ٹیگ کے محفوظات: ارقام

عشق کیا ناکام رہا آخر کو کام تمام کیا

دیوان پنجم غزل 1542
کیا پوچھو ہو کیا کہیے میاں دل نے بھی کیا کام کیا
عشق کیا ناکام رہا آخر کو کام تمام کیا
عجز کیا سو اس مفسد نے قدر ہماری یہ کچھ کی
تیوری چڑھائی غصہ کیا جب ہم نے جھک کے سلام کیا
کہنے کی بھی لکھنے کی بھی ہم تو قسم کھا بیٹھے تھے
آخر دل کی بیتابی سے خط بھیجا پیغام کیا
عشق کی تہمت جب نہ ہوئی تھی کاہے کو شہرت ایسی تھی
شہر میں اب رسوا ہیں یعنی بدنامی سے کام کیا
ریگستاں میں جاکے رہیں یا سنگستاں میں ہم جوگی
رات ہوئی جس جاگہ ہم کو ہم نے وہیں بسرام کیا
خط و کتابت لکھنا اس کو ترک کیا تھا اس ہی لیے
حرف و سخن سے ٹپکا لوہو اب جو کچھ ارقام کیا
تلخ اس کا تو شہد و شکر ہے ذوق میں ہم ناکاموں کے
لوگوں میں لیکن پوچ کہا یہ لطف بے ہنگام کیا
جیسے کوئی جہاں سے جاوے رخصت اس حسرت سے ہوئے
اس کوچے سے نکل کر ہم نے روبہ قفا ہر گام کیا
میر جو ان نے منھ کو ادھر کر ہم سے کوئی بات کہی
لطف کیا احسان کیا انعام کیا اکرام کیا
میر تقی میر

رسوا ہوکر مارے جاویں اس کو بھی بدنام کریں

دیوان چہارم غزل 1463
یوں ناکام رہیں گے کب تک جی میں ہے اک کام کریں
رسوا ہوکر مارے جاویں اس کو بھی بدنام کریں
جن کو خدا دیتا ہے سب کچھ وے ہی سب کچھ دیتے ہیں
ٹوپی لنگوٹی پاس اپنے ہم اس پر کیا انعام کریں
منھ کھولے تو روز ہے روشن زلف بکھیرے رات ہے پھر
ان طوروں سے عاشق کیوں کر صبح کو اپنی شام کریں
خط و کتابت حرف و حکایت صفحہ ورق میں آجاوے
دستے کے دستے کاغذ ہو جو دل کا حال ارقام کریں
شیخ پڑے محراب حرم میں پہروں دوگانہ پڑھتے رہو
سجدہ ایک اس تیغ تلے کا ان سے ہو تو سلام کریں
دل آسودہ ہو تو رہے ٹک در پر ہم سو بار گئے
وہ سو یہی کہہ بھیجے ہے باہر جاویں اب آرام کریں
میل گدائی طبع کو اپنی کچھ بھی نہیں ہے ورنہ میر
دو عالم کو مانگ کے لاویں ہم جو تنک ابرام کریں
میر تقی میر

جہاں ٹک آن بیٹھے ہم کہا آرام کریے اب

دیوان دوم غزل 776
عجب صحبت ہے کیونکر صبح اپنی شام کریے اب
جہاں ٹک آن بیٹھے ہم کہا آرام کریے اب
ہزاروں خواہش مردہ نے سر دل سے نکالا ہے
قیامت جی پہ ہے دیدار کو ٹک عام کریے اب
بلا آشوب تھا گو جان پر آغاز الفت میں
ہوا سو تو ہوا اندیشۂ انجام کریے اب
بہت کی یاصنم گوئی ہوئے مشہور کافر ہم
وظیفہ کوئی دن اپنا خدا کا نام کریے اب
زباں خامہ کے ہلتے ہی ہزاروں اشک گرتے ہیں
حقیقت اپنے دل کی آہ کیا ارقام کریے اب
کہاں تک کام ناکام اس جفا جو کے لیے مریے
اگر تلوار ہاتھ آوے تو اپنا کام کریے اب
فسانہ شاخ در شاخ اس نہال حسن کے غم کا
کہاں اے میر بے برگ و نوا اتمام کریے اب
میر تقی میر