ٹیگ کے محفوظات: ازل

اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 77
چپ ہے آغاز میں، پھر شورِ اجل پڑتا ہے
اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے
ایک وحشت ہے کہ ہوتی ہے اچانک طاری
ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے
یاد کا پھول مہکتے ہی نواحِ شب میں
کوئی خوشبو سے ملاقات کو چل پڑتا ہے
حجرہِٗ ذات میں سنّاٹا ہی ایسا ہے کہ دل
دھیان میں گونجتی آہٹ پہ اچھل پڑتا ہے
روک لیتا ہے ابد وقت کے اُس پار کی راہ
دوسری سمت سے جاوٗں تو ازل پڑتا ہے
ساعتوں کی یہی تکرار ہے جاری پر دم
میری دنیا میں کوئی آج، نہ کل پڑتا ہے
تابِ یک لحظہ کہاں حسنِ جنوں خیز کے پیش
سانس لینے سے توجّہ میں خلل پڑتا ہے
مجھ میں پھیلی ہوئی تاریکی سے گھبرا کے کوئی
روشنی دیکھ کے مجھ میں سے نکل پڑتا ہے
جب بھی لگتا ہے سخن کی نہ کوئی لوَ ہے نہ رَو
دفعتاً حرف کوئی خوں میں مچل پڑتا ہے
غم چھپائے نہیں چھپتا ہے کروں کیا عرفان
نام لوں اُس کا تو آواز میں بل پڑتا ہے
عرفان ستار

اجل کو جانتا ہوں میں ، ازل سے ساتھ ساتھ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 625
دماغِ کائنات کے خلل سے ساتھ ساتھ ہے
اجل کو جانتا ہوں میں ، ازل سے ساتھ ساتھ ہے
فلک ہے مجھ پہ مہرباں کہ ماں کی ہے دعا مجھے
زمیں مرے ہرے بھرے عمل سے ساتھ ساتھ ہے
یہ کس نے وقت کو اسیر کر لیا ہے خواب میں
یہ آج کس طرح گذشتہ کل سے ساتھ ساتھ ہے
قدم قدم پہ کھینچتی ہے مجھ کو رات کی طرف
یہ روشنی جو شاہ کے محل سے ساتھ ساتھ ہے
جو گا رہی ہے کافیاں لہو میں شاہ حسین کی
وہ مادھو لال آگ گنگا جل سے ساتھ ساتھ ہے
کہے، کہاں نظامِ زر تغیرات کا امیں ؟
وہ جدلیات جو جدل جدل سے ساتھ ساتھ ہے
کچھ اس کے ہونے کا سبب بھی ہونا چاہیے کہیں
وہ جو نمودِ علت و علل سے ساتھ ساتھ ہے
جہاں پہ پہلے علم تھا کہ کیا عمل کروں گا میں
یہ حال اُس مقامِ ماحصل سے ساتھ ساتھ ہے
ابھی فلک کی زد میں ہے سری نگر کا راستہ
یہ برف پوش رُت تراڑ کھل سے ساتھ ساتھ ہے
منصور آفاق

پھر اس کے بعد زمانوں کو روند چل چل کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 580
تُو پہلے لوح پہ لکھا ہوا بدل چل کے
پھر اس کے بعد زمانوں کو روند چل چل کے
اکیلا دیکھ کے تالاب کے کنارے پر
تسلی دینے مجھے آ گیا کنول چل کے
مجھے دکھا نہ دہکتے ہوئے پہر کا جلال
جا اپنی شام کی عبرت سرا میں ڈھل چل کے
صداؤں سے وہ سفینہ پلٹ نہیں سکتا
اِسی جزیرہ وحشت میں ہاتھ مل چل کے
نکال دشتِ تعلق سے اپنی تنہائی
کسی حبیب کے گھر جا، ذرا سنبھل چل کے
وہ سنگ زاد پگھلتا نہیں مگر پھر بھی
اسے سنا کوئی جلتی ہوئی غزل چل کے
طلوعِ حسن کی ساعت پہ تبصرہ کیا ہو
نکل رہا ہے کوئی آسماں کے بل چل کے
مزاجِ خانہء درویش کو خراب نہ کر
چراغ! اپنے حریمِ حرم میں جل چل کے
فسادِ خلقِ خدا پہ امید صبحوں کی
بغاوتوں کی کرن ہیں تماشے ہلچل کے
رکی ہے چرخ کی چرخی کسی خرابی سے
نکال وقت کے پہیے سے اب خلل چل کے
مثالِ تیر لپکتے ہوئے تعاقب میں
ابد میں ہو گیا پیوست خود ازل چل کے
اب اس کے بعد کہانی ترے کرم کی ہے
خود آ گیا ہے یہاں تک تو بے عمل چل کے
ندی کی پیاس بجھا ریت کے سمندر سے
کسی پہاڑ کی چوٹی سے پھر ابل چل کے
سنا ہے کھڑکیاں کھلتی ہیں چاند راتوں میں
کسی کو دیکھ مرے دل، کہیں مچل چل کے
مجھے بھی آتے دنوں کا شعور حاصل ہو
پڑھوں کہیں پہ گذشتہ کا ماحصل چل کے
بس ایک فون کی گھنٹی، بس ایک ڈور کی بیل
کسی کی آگ میں پتھر بدن !پگھل چل کے
عجب ہے حسنِ تناسب کی داستاں منصور
بنا ہے ‘ تاج محل‘ موت کا محل چل کے
منصور آفاق