ٹیگ کے محفوظات: استدلال

عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا اظہار نہیں ہے، صرف خیال میں زندہ ہوں
عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں
ٹھیک ہے میرا ہونا تیرے ہونے سے مشروط نہیں
لیکن اتنا یاد رہے میں ایک ملال میں زندہ ہوں
اپنا دل برباد کیا تو پھر یہ گھر آباد ہوا
پہلے میں اک عرش نشیں تھا اب پاتال میں زندہ ہوں
اک امکان کی بے چینی سے ایک محال کی وحشت تک
میں کس حال میں زندہ تھا اور میں کس حال میں زندہ ہوں
دنیا میری ذات کو چاہے رد کر دے، تسلیم کرے
میں تو یوں بھی تیرے غم کے استدلال میں زندہ ہوں
کتنی جلدی سمٹا ہوں میں وسعت کی اس ہیبت سے
کل تک عشق میں زندہ تھا میں آج وصال میں زندہ ہوں
ایک فنا کی گردش ہے یہ ایک بقا کا محور ہے
ایک دلیل نے مار دیا ہے ایک سوال میں زندہ ہوں
عرفان ستار