ٹیگ کے محفوظات: ازالہ

وہغم ملا کہ جس کا ازالہ نہ ہو سکا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دل کا حریف مے کا پیالہ نہ ہو سکا
وہ غم ملا کہ جس کا ازالہ نہ ہو سکا
موج صبا کے ساتھ چلی گلستاں کی بات
بدنام پھول توڑنے والا نہ ہو سکا
باقیؔ دلوں میں آ گئی سڑکوں کی تیرگی
بجلی کے قمقموں سے اجالا نہ ہو سکا
باقی صدیقی