ٹیگ کے محفوظات: ارادے

کہ قفس میں تنگ آ کر مرے اور ہیں ارادے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 4
مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے
کہ قفس میں تنگ آ کر مرے اور ہیں ارادے
مرے بعد گر کے بجلی نہ قفس میں دل دکھا دے
مجھے قید کرنے والے مرا آشیاں جلا دے
میرا منہ کفن سے کھولا مجھے دیکھ کر وہ بولے
یہ نیا لباس کیوں ہے یہ کہاں ے ہیں ارادے
میں قفس میں مطمئن ہوں کہ سمجھ لیا ہے میں نے
یہ چمن نہیں کہ بجلی مرا آشیاں جلا دے
مجھے پھول سے زیادہ ہے قفس میں یادِ شبنم
جو چمن میں چار آنسو مِرے نام پر بہا دے
نہیں ہم ہی جب چمن میں تو چمن سے پھر غرض کیا
کوئی پھول توڑ ڈالے کوئی آشیاں جلا دے
مری زندگی ہی کیا ہے میں چراغِ رہگزر ہوں
جسے اک ہوا کا جھونکا ابھی آئے ابھی بجھا دے
وہ ہر اک سے پوچھتے ہیں کہ فدا ہے کیوں زمانہ
انہیں حسن کی خبر کیا کوئی آئینہ دکھا دے
تجھے خود خبر ہے ظالم کہ جہانِ رنگ و بو میں
ترے حسن کے ہیں چرچے مرے عِشق کو دعا دے
شبِ ہجر بات جب ہے کہ قمر کو وہ نالے
کوئی توڑ دے ستارے کوئی آسماں ہلا دے
قمر جلالوی