدار دیکھ کر
دیکھیں جدھر وہ رشک پری پیش چشم ہے
حیران رہ گئے ہیں یہ اسرار دیکھ کر
جاتا ہے آسماں لیے کوچے سے یار کے
آتا ہے جی بھرا در و دیوار دیکھ کر
تیرے خرام ناز پہ جاتے ہیں جی چلے
رکھ ٹک قدم زمیں پہ ستمگار دیکھ کر
طالع نے چشم پوشی کی یاں تک کہ ہم نشیں
چھپتا ہے مجھ کو دور سے اب یار دیکھ کر
جی میں تھا اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر جب ملے تو رہ گئے ناچار دیکھ کر
میر تقی میر

دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 260
ہونٹوں بھری رکھ دی درِ انکارِ پہ دستک
دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک
اک شام پلٹ آئے ہیں یہ بات الگ ہے
دی پاؤں نے برسوں رہِ پُر خار پہ دستک
پھر رات کی رانی کا محل سامنے مہکے
پھر صبح کی چڑیوں بھری چہکار پہ دستک
کاندھے پہ کوئی بھیدوں بھری پوٹلی رکھ کر
دیتا ہے پھر امکان ابد زار پہ دستک
دم بھر کو نئی صبح کا اعلانیہ سن کر
دی اہلِ قفس نے گل و گلزار پہ دستک
بازار سے گزرا تو چہکتی ہوئی رت کی
تصویر نے دی جیبِ خریدار پہ دستک
کچھ ہاتھ کہیں اور سے آیا ہی نہیں ہے
دینا پڑی پھر عرشِ کرم بار پہ دستک
ممکن ہے ملاقات ہو آسیبِ بدن سے
اچھی طرح دے کمرئہ اسرار پہ دستک
ہے فرض یہی تجھ پہ یہی تیری عبادت
دے خاک نسب ! خانہء سیار پہ دستک
درویش فقیری ہی کہیں بھول نہ جائے
یہ کون ہے دیتا ہے جو پندار پہ دستک
وہ دیکھیے دینے لگا پھر اپنے بدن سے
اک تازہ گنہ، چشم گنہگار پہ دستک
اٹھ دیکھ کوئی درد نیا آیا ہوا ہے
وہ پھر ہوئی دروازئہ آزار پہ دستک
دشنام گلابوں کی طرح ہونٹوں پہ مہکیں
درشن کے لیے دے درِ دلدار پہ دستک
برسوں سے کھڑا شخص زمیں بوس ہوا ہے
یہ کیسی سمندر کی تھی کہسار پہ دستک
پانی مجھے مٹی کی خبر دینے لگے ہیں
اک سبز جزیرے کی ہے پتوار پہ دستک
افسوس ضروری ہے مرا بولنا دو لفظ
پھر وقت نے دی حجرۂ اظہار پہ دستک
مایوسی کے عالم میں محبت کا مسافر
در چھوڑ کے دینے لگا دیوار پہ دستک
دی جائے سلگتی ہوئی پُر شوق نظر سے
کچھ دیر تو اس کے لب و رخسار پہ دستک
اب اور گنی جاتی نہیں مجھ سے یہ قبریں
اب دینی ضروری ہے کسی غار پہ دستک
منصور بلایا ہے مجھے خواب میں اس نے
دی نیند نے پھر دیدۂ بیدار پہ دستک
منصور آفاق

دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 255
ساعتِ دیدۂ انکار کے سینے میں دراڑ
دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ
ایک ہی لفظ سے بھونچال نکل آیا ہے
پڑ گئی ہے کسی کہسار کے سینے میں دراڑ
کوئی شے ٹوٹ گئی ہے مرے اندر شاید
آ گئی ہے مرے پندار کے سینے میں دراڑ
چاٹتی جاتی ہے رستے کی طوالت کیا کیا
ایک بنتی ہوئی دلدار کے سینے میں دراڑ
تم ہی ڈالو گے مرے شاہ سوارو آخر
موت کی وادیِ اسرار کے سینے میں دراڑ
کھلکھلاتی ہوئی اک چشمِ سیہ نے ڈالی
آ مری صحبتِ آزار کے سینے میں دراڑ
رو پڑا خود ہی لپٹ کر شبِ غم میں مجھ سے
تھی کہانی ترے کردار کے سینے میں دراڑ
روندنے والے پہاڑوں کو پلٹ آئے ہیں
دیکھ کر قافلہ سالار کے سینے میں دراڑ
صبح کی پہلی کرن ! تجھ پہ تباہی آئے
ڈال دی طالعِ بیدار کے سینے میں دراڑ
کل شبِ ہجر میں طوفان کوئی آیا تھا
