ٹیگ کے محفوظات: استوا

ملا تھا خود سے میں بادِ صبا پہ چلتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 509
کنارِ چشمۂ حمد و ثنا پہ چلتے ہوئے
ملا تھا خود سے میں بادِ صبا پہ چلتے ہوئے
عدالتِ لب و رخ کا ملا طلب نامہ
کہ لڑکھڑا گیا نقشِ وفا پہ چلتے ہوئے
کوئی ستارہ بھی تیری خبر نہیں دیتا
میں تھک گیا ہوں فصیلِ سما پہ چلتے ہوئے
تمام راستے مسدود تھے رسائی کے
کوئی پہنچ گیا دستِ دعا پہ چلتے ہوئے
مری نگاہ میں قطبین ہی سہی لیکن
گرائی برف خطِ استوا پہ چلتے ہوئے
گرا ہوا بھی چمکتا تھا جھیل میں منصور
میں ماہتاب تھا راہ فنا پہ چلتے ہوئے
منصور آفاق