ٹیگ کے محفوظات: ارم

آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 105
وہ فتنہ ساز دے کے گیا ہے یہ دم ابھی
آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی
ظالم وہ دیکھ پاس سے اٹھتے ہیں چارہ گر
تیرے مریضِ ہجر نے توڑا ہے دم ابھی
ان کے لیئے تو کھیل ہے دنیا کا انقلاب
چاہیں تو بتکدے کو بنا دیں حرم ابھی
کیا آپ سا کوئی نہیں ہے جہاں میں
اچھا حضور آئینہ لاتے ہیں ہم ابھی
کوچے سے ان کے اٹھتے ہی یوں بدحواس ہوں
آیا ہوں جیسے چھوڑ کے باغِ ارم ابھی
ذوق الم میں حق سے دعا مانگتا ہوں میں
جتنے بھی مجھ کو دینے ہیں دے دے الم ابھی
شکوے فضول گردشِ دوراں کے اے قمر
یہ آسماں نہ چھوڑے گا جورو ستم ابھی
قمر جلالوی

احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 25
کھولی ہیں تم نے آنکھیں اے حادثو ہماری
احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا
ہوتے ہی تم تو پیدل کچھ رو دئیے سوارو
ہے لاکھ لاکھ من کا ایک اک قدم تمہارا
رستے میں گر نہ ٹھہرے تو تم بھی جا ملو گے
گزرا ابھی ہے یاں سے خیل و حشم تمہارا
پھرتے ادھر ادھر ہو کس کی تلاش میں تم
گم ہے تمہیں میں یارو باغ ارم تمہارا
جادو رقم تو مانیں، ہم دل سے تم کو حالیؔ
کچھ کر کے بھی دکھائے زور قلم تمہارا
الطاف حسین حالی