دیدۂ نم سے پڑی یار کے سینے میں دراڑ
غم کے ملبے سے نکلتی ہوئی پہلی کونپل
دیکھ باغیچہء مسمار کے سینے میں دراڑ
لفظ کی نوکِ سناں سے بھی کہاں ممکن ہے
وقت کے خانہء زنگار کے سینے میں دراڑ
بس قفس سے یہ پرندہ ہے نکلنے والا
نہ بڑھا اپنے گرفتار کے سینے میں دراڑ
شام تک ڈال ہی لیتے ہیں اندھیرے منصور
صبح کے جلوۂ زرتار کے سینے میں دراڑ
منصور آفاق

ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 191
برکتوں کا مطلع ء انوار نو شہ گنج بخشؒ
ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ
جا نشینِ غو ث اعظمؒ ، افتخا رِ اولیا
وا قف اسرار در اسرار نو شہ گنج بخشؒ
حاکم مِلک شر یعت ، مالک ، شہر سلوک
در سعادت نقطہ ء پرکار نو شہ گنج بخشؒ
آفتا بِ فیضِ عالم ہیں جہا ں پر غو ث پاکؒ
اُس فلک پر ثا بت و سیار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف مشر ق میں نہیں ان کی ولا یت کا ظہو ر
خا کِ مغر ب پہ بھی رحمت بار نو شہ گنج بخشؒ
بر ق نو شاہی ؒ سے لے کر حضرت معر و ف تک
نیکیوں سے اک بھرا گلزار نو شہ گنج بخشؒ
چو متے ہیں حا ملانِ جبہ ود ستا ر پا ئو ں
محتر م اتنا سگِ دربار نو شہ گنج بخشؒ
عالمِ لاہو ت کی صبح مقد س ان کی ذا ت
رو شنی کا نر م و حد ت زار نو شہ گنج بخشؒ
بخش دیں بینا ئی نا بینا ئو ں کو اک دید سے
ہم نہیں کہتے ہیں یہ ، اوتار نو شہ گنج بخشؒ
ہر قدم اس شخص کا پھر بخت آور ہو گیا
مہر با ں جس پہ ہو ئے اک بار نو شہ گنج بخشؒ
زہد و تقو یٰ ، فقر و فا قہ اور عمل کے با ب میں
اک مجسم نو ر کا اظہار نو شہ گنج بخشؒ
وہ مجد د ہیں ہز ا ر وں سا ل پر پھیلے ہو ئے
یو ں سمجھ لو حا صلِ ادوار نو شہ گنج بخشؒ
منز ل علم و فضلیت ، رو نق را ہِ سلو ک
کشفِ مصطفو ی ؐ کے پیر و کار نو شہ گنج بخشؒ
کہتے ہیں بے رو ح جسمو ں کو جگا تا تھا مسیح
مر دہ دل کر دیتے ہیں بیدار نو شہ گنج بخشؒ
ہا ں ! سر تسلیم خم کر تا ہے در یا ئے چنا ب
پانیوں کے جیسے ہیں مختار نو شہ گنج بخشؒ
غو ثِ اعظم ؒ کے شجر کا خو شہ ء فقر و سلو ک
قا دری گلز ا ر کے پندار نو شہ گنج بخشؒ
شمعِ عر فا ن الہی ، شب زدو ں کی رو شنی
سا عتِ پر نو ر سے سر شار نو شہ گنج بخشؒ
دا ستا نو ں میں مر یدِ با صفا ہیں آپ کے
صا حبا ں مر ز ا کے بھی کر دار نو شہ گنج بخشؒ
جن و انسا ں ہی نہیں ہیں آپ کے خدا م میں
آپ کے قد سی ہیں خد متگار نو شہ گنج بخشؒ
پا ئے نو شہ کے تلے بہتے ہیں در یا ئے بہشت
سا قی ء کو ثر ؐ کے ہیں میخوار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کا اسمِ گرا می وقت کے ہو نٹو ں پہ ہے
تذ کر ہ کر تا ہے سب سنسار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف یو ر پ ہی نہیں ہے آپ کے ہیں معتقد
ہند سند ھ اور کا بل و قندھار نو شہ گنج بخشؒ
حکمرا نو ں کی جبینیں ان کے در پہ خم ہو ئیں
مو تیو ں والے سخی سردار نو شہ گنج بخشؒ
مو ج بن جا ئے گی کشتی تیر ے میرے وا سطے
یو ں اتا ریں گے ہمیں اس پار نو شہ گنج بخشؒ
اس شجر پر مو سمو ں کی ضر ب پڑ تی ہی نہیں
کس تسلسل سے ہیں سایہ دار نو شہ گنج بخشؒ
انبسا ط و لطف کا پہلو جہا ں کے وا سطے
نسلِ انسا نی کے ہیں غم خوار نو شہ گنج بخشؒ
