ٹیگ کے محفوظات: ارمان

زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جتنے رستے ہیں آسان اُسی کے ہیں
زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں
اِک اِک سانس بندھا ہے اُس کی ڈوری میں
یہ پیکر یہ دل اور جان اُسی کے ہیں
وہ چاہے جو صورت اِن کو دے ڈالے
دل میں ہیں جتنے ارمان اُسی کے ہیں
پہنچا ہے جو تتلی تتلی پھُولوں تک
راحت کے سارے سامان اُسی کے ہیں
چھاپ ہے اُس کی ہر اُمید کے خوشے پر
ہر موسم کے دسترخوان اُسی کے ہیں
ہم جیسوں سے آنکھ ملائیں کب ماجدؔ
شہر میں ہیں جو جو ذی شان اُسی کے ہیں
ماجد صدیقی

جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
ہار کھانا مری پہچان کہاں
جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں
زیست مرہونِ نتائج ہے فقط
اِس کا اپنا کوئی عنوان کہاں
پہرہ دارانِ الم کے ہوتے
دل سے نکِلے کوئی ارمان کہاں
ہے معنون جو نہتّوں سے یہاں
ختم ہوتا ہے وُہ تاوان کہاں
چاند جوہڑ میں اُترتا کب ہے
ہم کہاں اور وہ ذی شان کہاں
ہے جو محبوس بدن میں ماجدؔ
چین پاتی ہے بھلا جان کہاں
ماجد صدیقی

احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 44
گر ہو سلوک کرنا انسان کر کے بھولے
احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے
نشتر سے کم نہیں ہے کچھ چھیڑ آرزو کی
عاشق مزاج کیوں کر ارمان کر کے بھولے
وعدہ کیا پھر اُس پر تم نے قسم بھی کھائی
کیا بھول ہے انساں پیمان کر کے بھولے
وعدے کی شب رہا ہے کیا انتظار مجھ کو
آنے کا وہ یہاں تک سامان کر کے بھولے
اپنے کئے پہ نازاں ہو آدمی نہ ہر گز
طاعت ہو یا اطاعت انسان کر کے بھولے
خود ہی مجھے بلایا پھر بات بھی نہ پوچھی
وہ انجمن میں اپنی مہمان کر کے بھولے
یہ بھول بھی ہماری ہے یادگار دیکھو
دل دے کے مفت اپنا نقصان کر کے بھولے
تم سے وفا جو کی ہے ہم سے خطا ہوئی ہے
ایسا قصور کیوں کر انسان کر کے بھولے
آخر تو آدمی تھے نسیان کیوں نہ ہوتا
میری شناخت شب کو دربان کر کے بھولے
اب یاد ہے اُسی کی فریاد ہے اُسی کی
سارے جہاں کو جس کا ہم دھیان کر کے بھولے
اب عشق کا صحیفہ یوں دل سے مٹ گیا ہے
جس طرح یاد کوئی قرآن کر کے بھولے
اے داغ اپنا احساں رکھے گا یاد قاتل
وہ اور میری مشکل آسان کر کے بھولے
داغ دہلوی

مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 34
حضرت دل آپ ہیں جس دھیان میں
مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں
گر فرشتہ وش ہوا کوئی تو کیا
آدمیت چاہئے انسان میں
جس نے دل کھویا اسی کو کچھ ملا
فائدہ دیکھا اسی نقصان میں
کسی نے ملنے کا کیا وعدہ کہ داغ
آج ہو تم اور ہی سامان میں
داغ دہلوی

ہو مختلط جو ان سے تو ایمان کیا رہے

دیوان ششم غزل 1886
کافر بتوں سے مل کے مسلمان کیا رہے
ہو مختلط جو ان سے تو ایمان کیا رہے
شمشیر اس کی حصہ برابر کرے ہے دو
ایسی لگی ہے ایک تو ارمان کیا رہے
ہے سر کے ساتھ مال و منال آدمی کا سب
جاتا رہے جو سر ہی تو سامان کیا رہے
ویرانی بدن سے مرا جی بھی ہے اداس
منزل خراب ہووے تو مہمان کیا رہے
اہل چمن میں میں نے نہ جانا کسو کے تیں
مدت میں ہو ملاپ تو پہچان کیا رہے
حال خراب جسم ہے جی جانے کی دلیل
جب تن میں حال کچھ نہ رہے جان کیا رہے
جب سے جہاں ہے تب سے خرابی یہی ہے میر
تم دیکھ کر زمانے کو حیران کیا رہے
میر تقی میر

گوش زد اک دن ہوویں کہیں تو بے لطفی سے زبان کرے

دیوان چہارم غزل 1492
لطف ہے کیا انواع ستم جو اس کے کوئی بیان کرے
گوش زد اک دن ہوویں کہیں تو بے لطفی سے زبان کرے
ہم تو چاہ کر اس پتھر کو سخت ندامت کھینچی ہے
چاہ کرے اب وہ کوئی جو چاہت کا ارمان کرے
سودے میں دل کے نفع جو چاہے خام طمع سودائی ہے
وارا سارا عشق میں کیسا جی کا بھی نقصان کرے
حشر کے ہنگامے میں چاہیں دادعشق تو حسن نہیں
کاشکے یاں وہ ظالم اپنے دل ہی میں دیوان کرے
آتش خو مغرور سے ویسے عہدہ برآ کیا عاشق ہو
دل کو جلاوے منت رکھے جی مارے احسان کرے
یمن عشق غم افزا سے کام نہایت مشکل ہے
اب بھی نہیں نومیدی دل کو شاید عشق آسان کرے
کہنے میں یہ بات آتی نہیں ہو سیر خدا کی قدرت کی
موند کر آنکھیں میر اگر تو دل کی طرف ٹک دھیان کرے
میر تقی میر

اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں

دیوان چہارم غزل 1462
عالم علم میں ایک تھے ہم وے حیف ہے ان کو گیان نہیں
اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں
کس امید پہ ساکن ہووے کوئی غریب شہر اس کا
لطف نہیں اکرام نہیں انعام نہیں احسان نہیں
ہائے لطافت جسم کی اس کے مر ہی گیا ہوں پوچھو مت
جب سے تن نازک وہ دیکھا تب سے مجھ میں جان نہیں
کیا باتوں سے تسلی ہو دل مشکل عشقی میری سب
یار سے کہنے کہتے ہیں پر کہنا کچھ آسان نہیں
شام و سحر ہم سرزدہ دامن سر بگریباں رہتے ہیں
ہم کو خیال ادھر ہی کاہے ان کو ادھر کا دھیان نہیں
جان کے میں تو آپ بنا ہوں ان لڑکوں میں دیوانہ
عقل سے بھی بہرہ ہے مجھ کو اتنا میں نادان نہیں
پائوں کو دامن محشر میں ناچاری سے ہم کھینچیں گے
لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں
چاہت میں اس مایۂ جاں کی مرنے کے شائستہ ہوئے
جا بھی چکی ہے دل کی ہوس اب جینے کا ارمان نہیں
شور نہیں یاں سنتا کوئی میر قفس کے اسیروں کا
گوش نہیں دیوار چمن کے گل کے شاید کان نہیں
میر تقی میر

آہ و فغاں کے طور سے میرے لوگ مجھے پہچان گئے

دیوان سوم غزل 1253
شور کیا جو اس کی گلی میں رات کو ہیں سب جان گئے
آہ و فغاں کے طور سے میرے لوگ مجھے پہچان گئے
عہد میں اس کی یاری کے خوں دل میں ہوئے ہیں کیا کیا چائو
خاک میں آخر ساتھ ہی میرے سب میرے ارمان گئے
موت جو آئے سر پر انساں دست و پا گم کرتا ہے
دیکھتے ہی شمشیر بکف کچھ آج اسے اوسان گئے
مہلت عمر دوروزہ کتنی کریے فضولی کاہے پر
آئے جو ہیں دنیا میں ہم تو جیسے کہیں مہمان گئے
ہاتھ لگا وہ گوہر مقصد جیسا ہے معلوم ہمیں
محو طلب ہو اہل طلب سب خاک بھی یاں کی چھان گئے
کہیے سلوک انھوں کے کیا کیا چھیڑ تجاہل کی ہے نئی
نکلے تھے اس رستے سو وے جان کے بھی انجان گئے
میر نظر کی دل کی طرف کی عرش کی جانب فکر بہت
تھی جو طلب مطلوب کی ہم کو کیدھر کیدھر دھیان گئے
میر تقی میر

جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ

دیوان سوم غزل 1244
ہے تمناے وصال اس کی مری جان کے ساتھ
جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ
کیا فقط توڑ کے چھاتی ہی گیا تیر اس کا
لے گیا صاف مرے دل کو بھی پیکان کے ساتھ
دین و دل ہی کے رہا میرے وہ کافر درپے
خصمی قاطبہ اس کو ہے مسلمان کے ساتھ
بحر پر نہر پہ برسے ہے برابر ہی ابر
پیش ہر اک سے کریم آتے ہیں احسان کے ساتھ
سطرزلف آئی ہے اس روے مخطط پہ نظر
یہ عبارت نئی لاحق ہوئی قرآن کے ساتھ
تیر اس کا جو گذر دل سے چلا جی بھی چلا
رسم تعظیم سے ہو لیتے ہیں مہمان کے ساتھ
میں تو لڑکا نہیں جو بالے بتائو مجھ کو
یہ فریبندگی کریے کسو نادان کے ساتھ
خون مسلم کو تو واجب یہ بتاں جانے ہیں
ہوجے کافر کہ اماں یاں نہیں ایمان کے ساتھ
آدمیت سے تمھیں میر ہو کیونکر بہرہ
تم نے صحبت نہیں رکھی کسو انسان کے ساتھ
میر تقی میر