کیوں نہ ہو ں عر فا ن کے مو تی در و دیوار میں
قصرِ نو شا ہی کے ہیں معمار نو شہ گنج بخشؒ
سلسہ نو شا ہیہ کا ہر جر ی ہے اولیا ء
لشکرِ حق کے جو ہیں سا لار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کے در کے فقیر وں میں قطب اقطا ب ہیں
کون عظمت سے کر ے انکار نو شہ گنج بخشؒ
نو رو ں نہلا ئے ہو ئے چہر ے کی کر نیں اور ہم
کیا صبا حت خیز تھے رخسار نو شہ گنج بخشؒ
آپکے فیضِ نظر کی دا ستا ں اتنی ہے بس
سب مسلما ں ہو گئے کفار نو شہ گنج بخشؒ
اعتما دِ ذا ت کی کچھ غیر فا نی سا عتیں
آپ کے دم سے کر امت بار نو شہ گنج بخشؒ
بد عقید ہ زند گا نی کی سلگتی دھو پ میں
آپ ٹھہر ے سا یہء دیوار نو شہ گنج بخشؒ
ابن عر بی ؒ کے تصو ف کی کہا نی کیا کر وں
ہیں عد م کا اک عجب اظہار نو شہ گنج بخشؒ
مل گئی ان کی دعا سے کتنی دنیا کو شفا
امتِ بیما ر کے عطار نو شہ گنج بخشؒ
سن رہا ہوں آج تک عشقِ محمد ؐ کی اذا ں
مسجد نبوی کا اک مینار نو شہ گنج بخشؒ
فر ض ہے ہر شخص پر ذکر گرا می آپ کا
ایک اک نو شا ہی کا پر چار نو شہ گنج بخشؒ
تر دما غو ں میں یہ صبح فکر کی رعنا ئیاں
ٍٍٍآپ کے بس آپ کے افکار نو شہ گنج بخشؒ
معتر ف ہے ذہن انسا ں آپ کے عر فان کا
دل غلا می کا کر ے اقرار نو شہ گنج بخشؒ
خا کِ رنمل کو مسیحا ئی کی رفعت مل گئی
ہیں وہا ں جو دفن زند ہ دار نو شہ گنج بخشؒ
اک ذر اچشمِ عنا یت چا ہتا ہو ں آپ کی
آپ کا مجھ کو کر م در کار نو شہ گنج بخشؒ
کھو ل در واز ے جہا ں با نی کے میر ی ذا ت پر
میں بہت ہو ں مفلس و نا دار نو شہ گنج بخشؒ
چہر ہ ء انوا ر کی بس اک تجلی دے مجھے
خوا ب ہی میں بخش دے دیدار نو شہ گنج بخشؒ
حضرت معر و ف نو شا ہی کی فر ما ئش ہو ئی
پرُ سعا د ت یہ لکھے اشعار نو شہ گنج بخشؒ
منقبت منصو ر پڑ ھ پو رے ادب آداب سے
سن رہے ہیں شعر خو د سر کار نو شہ گنج بخشؒ
منصور آفاق

دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 5
کچھ زخم دھنک خیز ہیں کچھ زخم لہو بار
دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار
کیا مانگنے آ سکتے ہیں پھر تیری گلی میں
ہم آخرِ شب، آخری سگریٹ کے طلب گار
یہ فلسفہ ہے یا کہ خرابی ہے خرد کی
ہونے سے بھی انکار ، نہ ہونے سے بھی انکار
اک زاویہ در زاویہ جذبوں کی ریاضی
اک لمس بھری قوسِ قزح ، بسترِ بیدار
رکھ ہاتھ نہ زانو پہ اے دہکے ہوئے موسم
اس وقت زیادہ ہے بہت کار کی رفتار
نازک ہے بہت، داغ نہ پڑ جائیں بدن پر
اُس حسنِ گنہ خیز کو مسواک سے مت مار
آنکھوں سے لپکتے ہیں یہاں برف کے طوفاں
ہرچند کہ مصنوعی نہیں گرمیِ بازار
بنیاد میں رکھا گیا تھا جس کو مکاں کی
منصور ہوا پھر اسی بھونچال سے مسمار
وحدت کے ازل زار یہ کثرت کے ابد زار
ہم ہی سے دھنک رنگ ہیں ہم ہی سے کرم بار
ہم عالمِ لاہوت کی خوش بخت سحر ہیں
ہم حرکتِ افلاک ہیں ہم ثابت و سیار
ہم حسنِ نزاکت کی چہکتی ہوئی تاریخ
ہم قرطبہ اور تاج محل کے در و دیوار
ہم کاسہء مجذوب ہیں ہم دھجیاں دھج کی
ہم روند کے پاؤں سے نکل آئے ہیں دستار
ہم کُن کی صدا ہیں ہمی لولاک کا نغمہ
ہم وقت کے گنبد ہمی بازیچہء اسرار
ہم لوگ سراپا ہیں کرامت کوئی منصور
ہم قربِ خداوندی کے احساس کا اظہار
منصور آفاق