آ بوالہوس گر ذوق ہے یہ گو ہے یہ میدان ہے

دیوان اول غزل 606
اپنا سر شوریدہ تو وقف خم چوگان ہے
آ بوالہوس گر ذوق ہے یہ گو ہے یہ میدان ہے
عالم مری تقلید سے خواہش تری کرنے لگا
میں تو پشیماں ہو چکا لوگوں کو اب ارمان ہے
ہر چند بیش از بیش ہے دعویٰ تو رونے کا تجھے
پر دیدئہ نمناک بھی اے ابرتر طوفان ہے
اس بے دمی میں بھی کبھو دل بھر اٹھے ہے دم ترا
آ ٹک شتابی بے وفا اب تک تو مجھ میں جان ہے
ہر لحظہ خنجر درمیاں ہر دم زباں زیر زباں
وہ طور وہ اسلوب ہے یہ عہد یہ پیمان ہے
اس آرزوے وصل نے مشکل کیا جینا مرا
ورنہ گذرنا جان سے اتنا نہیں آسان ہے
بس بے وقاری ہوچکی گلیوں میں خواری ہوچکی
اب پاس کر ٹک میر کا دو چار دن مہمان ہے
میر تقی میر

اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں

دیوان اول غزل 302
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے
جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے
دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سے
یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش
اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
جاگہ سے بھی جاتے ہو منھ سے بھی خشن ہوکر
وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے
برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
ان آئینہ رویوں کے کیا میر بھی عاشق ہیں
جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
میر تقی میر

اک اشکِ فراموش مرے دھیان میں آیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 88
لرزہ سا کبھی تن میں کبھی جان میں آیا
اک اشکِ فراموش مرے دھیان میں آیا
خوں ہو کہ یہ دل طاق ہوا عرضِ ہنر میں
یہ ساز سدا ٹوٹ کے ہی تان میں آیا
تھا خواب بھی اک کرمکِ شب تاب کی صورت
جو روز میرے تیرہ شبستان میں آیا
کچھ یوں بھی مجھے عمر کے گھٹنے کا قلق تھا
کچھ سخت خسارہ میرے ارمان میں آیا
اے ربِ سخن! میں کوئی ایسا تو نہیں تھا
کیا جانئے، کیسے تیری پہچان میں آیا
وہ دید بھی کیا دید تھی، پر کیسے بتاؤں
اک عمر ہوئی میں نہیں اوسان میں آیا
آفتاب اقبال شمیم

پیارے پاکستان! خدا حافظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 201
راکھ ہوئے ارمان، خدا حافظ
پیارے پاکستان! خدا حافظ
ایک بجا ہے رات کے چہرے پر
اچھا، میری جان! خدا حافظ
رختِ سفر میں باندھ نہیں سکتا
تتلی اور گلدان! خدا حافظ
جوشِ قدح سے آنکھیں بھر لی ہیں
اشکوں کے طوفان! خدا حافظ
رات کا خالی شہر بلاتا ہے
دہکے آتش دان! خدا حافظ
میں کیا جانوں میں کس اور گیا
اے دل اے انجان خدا حافظ
مان نہیں سکتا میں ہجر کی فال
حافظ کے دیوان خدا حافظ
تیرا قصبہ اب میں چھوڑ چلا
ساونت پوش مکان خدا حافظ
کالی رات سے میں مانوس ہوا
سورج کے امکان خدا حافظ
رات شرابی ہوتی جاتی ہے
اے میرے وجدان خدا حافظ
میں ہوں شہر سخن کا آوارہ
علم و قلم کی شان خدا حافظ
خود کو مان لیا پہچان لیا
اے چشمِ حیران خدا حافظ
دل منصور چراغِ طور ہوا
موسیٰ کے ارمان خدا حافظ
منصور آفاق

شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 189
مرحلے زیست کے آسان ہوئے
شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے
اس لگاؤ پہ ہے اک شخص سے لاگ
تھی نئی بات کہ حیران ہوئے
وہ نظر اٹھنے لگی دل کی طرف
حادثے اب مرے ارمان ہوئے
آپ کو ہم سے شکایت کیسی
ہم تو غافل ہوئے نادان ہوئے
دل وارفتہ کی باتیں باقیؔ
یاد کر کر کے پشیمان ہوئے
باقی صدیقی

اوہدا اک وسنیک سی، واہ واہ عالیشان سی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 15
باہروں سادمرادڑا، اندروں شوخ مکان سی
اوہدا اک وسنیک سی، واہ واہ عالیشان سی
ستی رہئی دے ہیٹھ سی، سَلَوٹ کسے خیال دی
جُثہ ہے سی اکڑیا، انگاں دے وچ بھان سی
کلھیاں وی جے ویکھدی، گل مُکدی تد لیکھ دی
کٹھیاں ملن ملان دا، سبھناں نوں ارمان سی
اِک تے اُنج وی سوہجھ سی، اپنے آل دوال دا
اِک کجھ ساڈے پیار توں، سبھناں دی پردھان سی
لُوں لُوں دے وچ وَسدیاں، بن گئی اِنج اَنجان اوہ
اُس کڑی دے نال جیئوں، راہ دی جان پچھان سی
ایس نتھانویں شوق نے، رکھیا وچ فریب دے
ریشم جنہوں جانیاں، اوہ منجیاں دا وان سی
ماجدُ بھولا بھالڑا، مہکاں فکراں والڑا
لکھاں وچ جیالڑا، اوہ ائی میری جان سی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)